🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب : التيمم لمن يجد الماء بعد الصلاة
باب: تیمم سے نماز پڑھنے کے بعد اگر پانی مل جائے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 433
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، قال: حَدَّثَنِي ابْنُ نَافِعٍ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،" أَنَّ رَجُلَيْنِ تَيَمَّمَا وَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا مَاءً فِي الْوَقْتِ فَتَوَضَّأَ أَحَدُهُمَا وَعَادَ لِصَلَاتِهِ مَا كَانَ فِي الْوَقْتِ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، فَسَأَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ، وَقَالَ لِلْآخَرِ: أَمَّا أَنْتَ فَلَكَ مِثْلُ سَهْمِ جَمْعٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، پھر انہیں وقت کے اندر ہی پانی مل گیا، تو ان میں سے ایک شخص نے وضو کر کے وقت کے اندر نماز دوبارہ پڑھ لی، اور دوسرے نے نماز نہیں دہرائی، ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے اس شخص سے جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی فرمایا: تم نے سنت کے موافق عمل کیا، اور تمہاری نماز تمہیں کفایت کر گئی، اور دوسرے سے فرمایا: رہے تم تو تمہارے لیے دوہرا اجر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 433]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ دو آدمیوں نے تیمم سے نماز پڑھی مگر ابھی نماز کا وقت باقی تھا کہ پانی مل گیا۔ ان میں سے ایک نے وضو کیا اور وقت کے اندر ہی دوبارہ نماز پڑھ لی، دوسرے نے دوبارہ نہ پڑھی۔ پھر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جس نے نماز نہیں دہرائی تھی، فرمایا: تو نے سنت کے مطابق کیا ہے، تیری پہلی نماز ہی تیرے لیے کافی ہے۔ اور دوسرے آدمی سے فرمایا: تجھے دہرا ثواب ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 128 (338، 339)مرسلاً، سنن الدارمی/الطھارة 65 (771)، (تحفة الأشراف 4176) (صحیح) (اس کا مرسل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، کیوں کہ ابن نافع کے حفظ میں تھوڑی سی کمی ہے، اور دیگر ثقات نے اس کو مرسل ہی روایت کیا ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥بكر بن سوادة الجذامي، أبو ثمامة
Newبكر بن سوادة الجذامي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← بكر بن سوادة الجذامي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عبد الله بن نافع المخزومي، أبو محمد
Newعبد الله بن نافع المخزومي ← الليث بن سعد الفهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥مسلم بن عمرو الحذاء، أبو عمرو
Newمسلم بن عمرو الحذاء ← عبد الله بن نافع المخزومي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
433
أصبت السنة وأجزأتك صلاتك وقال للآخر أما أنت فلك مثل سهم جمع
سنن أبي داود
338
أصبت السنة وأجزأتك صلاتك وقال للذي توضأ وأعاد لك الأجر مرتين
بلوغ المرام
113
‏‏‏‏اصبت السنة واجزاتك صلاتك ‏‏‏‏ وقال للآخر: ‏‏‏‏لك الاجر مرتين
سنن نسائی کی حدیث نمبر 433 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 433
433۔ اردو حاشیہ:
➊ اصل قاعدہ یہی ہے کہ تیمم پانی نہ ملنے کی صورت میں وضو کی طرح ہے، لہٰذا نماز دہرانے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اس شخص کا اجتہاد صحیح تھا تبھی اسے سنت فرمایا اور دوسرے شخص کا اجتہاد اگرچہ صحیح نہیں مگر چونکہ نیت نیک ہے، مشقت بھی زیادہ اٹھائی ہے اور عمل صالح بھی دو مرتبہ کیا ہے، لہٰذا وہ ثواب کا حق دار بنا۔ لیکن اب دہرانے کی اجازت نہیں کیونکہ مسئلہ واضح ہو چکا ہے اور سنت متعین ہو چکی ہے۔ اب اجتہاد کی ضرورت ہے نہ اجازت۔ اور ایک فرض نماز دو دفعہ فرض کی نیت سے پڑھنا ممنوع ہے۔
«سَهْمِ جَمْعٍ» کے معنی ہیں: دہرا ثواب، یعنی پہلی نماز کا بھی اور دوسری کا بھی۔ بعض حضرات نے اس کے معنی لشکر کا حصہ، یعنی غنیمت کیے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 433]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 113
تیمّم سے نماز ادا کی اور بعد میں دوران وقت ہی میں پانی ملنا
«. . . وعن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: خرج رجلان في سفر فحضرت الصلاة وليس معهما ماء فتيمما صعيدا طيبا فصليا ثم وجدا الماء في الوقت . . .»
. . . سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی سفر پر نکلے۔ نماز کا وقت آ گیا، مگر ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی۔ پھر پانی بھی دستیاب ہو گیا اور ابھی نماز ادا کرنے کا وقت باقی تھا۔ ان میں سے ایک صاحب نے وضو کیا اور دوبارہ نماز ادا کی، مگر دوسرے صاحب نے نہ تو وضو کیا اور نہ ہی نماز دہرائی . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 113]

لغوی تشریح:
«أَصَبْتَ السُّنَّةَ» تو نے شرعی طریقہ پا لیا۔
«أَجْزَأَتْكَ» یعنی تجھے کافی ہو گئی۔
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر تیمّم کر کے نماز ادا کر لی گئی ہو اور بعد میں دوران وقت ہی میں پانی مل گیا ہو تو ایسی صورت میں نماز دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ فقہائے اربعہ کا یہی مذہب ہے۔
➋ جس آدمی نے نماز دوبارہ پڑھی تھی اسے دوگنا اجر ملنے کی توجیہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک اجر تو اسے نماز پڑھنے کا ملا اور دوسرا اجتہاد کرنے کا۔
➌ اجتہاد اگرچہ درست نہیں تھا تاہم محنت و کوشش پر بھی ایک اجر ملتا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 113]

حافظ نديم ظهير حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 338
تمیم کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کفایت کر جاتی ہے، دہرانے کی ضرورت نہیں
«. . . عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلَانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا فَصَلَّيَا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ وَالْوُضُوءَ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ، وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ: لَكَ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ . . .»
. . . ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخص ایک سفر میں نکلے تو نماز کا وقت آ گیا اور ان کے پاس پانی نہیں تھا، چنانچہ انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی، پھر وقت کے اندر ہی انہیں پانی مل گیا تو ان میں سے ایک نے نماز اور وضو دونوں کو دوہرایا، اور دوسرے نے نہیں دوہرایا، پھر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان دونوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی: تم نے سنت کو پا لیا اور تمہاری نماز تمہیں کافی ہو گئی، اور جس شخص نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی تھی اس سے فرمایا: تمہارے لیے دوگنا ثواب ہے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 338]
فقہ الحدیث:
➊ پانی میسر نہ ہونے کی صورت میں تمیم کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کفایت کر جاتی ہے، دہرانے کی ضرورت نہیں، اگرچہ نماز کے وقت ہی میں پانی مل جائے، جیسا کہ حدیث سے واضح ہو رہا ہے۔
➋ جس شخص نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی، اس کی اِس دہری مشقت کی وجہ سے اسے دہرے اجر کی نوید سنائی گئی ہے۔
➌ واضح نص نہ ہونے کی بنا پر اجتہاد کیا جا سکتا ہے، لیکن نصوص کتاب و سنت کی موجودگی میں کوئی اجتہاد نہیں، اسی طرح دلائل واضح ہونے کے بعد وہ اجتہاد کالعدم قرار پائے گا، لہٰذا اب اس سلسلے میں صحابی کے اجتہاد کی بجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل ہو گا۔
[ماہنامہ الحدیث حضرو ، شمارہ 133، حدیث/صفحہ نمبر: 8]

Sunan an-Nasa'i Hadith 433 in Urdu