یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب : النهى عن الأكل من لحوم الأضاحي بعد ثلاث وعن إمساكه
باب: تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانا اور اسے رکھ چھوڑنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 4428
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4428]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تین دن سے زائد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1970)، (تحفة الأشراف: 6946)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأضاحی 16 (5574)، سنن الترمذی/الأضاحی 13 (1509)، مسند احمد (2/9، 16، 34، 81، 135) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ پابندی شروع شروع میں تھی، پھر گوشت رکھنے کی اجازت دے دی گئی، جیسا کہ اگلے باب میں ہے، یہ حالات و ظروف کے لحاظ سے ہے، اگر لوگوں کو گوشت کی زیادہ حاجت ہے تو ذخیرہ اندوزی صحیح نہیں، بصورت دیگر صحیح ہے۔ (دیکھئیے حدیث نمبر ۴۴۳۴)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5102
| تؤكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث |
صحيح مسلم |
5100
| لا يأكل أحد من لحم أضحيته فوق ثلاثة أيام |
جامع الترمذي |
1509
| لا يأكل أحدكم من لحم أضحيته فوق ثلاثة أيام |
سنن النسائى الصغرى |
4428
| نهى أن تؤكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4428 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4428
اردو حاشہ:
(1) فقر و فاقہ کے مارے ہوئے لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے وقتی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے سے منع فرما دیا تھا، بعد ازاں جب حالات بہتر ہوگئے تو آپ علیہ السلام نے یہ پابندی ختم کر دی۔ آگے آنے والی احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ مذکورہ پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ شارح علیہ السلام نے انسان کی مصلحت کا خوب خوب لحاظ رکھا ہے، لہٰذا اب بھی اگر حالات کی تنگی کی وجہ سے ایسی مشکلات کا سامنا ہو تو مذکورہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔
(2) اگلے باب میں امام نسائی رحمہ اللہ جو احادیث لائے ہیں ان میں تین دن سے زیادہ قربانیوں کے گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت ہے، اس لیے اب تین دن سے زائد گوشت کھایا بھی جا سکتا ہے، اور ذخیرہ بھی کیا جا سکتا ہے، البتہ فقراء کو دینا لازم ہے۔
(1) فقر و فاقہ کے مارے ہوئے لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے وقتی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے سے منع فرما دیا تھا، بعد ازاں جب حالات بہتر ہوگئے تو آپ علیہ السلام نے یہ پابندی ختم کر دی۔ آگے آنے والی احادیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ مذکورہ پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ شارح علیہ السلام نے انسان کی مصلحت کا خوب خوب لحاظ رکھا ہے، لہٰذا اب بھی اگر حالات کی تنگی کی وجہ سے ایسی مشکلات کا سامنا ہو تو مذکورہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔
(2) اگلے باب میں امام نسائی رحمہ اللہ جو احادیث لائے ہیں ان میں تین دن سے زیادہ قربانیوں کے گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت ہے، اس لیے اب تین دن سے زائد گوشت کھایا بھی جا سکتا ہے، اور ذخیرہ بھی کیا جا سکتا ہے، البتہ فقراء کو دینا لازم ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4428]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1509
تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا مکروہ ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھائے“ ۱؎۔ اس باب میں عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1509]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھائے“ ۱؎۔ اس باب میں عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1509]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ فرمان خاص وقت کے لیے تھا جو اگلی حدیث سے منسوخ ہوگیا۔
وضاحت:
1؎:
یہ فرمان خاص وقت کے لیے تھا جو اگلی حدیث سے منسوخ ہوگیا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1509]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5100
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایک بھی اپنی قربانی کے گوشت تین دن سے زائد نہ کھائے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5100]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ تین دن قربانی کے بعد ہیں،
جیسا کہ فوق ثلاث ليال سے ثابت ہے،
اس لیے اس حدیث سے استدلال یہ کرنا کہ تیرہ (13)
کو قربانی کرنا صحیح نہیں ہے،
درست نہیں ہے۔
فوائد ومسائل:
یہ تین دن قربانی کے بعد ہیں،
جیسا کہ فوق ثلاث ليال سے ثابت ہے،
اس لیے اس حدیث سے استدلال یہ کرنا کہ تیرہ (13)
کو قربانی کرنا صحیح نہیں ہے،
درست نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5100]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4428 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي