🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : ذكر اختلاف ألفاظ الناقلين لخبر سهل فيه
باب: اس سلسلے میں سہل کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4724
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ ابْنَ مُحَيِّصَةَ الْأَصْغَرَ أَصْبَحَ قَتِيلًا عَلَى أَبْوَابِ خَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِمْ شَاهِدَيْنِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ أَدْفَعْهُ إِلَيْكُمْ بِرُمَّتِهِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمِنْ أَيْنَ أُصِيبُ شَاهِدَيْنِ وَإِنَّمَا أَصْبَحَ قَتِيلًا عَلَى أَبْوَابِهِمْ؟ قَالَ:" فَتَحْلِفُ خَمْسِينَ قَسَامَةً؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ أَحْلِفُ عَلَى مَا لَا أَعْلَمُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَنَسْتَحْلِفُ مِنْهُمْ خَمْسِينَ قَسَامَةً"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَسْتَحْلِفُهُمْ وَهُمْ الْيَهُودُ؟ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَتَهُ عَلَيْهِمْ , وَأَعَانَهُمْ بِنِصْفِهَا.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ محیصہ کے چھوٹے بیٹے کا خیبر کے دروازوں کے پاس قتل ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو گواہ لاؤ کہ کس نے قتل کیا ہے، میں اسے اس کی رسی سمیت تمہارے حوالے کروں گا، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہمیں گواہ کہاں سے ملیں گے؟ وہ تو انہیں کے دروازے پر قتل ہوا ہے، آپ نے فرمایا: تو پھر تمہیں پچاس قسمیں کھانی ہوں گی، وہ بولے: اللہ کے رسول! جسے میں نہیں جانتا اس پر قسم کیوں کر کھاؤں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم ان سے پچاس قسمیں لے لو، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہم ان سے قسمیں کیسے لے سکتے ہیں وہ تو یہودی ہیں، تو آپ نے اس کی دیت یہودیوں پر تقسیم کی اور آدھی دیت دے کر ان کی مدد کی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4724]
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ محیصہ کا چھوٹا بیٹا خیبر کے دروازوں پر مقتول پایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے قاتل کے دو عینی گواہ لاؤ، میں اسے اس کی رسی سمیت (گرفتار کر کے) تیرے سپرد کر دوں گا۔ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں دو گواہ کہاں سے لاؤں؟ وہ تو ان یہودیوں کے دروازوں کے سامنے مارا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: اچھا تو قسامت کی پچاس (قسمیں) کھا لے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس بات پر کس طرح قسمیں کھاؤں جو میں جانتا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم ان سے قسامت کی پچاس قسمیں لے لو۔ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ہم ان سے کیسے قسمیں لیں، وہ تو یہودی ہیں (جھوٹے مشہور ہیں)؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت یہودیوں پر تقسیم کر دی اور نصف دیت میں آپ نے ان سے تعاون فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4724]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8759) (شاذ)»
وضاحت: ۱؎: امام نسائی نے اس روایت پر نقد یہ کہہ کر کیا کہ عمرو بن شعیب نے ان رواة کی مخالفت کی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اوپر گزری روایتوں سے اس روایت میں تین جگہ مخالفت ہے: اس میں مقتول کا نام عبداللہ بن سہل کے بجائے ابن محیصہ ہے، اور مدعی سے قسم سے پہلے گواہ پیش کرنے کی بات ہے،، نیز اس میں یہ ہے کہ آدھی دیت یہودیوں پر مقرر کی، دوسری شق کی تائید کہیں نہ کہیں سے ہو جاتی ہے لیکن بقیہ دو باتیں بالکل شاذ ہیں۔ اس حدیث کے راوی عبید اللہ بن اخنس، بقول ابن حبان: روایت میں بہت غلطیاں کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن الأخنس النخعي، أبو مالك
Newعبيد الله بن الأخنس النخعي ← عمرو بن شعيب القرشي
ثقة
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← عبيد الله بن الأخنس النخعي
ثقة
👤←👥محمد بن معمر القيسي، أبو عبد الله
Newمحمد بن معمر القيسي ← روح بن عبادة القيسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2678
تقسمون وتستحقون فقالوا يا رسول الله كيف نقسم ولم نشهد قال فتبرئكم يهود قالوا يا رسول الله إذا تقتلنا قال فوداه رسول الله من عنده
سنن النسائى الصغرى
4724
تحلف خمسين قسامة قال يا رسول الله وكيف أحلف على ما لا أعلم فقال رسول الله فنستحلف منهم خمسين قسامة فقال يا رسول الله كيف نستحلفهم وهم اليهود فقسم رسول الله ديته عليهم وأعانهم بنصفها
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4724 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4724
اردو حاشہ:
محقق کتاب نے اس روایت کی سند کو حسن قرار دیا ہے لیکن راجح بات یہ ہے کہ یہ روایت شاذ (ضعیف کی ایک قسم) ہے۔ مزید سابقہ حدیث کی وضاحت ملاحظہ فرمائیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4724]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4724 in Urdu