یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : الخضاب بالصفرة
باب: پیلا (زرد) خضاب لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5091
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ:" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِصَالٍ: الصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ، وَجَرَّ الْإِزَارِ، وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ، وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ، وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحَلِّهَا , وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَتَعْلِيقَ التَّمَائِمِ، وَعَزْلَ الْمَاءِ بِغَيْرِ مَحَلِّهِ، وَإِفْسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دس عادتیں ناپسند تھیں: پیلا رنگ لگانا یعنی خلوق، بڑھاپے کا رنگ بدلنا ۱؎، تہبند (لنگی) ٹخنے سے نیچے لٹکانا، سونے کی انگوٹھی پہننا، چوسر شطرنج کھیلنا، بے موقع و محل عورتوں کا اجنبیوں کے سامنے بن ٹھن کر نکلنا، معوذات کے علاوہ دوسرے منتر پڑھنا، تعویذ لٹکانا، ناجائز جگہ میں منی بہانا، بچے کو صحت مند نہ ہونے دینا، ۲؎ البتہ آپ اسے حرام نہیں کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5091]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس کاموں کو ناپسند فرماتے تھے: ”(مردوں کا) خلوق لگانا، سفید بالوں کو سیاہ کرنا، تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا، (مردوں کے لیے) سونے کی انگوٹھی پہننا، شطرنج کھیلنا، نامناسب مقام پر عورت کا اظہارِ زینت کرنا، معوذات وغیرہ کے علاوہ دم کرنا، تمیمے لٹکانا، منی غلط مقام پر ضائع کرنا اور چھوٹے بچے میں خرابی ڈالنا۔“ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس (آخری کام) کو حرام نہیں فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخاتم 3 (4222)، (تحفة الأشراف: 9355)، مسند احمد (3/380، 397، 439) (منکر) (اس کے راوی ’’قاسم‘‘ اور ”عبدالرحمن‘‘ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: ”بڑھاپے کا رنگ بدلنا“ یعنی انہیں اکھیڑنا یا ان میں کالا خضاب لگانا۔ ”بچے کو صحت مند نہ ہونے دینا“ یعنی ایام رضاعت میں بچے کی ماں سے صحبت کرنا۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4222) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4222
| يكره عشر خلال الصفرة تغيير الشيب جر الإزار التختم بالذهب التبرج بالزينة لغير محلها الضرب بالكعاب الرقى إلا بالمعوذات عقد التمائم عزل الماء لغير محله وفساد الصبي غير محرمه |
سنن النسائى الصغرى |
5091
| يكره عشر خصال الصفرة وتغيير الشيب وجر الإزار التختم بالذهب الضرب بالكعاب التبرج بالزينة لغير محلها الرقى إلا بالمعوذات وتعليق التمائم عزل الماء بغير محله إفساد الصبي غير محرمه |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5091 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5091
اردو حاشہ:
محقق کتاب کا روایت کی سند کو حسن قرار دینا محل نظر ہے کیونکہ عبدالرحمن بن حرملہ راجح قول کے مطابق ضعیف راوی ہے، اس لیے یہ روایت منکر اور ضعیف ہے، تاہم دیگر دلائل کی رو سے مذکورہ دس کاموں میں سے بعض قطعاً حرام ہیں اور بعض مکروہ۔ تفصیل کےلیےدیکھئے: (تمام المنة،ص:75، والموسوعة الحدیثیة، مسند أحمد:6؍92)
محقق کتاب کا روایت کی سند کو حسن قرار دینا محل نظر ہے کیونکہ عبدالرحمن بن حرملہ راجح قول کے مطابق ضعیف راوی ہے، اس لیے یہ روایت منکر اور ضعیف ہے، تاہم دیگر دلائل کی رو سے مذکورہ دس کاموں میں سے بعض قطعاً حرام ہیں اور بعض مکروہ۔ تفصیل کےلیےدیکھئے: (تمام المنة،ص:75، والموسوعة الحدیثیة، مسند أحمد:6؍92)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5091]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4222
مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی کا پہننا ناجائز ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس خصلتیں ناپسند فرماتے تھے، زردی یعنی خلوق کو، سفید بالوں کے تبدیل کرنے کو ۱؎، تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کو، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، بے موقع و محل اجنبیوں کے سامنے عورتوں کے زیب و زینت کے ساتھ اور بن ٹھن کر نکلنے کو، شطرنج کھیلنے کو، معوذات کے علاوہ سے جھاڑ پھونک کرنے کو، تعویذ اور گنڈے لٹکانے کو اور ناجائز جگہ منی ڈالنے کو، اور بچے کے فساد کو یعنی اسے کمزور کرنے کو اس طرح پر کہ ایام رضاعت میں اس کی ماں سے صحبت کرے البتہ اسے حرام نہیں ٹھہراتے تھے۔ ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4222]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس خصلتیں ناپسند فرماتے تھے، زردی یعنی خلوق کو، سفید بالوں کے تبدیل کرنے کو ۱؎، تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کو، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، بے موقع و محل اجنبیوں کے سامنے عورتوں کے زیب و زینت کے ساتھ اور بن ٹھن کر نکلنے کو، شطرنج کھیلنے کو، معوذات کے علاوہ سے جھاڑ پھونک کرنے کو، تعویذ اور گنڈے لٹکانے کو اور ناجائز جگہ منی ڈالنے کو، اور بچے کے فساد کو یعنی اسے کمزور کرنے کو اس طرح پر کہ ایام رضاعت میں اس کی ماں سے صحبت کرے البتہ اسے حرام نہیں ٹھہراتے تھے۔ ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4222]
فوائد ومسائل:
مذکورہ باتوں سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہیئے۔
مذکورہ باتوں سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہیئے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4222]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5091 in Urdu
عبد الرحمن بن حرملة الكوفي ← عبد الله بن مسعود