یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب : الخضاب للنساء
باب: عورتوں کے خضاب لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5092
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مَدَّتْ يَدَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ، فَقَبَضَ يَدَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَدَدْتُ يَدِي إِلَيْكَ بِكِتَابٍ، فَلَمْ تَأْخُذْهُ، فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أَدْرِ أَيَدُ امْرَأَةٍ هِيَ، أَوْ رَجُلٍ؟" قَالَتْ: بَلْ يَدُ امْرَأَةٍ، قَالَ:" لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط دینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، وہ بولی: اللہ کے رسول! میں نے ایک خط دینے کے لیے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آپ نے اسے نہیں لیا۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ عورت کا ہاتھ ہے یا مرد کا“، میں نے عرض کیا: عورت کا ہاتھ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تم عورت ہوتی تو اپنے ناخنوں کو مہندی سے رنگا ہوتا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5092]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے ہاتھ میں ایک تحریر پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے ہاتھ میں ایک تحریر پکڑ کر آپ کی طرف بڑھائی تھی لیکن آپ نے نہیں پکڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ عورت کا ہاتھ ہے یا مرد کا؟“ میں نے کہا: یہ عورت کا ہاتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو عورت ہوتی تو اپنے ناخن مہندی کے ساتھ رنگ لیتی۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 4 (4164)، (تحفة الأشراف: 17868)، مسند احمد (6/262) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے اس بات کی تاکید معلوم ہوتی ہے کہ عورتوں کو اپنی نسوانیت کی علامت اختیار کئے رہنا چاہیئے اور مردوں سے مشابہت کی کوئی بات اختیار نہیں کرنی چاہیئے اس کی حکمت دراصل اللہ کی تخلیق کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کی بات ہے، اللہ کی خلقت کو بدلنا حرام عمل ہے، اس کی خواہ کوئی صورت ہو، نسوانیت کی علامت کے سلسلے میں بھی خاص خاص مرد اور عورت کے امتیازی علامات کے علاوہ چیزوں میں علاقہ و سماج کے عزت و رواج کا لحاظ کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4166) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4166
| لو كنت امرأة لغيرت أظفارك يعني بالحناء |
سنن النسائى الصغرى |
5092
| لو كنت امرأة لغيرت أظفارك بالحناء |
Sunan an-Nasa'i Hadith 5092 in Urdu
صفية بنت عصمة ← عائشة بنت أبي بكر الصديق