Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب : الفصل بين طيب الرجال وطيب النساء
باب: مرد اور عورت کی خوشبو میں فرق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5120
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الْحَفَرِيَّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ، وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ، وَخَفِيَ رِيحُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک ظاہر ہو اور رنگ چھپا ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور مہک چھپی ہو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 50 (2174)، سنن الترمذی/الأدب 36 (الاستئذان70) (2787)، (تحفة الأشراف: 15486)، مسند احمد (2/447، 540) (حسن) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)»
وضاحت: ۱؎: مردوں کے لیے رنگلین خوشبو اس لیے منع ہے کہ رنگ عورتوں کی چیز ہے جو مردانہ وجاہت کے خلاف ہے، رنگدار خوشبو جیسے زعفران اور خلوق جس کا تذکرہ حدیث نمبر: ۵۱۲۳ (وما بعدہ) میں آ رہا ہے، سند کے لحاظ سے گرچہ وہ روایتیں ضعیف ہیں مگر اس حدیث سے ان کے معنی کو تقویت حاصل ہو رہی ہے اور عورتوں کے لیے یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب عورت گھر سے باہر نکلے، ورنہ شوہر کے ساتھ گھر میں رہتے ہوئے ہر طرح کی خوشبو استعمال کر سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (2787) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 361

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← أبو هريرة الدوسي
0
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← اسم مبهم
ثقة
👤←👥سعيد بن إياس الجريري، أبو مسعود
Newسعيد بن إياس الجريري ← المنذر بن مالك العوفي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سعيد بن إياس الجريري
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عمر بن سعد الحفري، أبو داود
Newعمر بن سعد الحفري ← سفيان الثوري
ثقة
👤←👥أحمد بن سليمان الرهاوي، أبو الحسين
Newأحمد بن سليمان الرهاوي ← عمر بن سعد الحفري
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5120 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5120
اردو حاشہ:
(1) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قراردیا ہے۔ دلائل کی روسے یہی بات درست ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔ واللہ أعلم۔ تفصیل کے لیے دیکھئے۔ ذخیرة العقبیٰ شرح من النسائي:38؍158۔161)
(2) رنگ مخفی ہو معلوم ہوا مردوں کی خوشبو میں ہلکا سا رنگ ہوسکتا ہے جو دور سے نمایاں نہ ہو، مثلاً: کستوری کا رنگ۔ اسی طرح عورتوں کی خوشبو میں معمولی سی مہک ہو جوراستہ چلنے والوں کو محسوس نہ ہو تو کوئی حرج نہیں کیونکہ آپ نے نفی نہیں فرمائی بلکہ فرمایا، مخفی ہو۔ گویا معمولی میں کوئی حرج نہیں۔
(3) عورتوں کے لیے رنگ والی خوشبو اس لیے مخصوص فرمائی کہ ان کے لیے پردہ فرض ہے، لہٰذا وہ لوگوں کو نظر نہیں آئے گی۔ خوشبو محسوس نہیں ہوگی، اس لیے لوگوں کی توجہ ان کی طرف مبذول نہیں ہوگی جبکہ مرد کے لیے پردہ نہیں ہے، اس لیے اسے رنگ والی چیز سے روک دیا گیا۔
(4) اگر عورت اپنے خاوند کے گھر میں ہو، باہر نہ جائے اور گھر میں غیر محرم مردوں کی آمد کا سلسلہ بھی نہ ہو تو پھر اسے کچھ نہ کچھ اجازت دی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ پر فتن دور ہے، سد ذریعہ کے طور پر اس سے محفوظ رہنا ہی بہتر ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5120]