سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب : النهى عن نبيذ الجر مفردا
باب: مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5620
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ، قُلْتُ: مَا الْحَنْتَمُ؟، قَالَ: الْجَرُّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز رنگ کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: «حنتم» کیا ہوتا ہے؟ کہا: مٹی کا برتن۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الِٔشربة 6 (1997)، (تحفة الأشراف: 6670)، مسند احمد (2/27، 42) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5181
| نهى رسول الله عن الدباء والنقير والمزفت |
صحيح مسلم |
5180
| نهى رسول الله عن الدباء والحنتم والمزفت والنقير يخلط البلح بالزهو |
صحيح مسلم |
5179
| نهى رسول الله عن الدباء والحنتم والمزفت والنقير |
صحيح مسلم |
5178
| عن الدباء والحنتم والنقير والمقير |
سنن أبي داود |
3696
| لا تشربوا في الدباء ولا في المزفت ولا في النقير وانتبذوا في الأسقية قالوا يا رسول الله فإن اشتد في الأسقية قال فصبوا عليه الماء قالوا يا رسول الله فقال لهم في الثالثة أو الرابعة أهريقوه ثم قال إن الله حرم علي أو حرم الخمر والميسر والكوبة قال وكل م |
سنن النسائى الصغرى |
5559
| نهى النبي عن الدباء والحنتم والمزفت والنقير وأن يخلط البلح والزهو |
سنن النسائى الصغرى |
5551
| نهى النبي عن الدباء والمزفت والنقير وأن يخلط التمر بالزبيب والزهو بالتمر |
سنن النسائى الصغرى |
5559
| نهى النبي عن الدباء والحنتم والمزفت والنقير عن البسر والتمر أن يخلطا وعن الزبيب والتمر أن يخلطا كتب إلى أهل هجر أن لا تخلطوا الزبيب والتمر جميعا |
سنن النسائى الصغرى |
5620
| نهى رسول الله عن نبيذ الجر |
سنن النسائى الصغرى |
5648
| نهى عن النقير والمقير والدباء والحنتم |
سنن النسائى الصغرى |
5695
| أنهاكم عن أربع عما ينبذ في الدباء والنقير والحنتم والمزفت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5194
| نهى رسول الله عن نبيذ الجر والدباء والمزفت قال نعم |
صحيح مسلم |
5192
| أنهى النبي أن ينبذ في الجر والدباء قال نعم |
صحيح مسلم |
5197
| نهى رسول الله عن الجر والدباء والمزفت وقال انتبذوا في الأسقية |
صحيح مسلم |
5199
| نهى رسول الله عن الحنتم وهي الجرة وعن الدباء وهي القرعة وعن المزفت وهو المقير وعن النقير وهي النخلة تنسح نسحا وتنقر نقرا وأمر أن ينتبذ في الأسقية |
صحيح مسلم |
5195
| نهى رسول الله عن الحنتم والدباء والمزفت |
صحيح مسلم |
5198
| نهى رسول الله عن الحنتمة فقلت ما الحنتمة قال الجرة |
صحيح مسلم |
5193
| نهى رسول الله عن الجر والدباء |
صحيح مسلم |
5191
| عن نبيذ الجر قال نعم |
صحيح مسلم |
5201
| عن الدباء والنقير والحنتم |
صحيح مسلم |
5190
| نهى رسول الله عن نبيذ الجر |
صحيح مسلم |
5188
| نهى أن ينتبذ في الدباء والمزفت |
صحيح مسلم |
5203
| نهى رسول الله عن الجر والدباء والمزفت |
جامع الترمذي |
1867
| نهى رسول الله عن نبيذ الجر |
جامع الترمذي |
1868
| نهى النبي عن الشرب في الحنتمة وهي الجرة ونهى عن الدباء وهي القرعة ونهى عن النقير وهو أصل النخل ينقر نقرا أو ينسج نسجا ونهى عن المزفت وهي المقير وأمر أن ينبذ في الأسقية |
سنن أبي داود |
3691
| حرم رسول الله نبيذ الجر |
سنن ابن ماجه |
3402
| نهى النبي عن أن ينبذ في المزفت والقرع |
سنن النسائى الصغرى |
5618
| أنهى رسول الله عن نبيذ الجر قال نعم |
سنن النسائى الصغرى |
5619
| أنهى رسول الله عن نبيذ الجر قال نعم |
سنن النسائى الصغرى |
5620
| نهى النبي عن الشرب في الحنتم قلت ما الحنتم قال الجر |
سنن النسائى الصغرى |
5628
| نهى عن الدباء |
سنن النسائى الصغرى |
5629
| نهى عن الدباء |
سنن النسائى الصغرى |
5635
| نهى عن المزفت والقرع |
سنن النسائى الصغرى |
5635
| نهى عن الدباء والحنتم والنقير |
سنن النسائى الصغرى |
5638
| الدباء والحنتم والمزفت |
سنن النسائى الصغرى |
5648
| نهى النبي عن الشرب في الحنتم وهو الذي تسمونه أنتم الجرة ونهى عن الدباء وهو الذي تسمونه أنتم القرع ونهى عن النقير وهي النخلة ينقرونها ونهى عن المزفت وهو المقير |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
397
| نهى ان ينبذ فى الدباء والمزفت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5620 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5620
اردو حاشہ:
اس روایت کی سند میں ابن عمر ؓ سے بیان کرنے والے روای کا نام ”خالد بن سحیم“ ذکر کیا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔ صحیح ”جبلہ بن سحیم“ ہے۔ (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 207/40)
اس روایت کی سند میں ابن عمر ؓ سے بیان کرنے والے روای کا نام ”خالد بن سحیم“ ذکر کیا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔ صحیح ”جبلہ بن سحیم“ ہے۔ (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 207/40)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5620]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5559
ادھ کچی اور سوکھی کھجور کے سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، سبز رنگ کی ٹھلیا، روغنی برتن اور لکڑی کے برتن سے، ادھ کچی اور سوکھی کھجور کو ملانے سے اور انگور اور سوکھی کھجور کو ملانے سے منع فرمایا اور اہل ہجر (احساد) کو لکھا: انگور اور سوکھی کھجور کو ایک ساتھ نہ ملاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5559]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، سبز رنگ کی ٹھلیا، روغنی برتن اور لکڑی کے برتن سے، ادھ کچی اور سوکھی کھجور کو ملانے سے اور انگور اور سوکھی کھجور کو ملانے سے منع فرمایا اور اہل ہجر (احساد) کو لکھا: انگور اور سوکھی کھجور کو ایک ساتھ نہ ملاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5559]
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر: 5550
تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر: 5550
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5559]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5559
ادھ کچی اور سوکھی کھجور کے سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، سبز رنگ کی ٹھلیا، روغنی برتن اور لکڑی کے برتن سے، ادھ کچی اور سوکھی کھجور کو ملانے سے اور انگور اور سوکھی کھجور کو ملانے سے منع فرمایا اور اہل ہجر (احساد) کو لکھا: انگور اور سوکھی کھجور کو ایک ساتھ نہ ملاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5559]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، سبز رنگ کی ٹھلیا، روغنی برتن اور لکڑی کے برتن سے، ادھ کچی اور سوکھی کھجور کو ملانے سے اور انگور اور سوکھی کھجور کو ملانے سے منع فرمایا اور اہل ہجر (احساد) کو لکھا: انگور اور سوکھی کھجور کو ایک ساتھ نہ ملاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5559]
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر: 5550
تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر: 5550
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5559]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5648
ممنوع برتنوں کی شرح و تفسیر۔
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے درخواست کی کہ مجھ سے کوئی ایسی بات بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برتنوں کے سلسلے میں سنی ہو اور اس کی شرح و تفسیر بھی بیان کیجئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھی برتن سے روکا اور یہ وہی ہے جسے تم «جرہ» (گھڑا) کہتے ہو۔ «دباء» سے روکا، جسے تم «قرع» (کدو کی تُو نبی) کہتے ہو، «نقیر» سے روکا اور یہ کھجور کے درخت کی جڑ ہے جسے تم کھودتے ہو (اور برتن بنا لیتے [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5648]
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے درخواست کی کہ مجھ سے کوئی ایسی بات بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برتنوں کے سلسلے میں سنی ہو اور اس کی شرح و تفسیر بھی بیان کیجئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھی برتن سے روکا اور یہ وہی ہے جسے تم «جرہ» (گھڑا) کہتے ہو۔ «دباء» سے روکا، جسے تم «قرع» (کدو کی تُو نبی) کہتے ہو، «نقیر» سے روکا اور یہ کھجور کے درخت کی جڑ ہے جسے تم کھودتے ہو (اور برتن بنا لیتے [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5648]
اردو حاشہ:
مذکورہ برتنوں کی حیثیت کےمتعلق محقق بات تو حدیث: 5646 کے تحت ذکر ہو چکی ہے مگر بعض ائمہ مجتہدین،مثلا: امام احمد اور امام اسحاقؒ اس بات کے قائل ہیں جو حضرت ابن عمر اور ابن عباس ؓ کےمذکورہ بالا فرامین سے ظاہر ہوتی ہے کہ ان برتنوں میں اب بھی نبیذ بنانا حرام ہے اور ان برتنوں میں بنائی ہوئی نبیذ پینی منع ہے۔حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر ؓ کا مسلک بھی یہی معلوم ہوتا ہے مگر اس سے بعض دوسری روایات متروک ہو جائیں گی جو نسخ پر دلالت کرتی ہیں۔ واللہ أعلم۔
مذکورہ برتنوں کی حیثیت کےمتعلق محقق بات تو حدیث: 5646 کے تحت ذکر ہو چکی ہے مگر بعض ائمہ مجتہدین،مثلا: امام احمد اور امام اسحاقؒ اس بات کے قائل ہیں جو حضرت ابن عمر اور ابن عباس ؓ کےمذکورہ بالا فرامین سے ظاہر ہوتی ہے کہ ان برتنوں میں اب بھی نبیذ بنانا حرام ہے اور ان برتنوں میں بنائی ہوئی نبیذ پینی منع ہے۔حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر ؓ کا مسلک بھی یہی معلوم ہوتا ہے مگر اس سے بعض دوسری روایات متروک ہو جائیں گی جو نسخ پر دلالت کرتی ہیں۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5648]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5695
نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
ابوجمرہ نصر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میری دادی میرے لیے ایک گھڑے میں میٹھی نبیذ تیار کرتی ہیں جسے میں پیتا ہوں۔ اگر میں اسے زیادہ پی لوں اور لوگوں میں بیٹھوں تو اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں رسوائی نہ ہو جائے، وہ بولے: عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”خوش آمدید ان لوگوں کو جو نہ رسوا ہوئے، نہ شرمندہ“، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہمارے اور آپ کے درمیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5695]
ابوجمرہ نصر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میری دادی میرے لیے ایک گھڑے میں میٹھی نبیذ تیار کرتی ہیں جسے میں پیتا ہوں۔ اگر میں اسے زیادہ پی لوں اور لوگوں میں بیٹھوں تو اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں رسوائی نہ ہو جائے، وہ بولے: عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”خوش آمدید ان لوگوں کو جو نہ رسوا ہوئے، نہ شرمندہ“، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہمارے اور آپ کے درمیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5695]
اردو حاشہ:
(1) اس روایت سے متعلقہ چند باتیں حدیث 5641 میں گزرچکی ہیں۔
(2) ”رسوا نہ ہو جاؤں“ یعنی دماغ صحیح کام نہیں کرتا۔ گویا کچھ نہ کچھ نشہ ہوتا ہے۔
(3) ”نہ رسوا ہوئے نہ نادم“ اگر لڑائی میں شکست کے بعد مسلمان ہوتے تو شکست کی رسوائی اٹھانا پڑتی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی کی ندامت بھی ہوتی۔ اب اپنے آپ مسلمان ہوئے تو دونوں چیزوں سے محفوظ رہے۔
(4) اس با ت میں اختلاف ہے کہ آپ نے ان کو کن چیزوں کا حکم دیا اور کن چیزوں سے منع فرمایا کیونکہ ظاہراً تو ایک چیز کے حکم کا ذکر ہے یعنی ایمان باللہ۔ اور ایک چیز سے منع کا ذکر ہے یعنی مندرجہ بالا برتنوں کی نبیذ سے۔ گویا باقی چیزوں کا ذکر نہیں بلکہ کسی اور روایت میں بھی ان کا ذکر نہیں۔ بعض حضرات کے نزدیک وہ چیزیں وہی ہیں جو ایمان باللہ کی تفسیر ہیں مگر وہ تو چار ہیں جب کہ اوپر تین چیزوں کے حکم کا ذکر ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ شہادتین کو شمار نہیں کیا گیا کیونکہ وہ شہادتین تو ادا کر چکے تھے۔ اسی طرح چار ممنوع چیزوں سے مراد چار برتن ہی ہیں۔ واللہ أعلم۔
(5) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے جواب سے مقصود یہ ہے کہ ایسی نبیذ جس میں نشے کا شک یا امکان ہو، نہیں پینی چاہیے، چہ جائیکہ ایسی نبیذ پی جائے جو حقیقتاً نشہ آور ہو۔
(1) اس روایت سے متعلقہ چند باتیں حدیث 5641 میں گزرچکی ہیں۔
(2) ”رسوا نہ ہو جاؤں“ یعنی دماغ صحیح کام نہیں کرتا۔ گویا کچھ نہ کچھ نشہ ہوتا ہے۔
(3) ”نہ رسوا ہوئے نہ نادم“ اگر لڑائی میں شکست کے بعد مسلمان ہوتے تو شکست کی رسوائی اٹھانا پڑتی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی کی ندامت بھی ہوتی۔ اب اپنے آپ مسلمان ہوئے تو دونوں چیزوں سے محفوظ رہے۔
(4) اس با ت میں اختلاف ہے کہ آپ نے ان کو کن چیزوں کا حکم دیا اور کن چیزوں سے منع فرمایا کیونکہ ظاہراً تو ایک چیز کے حکم کا ذکر ہے یعنی ایمان باللہ۔ اور ایک چیز سے منع کا ذکر ہے یعنی مندرجہ بالا برتنوں کی نبیذ سے۔ گویا باقی چیزوں کا ذکر نہیں بلکہ کسی اور روایت میں بھی ان کا ذکر نہیں۔ بعض حضرات کے نزدیک وہ چیزیں وہی ہیں جو ایمان باللہ کی تفسیر ہیں مگر وہ تو چار ہیں جب کہ اوپر تین چیزوں کے حکم کا ذکر ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ شہادتین کو شمار نہیں کیا گیا کیونکہ وہ شہادتین تو ادا کر چکے تھے۔ اسی طرح چار ممنوع چیزوں سے مراد چار برتن ہی ہیں۔ واللہ أعلم۔
(5) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے جواب سے مقصود یہ ہے کہ ایسی نبیذ جس میں نشے کا شک یا امکان ہو، نہیں پینی چاہیے، چہ جائیکہ ایسی نبیذ پی جائے جو حقیقتاً نشہ آور ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5695]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3696
شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں پانی ڈال دیا کرو“ وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! (اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: ”اسے بہا دو ۱؎“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور ڈھولک ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3696]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں پانی ڈال دیا کرو“ وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! (اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: ”اسے بہا دو ۱؎“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور ڈھولک ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3696]
فوائد ومسائل:
1۔
مشکیزےمیں ڈال ہوئے رس میں یہ شدت کسی خامرے کی آمیزش کے بغیر فطری طور پر پیدا ہوتی تھی۔
2۔
تیسری یا چوتھی بار پوچھنے سے پتہ چلا کہ وہ غیرمعمولی شدت ہے جو زیادہ وقت گزرنے کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔
3۔
جہاں شراب ایک مادی مشروب حرام ہے۔
کیونکہ عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے، وہاں موسیقی ایک صوتی چیز ہے۔
جو بھلے چنگےآدمی کی عقل کو مائوف کر دیتی ہے۔
آلات موسیقی میں سے ایک ڈھول بھی ہے۔
جو حرام ہے۔
البتہ دف حلال ہے۔
جس پر ایک طرف سے چمڑا منڈا ہوتا ہے۔
اور دوسری طرف سے خالی ہوتا ہے۔
اسے ہاتھ سے بجایا جاتا ہے۔
1۔
مشکیزےمیں ڈال ہوئے رس میں یہ شدت کسی خامرے کی آمیزش کے بغیر فطری طور پر پیدا ہوتی تھی۔
2۔
تیسری یا چوتھی بار پوچھنے سے پتہ چلا کہ وہ غیرمعمولی شدت ہے جو زیادہ وقت گزرنے کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔
3۔
جہاں شراب ایک مادی مشروب حرام ہے۔
کیونکہ عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے، وہاں موسیقی ایک صوتی چیز ہے۔
جو بھلے چنگےآدمی کی عقل کو مائوف کر دیتی ہے۔
آلات موسیقی میں سے ایک ڈھول بھی ہے۔
جو حرام ہے۔
البتہ دف حلال ہے۔
جس پر ایک طرف سے چمڑا منڈا ہوتا ہے۔
اور دوسری طرف سے خالی ہوتا ہے۔
اسے ہاتھ سے بجایا جاتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3696]
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 3696
ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله حر م عليكم الخمر و الميسر و الكوبة . . كل مسكر حرام» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بےشک اللہ نے تمہارے اوپر شراب، جوا اور کُوبہ حرام کیا ہے اور فرمایا: ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے۔ [مسند احمد 2691، 350 ح 3274 وإسناده صحيح ح 3274 وسنن أبى داود: 3696]
اس کے ایک راوی علی بن بذیمہ فرماتے ہیں کہ «الكوبة» سے مراد «الطبل» یعنی ڈھول ہے۔ [سنن ابي داؤد: 2/ 164 و إسناده صحيح]
❀ سیدنا عبداللہ بن عمرو العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن الله عزوجل حر م الخمر و الميسر و الكو بة والغبيراء و كل مسكر حرام» بے شک اللہ عزوجل نے خمر (شراب) جوا، ڈھولکی بجانا اور مکی کی شراب حرام قرار دیا ہے اور ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے۔ [مسند احمد 2/ 171 ح 6591م، و سنده حسن]
اس روایت کا راوی عمر و بن الولید بن عبدہ جمہور کے نزدیک ثقہ و موثق ہے لہٰذا اس کی حدیث حسن کے درجے سے نہیں گرتی۔
❀ محمود بن خالد الدمشقی نے صحیح سند کے ساتھ امام نافع سے نقل کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دفعہ بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں دے دیں اور فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [سنن ابي داؤد: 2/ 326 ح 4924 و إسناده حسن و المعجم الكبير للطبراني: 1/ 13 و تحريم النرود الشطرنج و الملاهي للآجري ح 65، مسند احمد 2/ 38ح 4965، السنن الكبري للبيهقي: 1/ 222]
اس حدیث کے بارے میں علامہ ابن الوزیر الیمانی نے ”توضیح الافکار“ [ج 1 ص 150] میں لکھا ہے کہ: «صحيح على الأصح» سب سے صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله حر م عليكم الخمر و الميسر و الكوبة . . كل مسكر حرام» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بےشک اللہ نے تمہارے اوپر شراب، جوا اور کُوبہ حرام کیا ہے اور فرمایا: ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے۔ [مسند احمد 2691، 350 ح 3274 وإسناده صحيح ح 3274 وسنن أبى داود: 3696]
اس کے ایک راوی علی بن بذیمہ فرماتے ہیں کہ «الكوبة» سے مراد «الطبل» یعنی ڈھول ہے۔ [سنن ابي داؤد: 2/ 164 و إسناده صحيح]
❀ سیدنا عبداللہ بن عمرو العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن الله عزوجل حر م الخمر و الميسر و الكو بة والغبيراء و كل مسكر حرام» بے شک اللہ عزوجل نے خمر (شراب) جوا، ڈھولکی بجانا اور مکی کی شراب حرام قرار دیا ہے اور ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے۔ [مسند احمد 2/ 171 ح 6591م، و سنده حسن]
اس روایت کا راوی عمر و بن الولید بن عبدہ جمہور کے نزدیک ثقہ و موثق ہے لہٰذا اس کی حدیث حسن کے درجے سے نہیں گرتی۔
❀ محمود بن خالد الدمشقی نے صحیح سند کے ساتھ امام نافع سے نقل کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دفعہ بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں دے دیں اور فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [سنن ابي داؤد: 2/ 326 ح 4924 و إسناده حسن و المعجم الكبير للطبراني: 1/ 13 و تحريم النرود الشطرنج و الملاهي للآجري ح 65، مسند احمد 2/ 38ح 4965، السنن الكبري للبيهقي: 1/ 222]
اس حدیث کے بارے میں علامہ ابن الوزیر الیمانی نے ”توضیح الافکار“ [ج 1 ص 150] میں لکھا ہے کہ: «صحيح على الأصح» سب سے صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
[ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
جبلة بن سحيم التيمي ← عبد الله بن عمر العدوي