پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. باب : ذكر الاختلاف على إبراهيم في النبيذ
باب: نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5751
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ:" لَا بَأْسَ بِنَبِيذِ الْبُخْتُجِ".
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ پختہ (پکا ہوا) شیرہ پینے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5751]
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ پختہ نبیذ (شیرے) میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5751]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18426) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري و مغيرة عنعنا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 369
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران | ثقة | |
👤←👥زياد بن كليب التميمي، أبو معشر زياد بن كليب التميمي ← إبراهيم النخعي | ثقة | |
👤←👥المغيرة بن مقسم الضبي، أبو هشام، أبو هاشم المغيرة بن مقسم الضبي ← زياد بن كليب التميمي | ثقة مدلس | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← المغيرة بن مقسم الضبي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← سفيان الثوري | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل سويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5751 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5751
اردو حاشہ:
”پختہ“ عربی میں لفظ «بختج» استعمال ہوا ہے جو کہ دراصل پختہ کا ہی عربی تلفظ ہے اس سے مراد وہ نبیذ ہے جسے آگ پر پکا کر تیار کیا جائے، مثلاً: طلاء جس کی تفسیر پیچھے گزر چکی ہے۔ لیکن اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس میں نشہ نہ پایا جائے۔ [ديكهیے احاديث: 5718۔ 5730]
”پختہ“ عربی میں لفظ «بختج» استعمال ہوا ہے جو کہ دراصل پختہ کا ہی عربی تلفظ ہے اس سے مراد وہ نبیذ ہے جسے آگ پر پکا کر تیار کیا جائے، مثلاً: طلاء جس کی تفسیر پیچھے گزر چکی ہے۔ لیکن اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ اس میں نشہ نہ پایا جائے۔ [ديكهیے احاديث: 5718۔ 5730]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5751]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5751 in Urdu
زياد بن كليب التميمي ← إبراهيم النخعي