سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. باب : ذكر الأشربة المباحة
باب: مباح اور جائز مشروب کا بیان۔
حدیث نمبر: 5757
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيذِ , فَقَالَ:" اشْرَبْ الْمَاءَ , وَاشْرَبْ الْعَسَلَ , وَاشْرَبْ السَّوِيقَ , وَاشْرَبْ اللَّبَنَ الَّذِي نُجِعْتَ بِهِ" , فَعَاوَدْتُهُ , فَقَالَ:" الْخَمْرَ تُرِيدُ , الْخَمْرَ تُرِيدُ".
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نبیذ کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: پانی پیو، شہد پیو، ستو اور دودھ پیو جس سے تم پلے بڑھے ہو۔ میں نے پھر پوچھا تو کہا: کیا تم شراب چاہتے ہو؟، کیا تم شراب چاہتے ہو؟۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5757]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نبیذ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: پانی پی، شہد پی، ستو پی اور دودھ پی جس کے ساتھ تیری پرورش ہوئی تھی۔ میں نے دوبارہ سوال کیا تو (غصے سے) فرمانے لگے: تو شراب پینا چاہتا ہے؟ تو شراب پینا چاہتا ہے؟ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 58) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 369
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5757 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5757
اردو حاشہ:
(1) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا مقصود یہ تھا کہ نبیذ ہر قسم کی ہوتی ہے نشہ آور اور سادہ بھی۔ اگر میں تجھے کہہ دوں کہ نبیذ پیا کر تو خطرہ ہے کہ تو نشہ آور نہ پینے لگے کیونکہ بسا اوقات معمولی نشہ محسوس نہیں ہوتا۔ لوگ بھی تساهل برت لیتے ہیں لہٰذا عام آدمی کے لیے اس سے پرہیز بہتر ہے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نشہ آور نبیذ کو شراب ہی سمجھتے تھے اور یہی صحیح ہے۔
(2) محقق کتاب، سفیان ثوری رحمہ اللہ کے عنعنہ کی وجہ سے حدیث کو مطلق ضعیف قرار دیتے ہیں جبکہ دیگر محققین کے نزدیک ان کی عنعنہ والی روایت بھی صحیح ہوتی ہے کیونکہ وہ قلیل التدلیس تھے، نیز ان سے مروی اس قسم کی احادیث کی مخالفت بھی نہ ہوتی ہو، اس لیے جن روایات کو انھوں نے سفیان ثوری کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے ہمارے نزدیک وہ روایات صحیح ہیں۔
(1) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا مقصود یہ تھا کہ نبیذ ہر قسم کی ہوتی ہے نشہ آور اور سادہ بھی۔ اگر میں تجھے کہہ دوں کہ نبیذ پیا کر تو خطرہ ہے کہ تو نشہ آور نہ پینے لگے کیونکہ بسا اوقات معمولی نشہ محسوس نہیں ہوتا۔ لوگ بھی تساهل برت لیتے ہیں لہٰذا عام آدمی کے لیے اس سے پرہیز بہتر ہے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نشہ آور نبیذ کو شراب ہی سمجھتے تھے اور یہی صحیح ہے۔
(2) محقق کتاب، سفیان ثوری رحمہ اللہ کے عنعنہ کی وجہ سے حدیث کو مطلق ضعیف قرار دیتے ہیں جبکہ دیگر محققین کے نزدیک ان کی عنعنہ والی روایت بھی صحیح ہوتی ہے کیونکہ وہ قلیل التدلیس تھے، نیز ان سے مروی اس قسم کی احادیث کی مخالفت بھی نہ ہوتی ہو، اس لیے جن روایات کو انھوں نے سفیان ثوری کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے ہمارے نزدیک وہ روایات صحیح ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5757]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5757 in Urdu
عبد الرحمن بن أبزى الخزاعي ← أبي بن كعب الأنصاري