🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

58. بَابُ: ذِكْرِ الأَشْرِبَةِ الْمُبَاحَةِ
باب: مباح اور جائز مشروب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5756
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ قَدَحٌ مِنْ عَيْدَانٍ , فَقَالَتْ:" سَقَيْتُ فِيهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ الشَّرَابِ: الْمَاءَ , وَالْعَسَلَ , وَاللَّبَنَ , وَالنَّبِيذَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس لکڑی کا ایک پیالا تھا، جس کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ میں نے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کا مشروب پلایا ہے: پانی، شہد، دودھ اور نبیذ۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5756]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (میری والدہ محترمہ) حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا جس کے بارے میں وہ فرمایا کرتی تھیں کہ میں نے اس پیالے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کا مشروب پلایا ہے؛ پانی بھی، شہد بھی، دودھ بھی اور نبیذ بھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18327) صحیح مسلم/الٔشربة9(2008)، سنن الترمذی/الشمائل28 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5757
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيذِ , فَقَالَ:" اشْرَبْ الْمَاءَ , وَاشْرَبْ الْعَسَلَ , وَاشْرَبْ السَّوِيقَ , وَاشْرَبْ اللَّبَنَ الَّذِي نُجِعْتَ بِهِ" , فَعَاوَدْتُهُ , فَقَالَ:" الْخَمْرَ تُرِيدُ , الْخَمْرَ تُرِيدُ".
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نبیذ کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: پانی پیو، شہد پیو، ستو اور دودھ پیو جس سے تم پلے بڑھے ہو۔ میں نے پھر پوچھا تو کہا: کیا تم شراب چاہتے ہو؟، کیا تم شراب چاہتے ہو؟۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5757]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نبیذ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: پانی پی، شہد پی، ستو پی اور دودھ پی جس کے ساتھ تیری پرورش ہوئی تھی۔ میں نے دوبارہ سوال کیا تو (غصے سے) فرمانے لگے: تو شراب پینا چاہتا ہے؟ تو شراب پینا چاہتا ہے؟ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 58) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 369

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5758
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَبِيدَةَ , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , قَالَ:" أَحْدَثَ النَّاسُ أَشْرِبَةً مَا أَدْرِي مَا هِيَ , فَمَا لِي شَرَابٌ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً , أَوْ قَالَ: أَرْبَعِينَ سَنَةً إِلَّا الْمَاءُ وَالسَّوِيقُ" , غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيذَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کئی مشروبات ایجاد کر لی ہیں، مجھے نہیں معلوم وہ کیا کیا ہیں۔ لیکن میرا مشروب کوئی بیس سال (یا کہا: چالیس سال) سے سوائے پانی اور ستو کے کچھ نہیں اور نبیذ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5758]
حضرت (عبداللہ) ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب لوگوں نے کئی قسم کے مشروب ایجاد کر لیے ہیں۔ میں نہیں جانتا، وہ کیا اور کیسے ہیں؟ بیس یا چالیس سال ہو گئے ہیں کہ میں نے پانی یا ستو کے علاوہ کوئی اور مشروب نہیں پیا۔ انہوں نے نبیذ کا ذکر نہیں فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9408) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سليمان التيمي عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 369

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5759
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَوْنٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ عَبِيدَةَ , قَالَ:" أَحْدَثَ النَّاسُ أَشْرِبَةً مَا أَدْرِي مَا هِيَ , وَمَا لِي شَرَابٌ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً إِلَّا الْمَاءُ وَاللَّبَنُ وَالْعَسَلُ".
عبیدہ سلمانی کہتے ہیں کہ لوگوں نے بہت سارے مشروبات ایجاد کر لیے، مجھے نہیں معلوم وہ کیا کیا ہیں، لیکن میرا تو بیس سال سے سوائے پانی، دودھ اور شہد کے کوئی مشروب نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5759]
حضرت عبیدہ (سلمانی) رحمہ اللہ نے فرمایا کہ لوگوں نے بے شمار مشروبات بنا لیے ہیں، میں نہیں جانتا کہ وہ کون کون سے ہیں اور کیسے ہیں؟ میری حالت تو یہ ہے کہ بیس سال گزر چکے ہیں، میرے پاس پانی، دودھ اور شہد کے علاوہ کوئی اور مشروب نہیں ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5759]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19000) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5760
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ , عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ , قَالَ: قَالَ طَلْحَةُ لِأَهْلِ الْكُوفَةِ:" فِي النَّبِيذِ فِتْنَةٌ يَرْبُو فِيهَا الصَّغِيرُ , وَيَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ" , قَالَ: وَكَانَ إِذَا كَانَ فِيهِمْ عُرْسٌ , كَانَ طَلْحَةُ، وَزُبَيْر يَسْقِيَانِ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ , فَقِيلَ لِطَلْحَةَ: أَلَا تَسْقِيهِمُ النَّبِيذَ؟ قَالَ:" إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَسْكَرَ مُسْلِمٍ فِي سَبَبِي".
ابن شبرمہ کہتے ہیں کہ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ والوں سے کہا: نبیذ میں فتنہ ہے اس میں چھوٹا بڑا ہو جاتا ہے اور بڑا بوڑھا ہو جاتا ہے، وہ (ابن شبرمہ) کہتے ہیں: اور جب کسی شادی کا ولیمہ ہوتا تو طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما دودھ اور شہد پلاتے۔ طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: آپ نبیذ کیوں نہیں پلاتے؟ وہ بولے: مجھے ناپسند ہے کہ میری وجہ سے کسی مسلمان کو نشہ آئے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5760]
ابن شبرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبیذ کے بارے میں کوفے والوں سے فرمایا کہ یہ ایسا فتنہ ہے کہ جس میں تمہارے چھوٹے پرورش پاتے ہیں اور تمہارے بڑے اسے پیتے پیتے کھوسٹ اور بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ اور جب کوئی شادی ہوتی تو حضرت طلحہ اور حضرت زبید رضی اللہ عنہما لوگوں کو دودھ اور شہد پلایا کرتے تھے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ لوگوں کو نبیذ کیوں نہیں پلاتے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں پسند نہیں کرتا کہ میری وجہ سے کوئی مسلمان نشے میں آئے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5760]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18849) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5761
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ , قَالَ: كَانَ ابْنُ شُبْرُمَةَ , لَا يَشْرَبُ إِلَّا الْمَاءَ وَاللَّبَنَ".
جریر بیان کرتے ہیں کہ ابن شبرمہ صرف پانی اور دودھ پیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5761]
حضرت جریر رحمہ اللہ نے فرمایا: حضرت ابن شبرمہ رحمہ اللہ پانی اور دودھ کے علاوہ کوئی مشروب نہیں پیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1891) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں