Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب ما جاء لا تحرم المصة ولا المصتان
باب: ایک بار یا دو بار چھاتی سے دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ "، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الْبَصْرِيُّ، عَنْ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، حَدِيثُ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ: الصَّحِيحُ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ دِينَارٍ وَزَادَ فِيهِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، وَإِنَّمَا هُوَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ َلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ. (حديث موقوف) وَقَالَتْ عَائِشَةُ: أُنْزِلَ فِي الْقُرْآنِ " عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ "، فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ خَمْسٌ، وَصَارَ إِلَى خَمْسِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا، وَبِهَذَا كَانَتْ عَائِشَةُ تُفْتِي، وَبَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَإِسْحَاق، وقَالَ أَحْمَدُ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ "، وقَالَ: إِنْ ذَهَبَ ذَاهِبٌ، إِلَى قَوْلِ عَائِشَةَ فِي خَمْسِ رَضَعَاتٍ، فَهُوَ مَذْهَبٌ قَوِيٌّ وَجَبُنَ عَنْهُ، أَنْ يَقُولَ فِيهِ شَيْئًا، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: يُحَرِّمُ قَلِيلُ الرَّضَاعِ، وَكَثِيرُهُ إِذَا وَصَلَ إِلَى الْجَوْفِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَوَكِيعٍ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ، قَدِ اسْتَقْضَاهُ عَلَى الطَّائِفِ، وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: أَدْرَكْتُ ثَلَاثِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بار یا دو بار چھاتی سے دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ام فضل، ابوہریرہ، زبیر بن عوام اور ابن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اس حدیث کو دیگر کئی لوگوں نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک یا دو بار دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ اور محمد بن دینار نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس میں محمد بن دینار بصریٰ نے زبیر کے واسطے کا اضافہ کیا ہے۔ لیکن یہ غیر محفوظ ہے،
۳- محدثین کے نزدیک صحیح ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے جسے انہوں نے بطریق: «عبد الله بن الزبير عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے،
۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح ابن زبیر کی روایت ہے جسے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے اور محمد بن دینار کی روایت جس میں: زبیر کے واسطے کا اضافہ ہے وہ دراصل ہشام بن عروہ سے مروی ہے جسے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور انہوں نے زبیر سے روایت کی ہے،
۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
۶- عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قرآن میں (پہلے) دس رضعات والی آیت نازل کی گئی پھر اس میں سے پانچ منسوخ کر دی گئیں تو پانچ رضاعتیں باقی رہ گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو معاملہ انہیں پانچ پر قائم رہا ۲؎،
۷- اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور بعض دوسری ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اسی کا فتویٰ دیتی تھیں، اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
۸- امام احمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ایک بار یا دو بار کے چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی کے قائل ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی عائشہ رضی الله عنہا کے پانچ رضعات والے قول کی طرف جائے تو یہ قوی مذہب ہے۔ لیکن انہیں اس کا فتویٰ دینے کی ہمت نہیں ہوئی،
۹- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ جب پیٹ تک پہنچ جائے تو اس سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ یہی سفیان ثوری، مالک بن انس، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، وکیع اور اہل کوفہ کا قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 5 (1450)، سنن ابی داود/ النکاح 11 (2063)، سنن النسائی/النکاح 51 (3310)، سنن ابن ماجہ/النکاح 35 (1941)، (تحفة الأشراف: 16189) (صحیح) وأخرجہ کل من: مسند احمد (6/247)، وسنن الدارمی/النکاح 49 (2297) من غیر ہذا الوجہ۔»
وضاحت: ۱؎: «مصّتہ» اور «رضعۃ» دونوں ایک ہی معنی میں ہے، جب بچہ ماں کی چھاتی کو منہ میں لے کر چوستا ہے پھر بغیر کسی عارضہ کے اپنی مرضی و خوشی سے چھاتی کو چھوڑ دیتا ہے تو اسے «مصّتہ» اور «رضعۃ» کہتے ہیں۔
۲؎: پھر یہ پانچ چوس والی آیت تلاوت منسوخ ہو گئی مگر اس کا حکم باقی رہا (عائشہ رضی الله عنہا کو منسوخ ہونے کا علم نہ ہو سکا) حدیث ایک یا دو چوس سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی کا مطلب یہی ہے کہ پانچ بار چوس سے ہوتی ہے یا کم از کم تین بار چوس سے ہوتی ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے، «واللہ اعلم بالصواب» (احتیاط یہ ہے کہ تین بار پر عمل کیا جائے)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1941)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عبد الله بن أبي بكر الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي بكر الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ثقة ثبت
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن أبي بكر الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥معن بن عيسى القزاز، أبو يحيى
Newمعن بن عيسى القزاز ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن موسى الأنصاري، أبو موسى
Newإسحاق بن موسى الأنصاري ← معن بن عيسى القزاز
ثقة متقن
👤←👥الزبير بن العوام الأسدي، أبو عبد الله
Newالزبير بن العوام الأسدي ← إسحاق بن موسى الأنصاري
صحابي
👤←👥عبد الله بن الزبير الأسدي، أبو بكر، أبو خبيب
Newعبد الله بن الزبير الأسدي ← الزبير بن العوام الأسدي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن الزبير الأسدي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥محمد بن دينار الأزدي، أبو بكر
Newمحمد بن دينار الأزدي ← هشام بن عروة الأسدي
مقبول
👤←👥عبد الله بن الزبير الأسدي، أبو بكر، أبو خبيب
Newعبد الله بن الزبير الأسدي ← محمد بن دينار الأزدي
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن الزبير الأسدي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← هشام بن عروة الأسدي
صحابي
👤←👥عبد الله بن الزبير الأسدي، أبو بكر، أبو خبيب
Newعبد الله بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
صحابي
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عبد الله بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← أيوب السختياني
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الأعلى القيسي، أبو صدقة، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الأعلى القيسي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1150
لا تحرم المصة ولا المصتان
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1150 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1150
اردو حاشہ:
وضاخت:


1؎:
مصّتہ اور رضعۃ دونوں ایک ہی معنی میں ہے،
جب بچہ ماں کی چھاتی کو منہ میں لے کر چوستا ہے پھر بغیر کسی عارضہ کے اپنی مرضی و خوشی سے چھاتی کو چھوڑ دیتا ہے تو اسے مصۃ اور رضعۃ کہتے ہیں۔

2؎:
پھر یہ پانچ چوس والی آیت تلاوت منسوخ ہو گئی مگر اس کا حکم باقی رہا (عائشہ رضی اللہ عنہا کو منسوخ ہونے کا علم نہ ہو سکا) حدیث ایک یا دو چوس سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی کا مطلب یہی ہے کہ پانچ بار چوس سے ہوتی ہے یا کم از کم تین بار چوس سے ہوتی ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے،
واللہ اعلم بالصواب (احتیاط یہ ہے کہ تین بار پر عمل کیا جائے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1150]