سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب ما جاء في التجار وتسمية النبي صلى الله عليه وسلم إياهم
باب: تاجروں کا ذکر اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ان کے نام رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1209
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ، وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَابِرٍ وَهُوَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچا اور امانت دار تاجر (قیامت کے دن) انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے بروایت ثوری صرف اسی سند سے جانتے ہیں انہوں نے ابوحمزہ سے روایت کی ہے،
۲- اور ابوحمزہ کا نام عبداللہ بن جابر ہے اور وہ بصرہ کے شیخ ہیں - [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1209]
۱- یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے بروایت ثوری صرف اسی سند سے جانتے ہیں انہوں نے ابوحمزہ سے روایت کی ہے،
۲- اور ابوحمزہ کا نام عبداللہ بن جابر ہے اور وہ بصرہ کے شیخ ہیں - [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3994) (صحیح) (ابن ماجہ (2139) اور مستدرک الحاکم (2142) میں یہ حدیث ابن عمر سے آئی ہے جس میں نبيين اور صديقين کا ذکر نہیں ہے، اور اس میں ایک راوی کلثوم بن جوشن ہیں، جس کے بارے میں حاکم کہتے ہیں کہ وہ قلیل الحدیث ہیں، اور بخاری ومسلم نے ان سے روایت نہیں کی ہے، اور اور حسن بصری کی مرسل روایت اس حدیث کی شاہد ہے، ابو حاتم الرازی نے ان کو ضعیف الحدیث کہا ہے، اور ابن معین نے لیس بہ بأس، اور امام بخاری نے توثیق کی ہے، اور حافظ ابن حجر نے ضعیف کہا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ یہ متکلم فیہ راوی ہیں، لیکن ان کی حدیث سے ابو سعید خدری کی حدیث جس میں حسن بصری ہیں، کو تقویت مل گئی، اسی وجہ سے البانی صاحب نے ابو سعید خدری کی حدیث کو صحیح لغیرہ کہا، اور ابن عمر کی حدیث کو حسن صحیح، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب والترہیب 1782، وتراجع الألبانی 525)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف غاية المرام (167) ، أحاديث البيوع // ضعيف الجامع الصغير (2501) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1209) إسناده ضعيف
أبوحمزة ميمون: ضعيف (تقدم: 659) وقيل: ھو غيره، وسفيان الثوري وحسن البصري مدلسان و عنعنا
أبوحمزة ميمون: ضعيف (تقدم: 659) وقيل: ھو غيره، وسفيان الثوري وحسن البصري مدلسان و عنعنا
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← أبو سعيد الخدري | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥عبد الله بن جابر البصري، أبو حمزة، أبو حازم عبد الله بن جابر البصري ← الحسن البصري | مقبول | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد الله بن جابر البصري | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥قبيصة بن عقبة السوائي، أبو عامر قبيصة بن عقبة السوائي ← سفيان الثوري | ثقة | |
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري هناد بن السري التميمي ← قبيصة بن عقبة السوائي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1209
| التاجر الصدوق الأمين مع النبيين والصديقين والشهداء |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1209 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1209
اردو حاشہ:
نوٹ:
(ابن ماجہ (2139) اور مستدرک الحاکم (2142) میں یہ حدیث ابن عمر سے آئی ہے جس میں نبيين اور صديقين کا ذکر نہیں ہے،
اور اس میں ایک راوی کلثوم بن جوشن ہیں،
جس کے بارے میں حاکم کہتے ہیں کہ وہ قلیل الحدیث ہیں،
اور بخاری ومسلم نے ان سے روایت نہیں کی ہے،
اور حسن بصری کی مرسل روایت اس حدیث کی شاہد ہے،
ابوحاتم الرازی نے ان کو ضعیف الحدیث کہا ہے،
اور ابن معین نے لیس به بأس،
اور امام بخاری نے توثیق کی ہے،
اور حافظ ابن حجر ؒ نے ضعیف کہا ہے،
خلاصہ یہ ہے کہ یہ متکلم فیہ راوی ہیں،
لیکن ان کی حدیث سے ابوسعید خدری کی حدیث جس میں حسن بصری ہیں،
کوتقویت مل گئی،
اسی وجہ سے البانی صاحب نے ابوسعید خدری کی حدیث کوصحیح لغیرہ کہا،
اور ابن عمر کی حدیث کو حسن صحیح،
نیز ملاحظہ ہو:
صحیح الترغیب والترہیب 1782،
وتراجع الألبانی 525)
نوٹ:
(ابن ماجہ (2139) اور مستدرک الحاکم (2142) میں یہ حدیث ابن عمر سے آئی ہے جس میں نبيين اور صديقين کا ذکر نہیں ہے،
اور اس میں ایک راوی کلثوم بن جوشن ہیں،
جس کے بارے میں حاکم کہتے ہیں کہ وہ قلیل الحدیث ہیں،
اور بخاری ومسلم نے ان سے روایت نہیں کی ہے،
اور حسن بصری کی مرسل روایت اس حدیث کی شاہد ہے،
ابوحاتم الرازی نے ان کو ضعیف الحدیث کہا ہے،
اور ابن معین نے لیس به بأس،
اور امام بخاری نے توثیق کی ہے،
اور حافظ ابن حجر ؒ نے ضعیف کہا ہے،
خلاصہ یہ ہے کہ یہ متکلم فیہ راوی ہیں،
لیکن ان کی حدیث سے ابوسعید خدری کی حدیث جس میں حسن بصری ہیں،
کوتقویت مل گئی،
اسی وجہ سے البانی صاحب نے ابوسعید خدری کی حدیث کوصحیح لغیرہ کہا،
اور ابن عمر کی حدیث کو حسن صحیح،
نیز ملاحظہ ہو:
صحیح الترغیب والترہیب 1782،
وتراجع الألبانی 525)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1209]
حدیث نمبر: 1209M
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
دوسری سند سے سفیان ثوری نے ابوحمزہ سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1209M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف غاية المرام (167) ، أحاديث البيوع // ضعيف الجامع الصغير (2501) //
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن جابر البصري، أبو حمزة، أبو حازم | مقبول | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد الله بن جابر البصري | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← سفيان الثوري | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل سويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
الحسن البصري ← أبو سعيد الخدري