سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب الحكم في الدماء
باب: خون کے فیصلہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1396
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحْكَمُ بَيْنَ الْعِبَادِ فِي الدِّمَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا , وَرَوَى بَعْضُهُمْ , عَنْ الْأَعْمَشِ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(آخرت میں) بندوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عبداللہ کی حدیث حسن صحیح ہے، اسی طرح کئی لوگوں نے اعمش سے مرفوعاً روایت کی ہے،
۲- اور بعض نے اعمش سے روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کہا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1396]
۱- عبداللہ کی حدیث حسن صحیح ہے، اسی طرح کئی لوگوں نے اعمش سے مرفوعاً روایت کی ہے،
۲- اور بعض نے اعمش سے روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کہا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1396]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 48 (6533)، والدیات 1 (6864)، صحیح مسلم/القسامة 8 (1678)، سنن النسائی/المحاربة 2 (3997)، سنن ابن ماجہ/الدیات 1 (2617)، (تحفة الأشراف: 9246)، و مسند احمد (1/388، 441، 442) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث «أول ما يحاسب به العبد صلاته» کے منافی نہیں ہے، کیونکہ خون کے فیصلہ کا تعلق لوگوں کے آپسی حقوق سے ہے جب کہ صلاۃ والی حدیث کا تعلق خالق کائنات کے حقوق سے ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں کے حقوق میں سے سب سے بڑی اور اہم چیز جس کے بارے میں سوال ہو گا وہ خون ہے، اسی طرح حقوق اللہ میں سے سب سے بڑی چیز جس کے بارے میں سب سے پہلے سوال ہو گا وہ صلاۃ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2615)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6864
| أول ما يقضى بين الناس في الدماء |
صحيح البخاري |
6533
| أول ما يقضى بين الناس بالدماء |
صحيح مسلم |
4381
| أول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء |
جامع الترمذي |
1396
| أول ما يحكم بين العباد في الدماء |
جامع الترمذي |
1397
| أول ما يقضى بين العباد في الدماء |
سنن النسائى الصغرى |
3996
| أول ما يحاسب به العبد الصلاة أول ما يقضى بين الناس في الدماء |
سنن النسائى الصغرى |
3997
| أول ما يحكم بين الناس في الدماء |
سنن ابن ماجه |
2617
| أول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء |
سنن ابن ماجه |
2615
| أول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء |
بلوغ المرام |
995
| أول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1396 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1396
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ حدیث (أَوّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهَ الْعَبْدُ صَلَاتهَ) کے منافی نہیں ہے،
کیونکہ خون کے فیصلہ کا تعلق لوگوں کے آپسی حقوق سے ہے جب کہ صلاۃ والی حدیث کا تعلق خالقِ کائنات کے حقوق سے ہے،
اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں کے حقوق میں سے سب سے بڑی اوراہم چیز جس کے بارے میں سوال ہوگا وہ خون ہے،
اسی طرح حقوق ا للہ میں سے سب سے بڑی چیز جس کے بارے میں سب سے پہلے سوال ہوگا وہ نماز ہے۔
وضاحت:
1؎:
یہ حدیث (أَوّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهَ الْعَبْدُ صَلَاتهَ) کے منافی نہیں ہے،
کیونکہ خون کے فیصلہ کا تعلق لوگوں کے آپسی حقوق سے ہے جب کہ صلاۃ والی حدیث کا تعلق خالقِ کائنات کے حقوق سے ہے،
اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں کے حقوق میں سے سب سے بڑی اوراہم چیز جس کے بارے میں سوال ہوگا وہ خون ہے،
اسی طرح حقوق ا للہ میں سے سب سے بڑی چیز جس کے بارے میں سب سے پہلے سوال ہوگا وہ نماز ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1396]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3996
ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پہلی چیز جس کا بندے سے حساب ہو گا نماز ہے، اور سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3996]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پہلی چیز جس کا بندے سے حساب ہو گا نماز ہے، اور سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3996]
اردو حاشہ:
(1) بعض نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ قیامت کے دن فیصلے صرف لوگوں کے درمیان ہوں گے جبکہ درست یہ ہے کہ پہلے لوگوں کے درمیان فیصلے ہوں گے، پھر حیوانات کے درمیان بھی فیصلہ فرمایا جائے گا۔
(2) یہ قیامت کے دن کی بات ہے۔ حقوق اللہ میں سب سے اہم نماز ہے، لہٰذا پہلے اسی کا حساب لیا جائے گا۔ اگر اس میں کامیابی حاصل ہو گئی تو امید ہے باقی حقوق اللہ میں بھی رعایت حاصل ہو جائے گی اور اگر نماز ہی میں ناکام ہو گیا تو باقی حقوق اللہ کا حساب لینے کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔ یا ان میں کامیابی نہ ہو گی۔ حقوق العباد میں سب سے اہم جان کی حرمت ہے۔ اگر کسی نے یہ حق ضائع کر دی، یعنی کسی کو ناحق قتل کر دیا تو باقی حقوق کی ادائیگی کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔ اور اگر کوئی شخص اس حق میں گرفتار نہ ہوا تو باقی حقوق میں بھی نجات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ معلوم ہوا، ان دو چیزوں کے فیصلے پر ہی نجات کا دار و مدار ہے۔ یا ان دو چیزوں کی اہمیت مقصود ہے کہ حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گا اور حقوق العباد میں سے قتل کا فیصلہ سب سے پہلے ہو گا۔ باقی حساب کتاب اور فیصلے بعد میں ہوں گے۔ لیکن پہلے معنیٰ زیادہ مؤثر ہیں۔ و اللہ أعلم۔
(1) بعض نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ قیامت کے دن فیصلے صرف لوگوں کے درمیان ہوں گے جبکہ درست یہ ہے کہ پہلے لوگوں کے درمیان فیصلے ہوں گے، پھر حیوانات کے درمیان بھی فیصلہ فرمایا جائے گا۔
(2) یہ قیامت کے دن کی بات ہے۔ حقوق اللہ میں سب سے اہم نماز ہے، لہٰذا پہلے اسی کا حساب لیا جائے گا۔ اگر اس میں کامیابی حاصل ہو گئی تو امید ہے باقی حقوق اللہ میں بھی رعایت حاصل ہو جائے گی اور اگر نماز ہی میں ناکام ہو گیا تو باقی حقوق اللہ کا حساب لینے کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔ یا ان میں کامیابی نہ ہو گی۔ حقوق العباد میں سب سے اہم جان کی حرمت ہے۔ اگر کسی نے یہ حق ضائع کر دی، یعنی کسی کو ناحق قتل کر دیا تو باقی حقوق کی ادائیگی کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔ اور اگر کوئی شخص اس حق میں گرفتار نہ ہوا تو باقی حقوق میں بھی نجات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ معلوم ہوا، ان دو چیزوں کے فیصلے پر ہی نجات کا دار و مدار ہے۔ یا ان دو چیزوں کی اہمیت مقصود ہے کہ حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گا اور حقوق العباد میں سے قتل کا فیصلہ سب سے پہلے ہو گا۔ باقی حساب کتاب اور فیصلے بعد میں ہوں گے۔ لیکن پہلے معنیٰ زیادہ مؤثر ہیں۔ و اللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3996]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2615
مسلمان کو ناحق قتل کرنے پر وارد وعید کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2615]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2615]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حقوق العباد میں جان لینے کا معاملہ سب سے شدید ہے، اس لیے قیامت کے دن سب سے پہلے ان معاملات کا فیصلہ ہوگا۔
(2)
عبادات میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا۔
(3)
کسی جرم کی سزا کے طور پر اسلامی حکومت کے حکم سے مجرم کو قتل کرنا، ناحق قتل میں شامل نہیں بلکہ جلاد کا یہ ڈیوٹی انجام دینا اسلامی حدود کے نفاذ کی وجہ سے ثواب کا باعث ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
حقوق العباد میں جان لینے کا معاملہ سب سے شدید ہے، اس لیے قیامت کے دن سب سے پہلے ان معاملات کا فیصلہ ہوگا۔
(2)
عبادات میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا۔
(3)
کسی جرم کی سزا کے طور پر اسلامی حکومت کے حکم سے مجرم کو قتل کرنا، ناحق قتل میں شامل نہیں بلکہ جلاد کا یہ ڈیوٹی انجام دینا اسلامی حدود کے نفاذ کی وجہ سے ثواب کا باعث ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2615]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6864
6864. حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے لوگوں کے درمیان سب سے پہلے قتل کے مقدمات کا فیصلہ کیا جائے گا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6864]
حدیث حاشیہ:
پہلے حضرت خاتون جنت اپنے دونوں صاحبزادوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے خون کا دعویٰ کریں گی جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔
یہ اس کے خلاف نہیں ہے کہ سب سے پہلے نماز کی پرسش ہوگی کیوں کہ نماز حقوق اللہ میں سے ہے اور خون حقوق العباد میں سے ہے۔
مطلب یہ ہے کہ حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کی پرسش ہوگی اور حقوق العباد میں پہلے ناحق خون کی پرسش ہے۔
خون ناحق کسی مسلم کا ہو یا غیرمسلم کا، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔
اس سے اسلام کی انسانیت پروری پر جو روشنی پڑتی ہے وہ صاف ظاہر اور بہت ہی واضح ہے۔
پہلے حضرت خاتون جنت اپنے دونوں صاحبزادوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے خون کا دعویٰ کریں گی جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔
یہ اس کے خلاف نہیں ہے کہ سب سے پہلے نماز کی پرسش ہوگی کیوں کہ نماز حقوق اللہ میں سے ہے اور خون حقوق العباد میں سے ہے۔
مطلب یہ ہے کہ حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کی پرسش ہوگی اور حقوق العباد میں پہلے ناحق خون کی پرسش ہے۔
خون ناحق کسی مسلم کا ہو یا غیرمسلم کا، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔
اس سے اسلام کی انسانیت پروری پر جو روشنی پڑتی ہے وہ صاف ظاہر اور بہت ہی واضح ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6864]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6533
6533. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ لوگوں کے درمیان ہوگا وہ ناحق خون کے متعلق ہوگا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6533]
حدیث حاشیہ:
(1)
حقوق العباد میں جان سے مار دینے کا معاملہ بہت سنگین ہے، اس لیے قیامت کے دن سب سے پہلے ان معاملات کا فیصلہ ہو گا۔
کسی جرم کی سزا کے طور پر اسلامی حکومت کے حکم سے مجرم کو قتل کرنا، ناحق قتل میں شامل نہیں بلکہ جلاد کا یہ ڈیوٹی انجام دینا اسلامی حدود کے نفاذ کی وجہ سے باعث ثواب ہے۔
(2)
ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے کی نماز کا حساب ہو گا۔
(مسند أحمد: 103/4)
یہ حدیث مذکورہ حدیث کے مخالف نہیں ہے کیونکہ عبادات کے معاملے میں سب سے پہلے نماز ہی کا حساب ہو گا اور حقوق العباد میں سب سے پہلے خون ناحق کا بدلہ چکایا جائے گا، چنانچہ ایک روایت میں دونوں کو بیک وقت ہی بیان کیا گیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”قیامت کے دن سب سے پہلے بندے کی نماز کا حساب ہو گا اور لوگوں میں سب سے پہلے خون ناحق کا فیصلہ کیا جائے گا۔
“ (سنن النسائي، المحاربة، حدیث: 3996)
(1)
حقوق العباد میں جان سے مار دینے کا معاملہ بہت سنگین ہے، اس لیے قیامت کے دن سب سے پہلے ان معاملات کا فیصلہ ہو گا۔
کسی جرم کی سزا کے طور پر اسلامی حکومت کے حکم سے مجرم کو قتل کرنا، ناحق قتل میں شامل نہیں بلکہ جلاد کا یہ ڈیوٹی انجام دینا اسلامی حدود کے نفاذ کی وجہ سے باعث ثواب ہے۔
(2)
ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے کی نماز کا حساب ہو گا۔
(مسند أحمد: 103/4)
یہ حدیث مذکورہ حدیث کے مخالف نہیں ہے کیونکہ عبادات کے معاملے میں سب سے پہلے نماز ہی کا حساب ہو گا اور حقوق العباد میں سب سے پہلے خون ناحق کا بدلہ چکایا جائے گا، چنانچہ ایک روایت میں دونوں کو بیک وقت ہی بیان کیا گیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”قیامت کے دن سب سے پہلے بندے کی نماز کا حساب ہو گا اور لوگوں میں سب سے پہلے خون ناحق کا فیصلہ کیا جائے گا۔
“ (سنن النسائي، المحاربة، حدیث: 3996)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6533]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6864
6864. حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے لوگوں کے درمیان سب سے پہلے قتل کے مقدمات کا فیصلہ کیا جائے گا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6864]
حدیث حاشیہ:
حجرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ قیامت کےدن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان نماز کے متعلق فیصلے ہوں گے۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 468)
ان دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہ صورت ہے کہ عبادات میں سب سے پہلے لوگوں میں نماز کے متعلق فیصلے ہوں گے اور معاملات میں سب سے پہلے قتل کے مقدمات کو نمٹایا جائے گا۔
دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کی پوچھ گچھ ہوگی اور حقوق العباد میں سب سے پہلے قتل کے متعلق پوچھا جائے گا۔
الغرض خون ناحق، خواہ مسلمان کا ہو یا غیر مسلم کا دونوں کا معاملہ نہایت سنگین ہے۔
(فتح الباري: 234/12)
حجرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ قیامت کےدن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان نماز کے متعلق فیصلے ہوں گے۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 468)
ان دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہ صورت ہے کہ عبادات میں سب سے پہلے لوگوں میں نماز کے متعلق فیصلے ہوں گے اور معاملات میں سب سے پہلے قتل کے مقدمات کو نمٹایا جائے گا۔
دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کی پوچھ گچھ ہوگی اور حقوق العباد میں سب سے پہلے قتل کے متعلق پوچھا جائے گا۔
الغرض خون ناحق، خواہ مسلمان کا ہو یا غیر مسلم کا دونوں کا معاملہ نہایت سنگین ہے۔
(فتح الباري: 234/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6864]
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود