سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب ما جاء في الرجل يقع على جارية امرأته
باب: بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1451
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , وَأَيُّوبَ بْنِ مِسْكِينٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ , قَالَ: رُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ , رَجُلٌ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ , فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَئِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ لَأَجْلِدَنَّهُ مِائَةً , وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ ".
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کے پاس ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا تھا، انہوں نے کہا: میں اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا: اگر اس کی بیوی نے اسے لونڈی کے ساتھ جماع کی اجازت دی ہے تو (بطور تادیب) اسے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اجازت نہیں دی ہے تو (بطور حد) اسے رجم کروں گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1451]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الحدود 28 (4458)، سنن النسائی/النکاح 70 (3362)، سنن ابن ماجہ/الحدود (2551)، (تحفة الأشراف: 11613)، و مسند احمد (6/272، 276، 276، 277)، سنن الدارمی/الحدود 20 (2374) (ضعیف) (سند میں ”حبیب بن سالم“ میں بہت کلام ہے، نیز بقول خطابی ان کا سماع نعمان رضی الله عنہ سے نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (2551)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥النعمان بن بشير الأنصاري، أبو عبد الله | صحابي صغير | |
👤←👥حبيب بن سالم الأنصاري حبيب بن سالم الأنصاري ← النعمان بن بشير الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← حبيب بن سالم الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥أيوب بن أبي مسكين التميمي، أبو العلاء أيوب بن أبي مسكين التميمي ← قتادة بن دعامة السدوسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر سعيد بن أبي عروبة العدوي ← أيوب بن أبي مسكين التميمي | ثقة حافظ | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن علي بن حجر السعدي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1451
| لئن كانت أحلتها له لأجلدنه مائة وإن لم تكن أحلتها له رجمته |
سنن أبي داود |
4459
| إن كانت أحلتها له جلد مائة وإن لم تكن أحلتها له رجمته |
سنن النسائى الصغرى |
3362
| إن كانت أحلتها له جلدته مائة وإن لم تكن أحلتها له رجمته |
سنن النسائى الصغرى |
3363
| إن كانت أحلتها لك جلدتك وإن لم تكن أحلتها لك رجمتك بالحجارة فكانت أحلتها له فجلد مائة |
سنن النسائى الصغرى |
3364
| إن كانت أحلتها له فأجلده مائة وإن لم تكن أحلتها له فأرجمه |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1451 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1451
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ”حبیب بن سالم“ میں بہت کلام ہے،
نیز بقول خطابی ان کا سماع نعمان رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے)
نوٹ:
(سند میں ”حبیب بن سالم“ میں بہت کلام ہے،
نیز بقول خطابی ان کا سماع نعمان رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1451]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3362
شرمگاہ کو کسی کے لیے حلال کر دینا (درست نہیں ہے)۔
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا فرمایا: اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے (آدمی کو) سو کوڑے ماروں گا ۱؎، اور اگر اس (کی بیوی) نے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے سنگسار کر دوں گا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3362]
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا فرمایا: اگر اس کی بیوی نے لونڈی کو اس کے لیے حلال کیا تھا تو میں اسے (آدمی کو) سو کوڑے ماروں گا ۱؎، اور اگر اس (کی بیوی) نے حلال نہیں کیا تھا تو میں اسے سنگسار کر دوں گا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3362]
اردو حاشہ:
(1) نعمان بشیر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا اور ما بعد کی دونوں آیات سنداً ضعیف اور مضطرب ہیں۔ محقق کتاب کا ان تینوں اور ان سے ما بعد کی سلمہ بن محبق کی دو روایات کو حسن قراردینا محل نظر ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ وغیرہ نے انہیں ضعیف قراردیا ہے۔ اور انہی کی بات راجح معلوم ہوتی ہے۔ تحقیق کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الدیثیة‘ مسند الإمام احمد: 30/346۔ 348)
(2) تفہم مسئلہ کی غرض سے حدیث کی کچھ ضروری توضیح پیش نظر ہے: ناجائز چیز کسی کے حلال کرنے سے جائز نہیں بن جاتی۔ بیوی اپنی لونڈی کو خاوند کے لیے حلال قراردے تووہ لونڈی خاوند کے لیے حلال قراردے تو وہ لونڈی خاوند کے لیے حلال نہیں ہوگی کیونکہ وہ اس کی لونڈی نہیں‘ بیوی کی لونڈی ہے۔ اور جماع اپنی لونڈی سے جائز ہے۔ لیکن چونکہ اس میں شبہ ہے کہ بیوی کی لونڈی خاوند کی بھی لونڈی ہے‘ تو تب بیوی نے اپنی مملوکہ چیز خاوند کے لیے جائز قراردے دی تو شاید وہ اس کے لیے حلال ہو‘ اس لیے سزا میں کچھ تخفیف ہے کہ بجائے رجم کے کوڑے مارنے کا ذکر فرمایا‘ مگر یاد رہے اس شبہ کی بنا پر اس مرد کو بالکل معاف نہیں کیا جاسکتا‘ سزا ہلکی ہوسکتی ہے۔ ہاں‘ اگر بیوی اپنی لونڈی خاوند کو ہبہ کردے اور وہ اس کی لونڈی بن جائے یا اپنی لونڈی کا نکاح خاوند سے کرا دے تو جائز ہے۔
(1) نعمان بشیر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا اور ما بعد کی دونوں آیات سنداً ضعیف اور مضطرب ہیں۔ محقق کتاب کا ان تینوں اور ان سے ما بعد کی سلمہ بن محبق کی دو روایات کو حسن قراردینا محل نظر ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ وغیرہ نے انہیں ضعیف قراردیا ہے۔ اور انہی کی بات راجح معلوم ہوتی ہے۔ تحقیق کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الدیثیة‘ مسند الإمام احمد: 30/346۔ 348)
(2) تفہم مسئلہ کی غرض سے حدیث کی کچھ ضروری توضیح پیش نظر ہے: ناجائز چیز کسی کے حلال کرنے سے جائز نہیں بن جاتی۔ بیوی اپنی لونڈی کو خاوند کے لیے حلال قراردے تووہ لونڈی خاوند کے لیے حلال قراردے تو وہ لونڈی خاوند کے لیے حلال نہیں ہوگی کیونکہ وہ اس کی لونڈی نہیں‘ بیوی کی لونڈی ہے۔ اور جماع اپنی لونڈی سے جائز ہے۔ لیکن چونکہ اس میں شبہ ہے کہ بیوی کی لونڈی خاوند کی بھی لونڈی ہے‘ تو تب بیوی نے اپنی مملوکہ چیز خاوند کے لیے جائز قراردے دی تو شاید وہ اس کے لیے حلال ہو‘ اس لیے سزا میں کچھ تخفیف ہے کہ بجائے رجم کے کوڑے مارنے کا ذکر فرمایا‘ مگر یاد رہے اس شبہ کی بنا پر اس مرد کو بالکل معاف نہیں کیا جاسکتا‘ سزا ہلکی ہوسکتی ہے۔ ہاں‘ اگر بیوی اپنی لونڈی خاوند کو ہبہ کردے اور وہ اس کی لونڈی بن جائے یا اپنی لونڈی کا نکاح خاوند سے کرا دے تو جائز ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3362]
حبيب بن سالم الأنصاري ← النعمان بن بشير الأنصاري