سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب ما جاء في إخراج اليهود والنصارى من جزيرة العرب
باب: یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے باہر نکالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1606
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ".
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجہاد 21 (1767)، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة 28 (3030)، (تحفة الأشراف: 10419)، و مسند احمد (1/32) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جزیرہ عرب وہ حصہ ہے جسے بحر ہند، بحر احمر، بحر شام و دجلہ اور فرات نے احاطہٰ کر رکھا ہے، یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر آبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ جزیرہ عرب سے کافروں اور یہود و نصاری کو باہر نکال دیں، آپ کی زندگی میں اس پر پوری طرح عمل نہ کیا جا سکا، لیکن عمر رضی الله عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خواہش کو کہ عرب میں دو دین نہ رہیں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے جلا وطن کر دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (1605)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن جابر بن عبد الله الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين زيد بن الحباب التميمي ← سفيان الثوري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥موسى بن عبد الرحمن الكندي، أبو عيسى موسى بن عبد الرحمن الكندي ← زيد بن الحباب التميمي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4594
| لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب حتى لا أدع إلا مسلما |
جامع الترمذي |
1607
| لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب فلا أترك فيها إلا مسلما |
جامع الترمذي |
1606
| لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب |
سنن أبي داود |
3030
| لأخرجن اليهود و النصارى من جزيرة العرب فلا أترك فيها إلا مسلما |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1606 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1606
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جزیرہ عرب وہ حصہ ہے جسے بحر ہند،
بحر ِ احمر،
بحرشام ودجلہ اور فرات نے احاطہ کررکھا ہے،
یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر آبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ،
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ جزیرہ ٔعرب سے کافروں اور یہودو نصاری کو باہر نکال دیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس پر پوری طرح عمل نہ کیاجا سکا،
لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خواہش کو کہ عرب میں دودین نہ رہیں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے جلاوطن کردیا۔
وضاحت:
1؎:
جزیرہ عرب وہ حصہ ہے جسے بحر ہند،
بحر ِ احمر،
بحرشام ودجلہ اور فرات نے احاطہ کررکھا ہے،
یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر آبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ،
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ جزیرہ ٔعرب سے کافروں اور یہودو نصاری کو باہر نکال دیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس پر پوری طرح عمل نہ کیاجا سکا،
لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خواہش کو کہ عرب میں دودین نہ رہیں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے جلاوطن کردیا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1606]
جابر بن عبد الله الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي