سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ما جاء في إكرام صديق الوالد
باب: باپ کے دوست کی عزت و تکریم کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1903
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أَسِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سب سے بہتر سلوک اور سب سے اچھا برتاؤ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ سند صحیح ہے، یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما سے کئی سندوں سے آئی ہے،
۲- اس باب میں ابواسید رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1903]
۱- یہ سند صحیح ہے، یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما سے کئی سندوں سے آئی ہے،
۲- اس باب میں ابواسید رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البر والصلة 4 (2552)، سنن ابی داود/ الأدب 129 (5143)، (تحفة الأشراف: 7259) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، الضعيفة (2089)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6514
| أبر البر صلة الولد أهل ود أبيه |
صحيح مسلم |
6515
| أبر البر صلة الرجل أهل ود أبيه بعد أن يولي |
جامع الترمذي |
1903
| أبر البر أن يصل الرجل أهل ود أبيه |
سنن أبي داود |
5143
| أبر البر صلة المرء أهل ود أبيه بعد أن يولي |
عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي