صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب فضل صلة اصدقاء الاب والام ونحوهما:
باب: ماں باپ کے دوستوں کے ساتھ سلوک کر نے کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2552 ترقیم شاملہ: -- 6515
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ كَانَ لَهُ حِمَارٌ يَتَرَوَّحُ عَلَيْهِ إِذَا مَلَّ رُكُوبَ الرَّاحِلَةِ، وَعِمَامَةٌ يَشُدُّ بِهَا رَأْسَهُ، فَبَيْنَا هُوَ يَوْمًا عَلَى ذَلِكَ الْحِمَارِ إِذْ مَرَّ بِهِ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: أَلَسْتَ ابْنَ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ؟ قَالَ: بَلَى، فَأَعْطَاهُ الْحِمَارَ، وَقَالَ: ارْكَبْ هَذَا وَالْعِمَامَةَ، قَالَ: اشْدُدْ بِهَا رَأْسَكَ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ أَعْطَيْتَ هَذَا الْأَعْرَابِيَّ حِمَارًا، كُنْتَ تَرَوَّحُ عَلَيْهِ وَعِمَامَةً كُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَأْسَكَ، فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ صِلَةَ الرَّجُلِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ "، وَإِنَّ أَبَاهُ كَانَ صَدِيقًا لِعُمَرَ.
ابراہیم بن سعد اور لیث بن سعد دونوں نے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کی کہ وہ مکہ مکرمہ کے لیے نکلتے تو جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے تو ان کا گدھا (ساتھ ہوتا) تھا جس پر وہ سہولت کے لیے سواری کرتے۔ اور ایک عمامہ (ہوتا) تھا جو اپنے سر پر باندھتے تھے۔ تو ایسا ہوا کہ ایک دن وہ اس گدھے پر سوار تھے کہ ایک بادیہ نشیں ان کے قریب سے گزرا، انہوں نے اس سے کہا: تم فلاں بن فلاں کے بیٹے نہیں ہو؟ اس نے کہا: کیوں نہیں (اسی کا بیٹا ہوں) تو انہوں نے گدھا اس کو دے دیا اور کہا: اس پر سوار ہو جاؤ اور عمامہ (بھی) اسے دے کر کہا: اسے سر پر باندھ لو۔ تو ان کے کسی ساتھی نے ان سے کہا: اللہ آپ کی مغفرت کرے! آپ نے اس بدو کو وہ گدھا بھی دے دیا جس پر آپ سہولت (تکان اتارنے) کے لیے سواری کرتے تھے اور عمامہ بھی دے دیا جو اپنے سر پر باندھتے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”والدین کے ساتھ بہترین سلوک میں سے یہ (بھی) ہے کہ جب اس کا والد رخصت ہو جائے تو اس کے ساتھ محبت کا رشتہ رکھنے والے آدمی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔“ اور اس کا والد (میرے والد) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6515]
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ جب وہ مکہ کے سفر پر روانہ ہوئے تو ان کے ساتھ ایک گدھا ہوتا، جب وہ اونٹ کی سواری سے اکتا جاتے تو اس پر سوار ہو کر آرام حاصل کرتے اور ایک پگڑی تھی جسے اپنے سر پر باندھتے تھے، ایک دن وہ اس گدھے پر سوار تھے کہ اس دوران ان کے پاس سے ایک بدوی گزرا، چنانچہ انہوں نے پوچھا: کیا تم فلاں بن فلاں کے بیٹے نہیں ہو؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، تو انہوں نے اسے اپنا گدھا دے دیا اور فرمایا: اس پر سوار ہو جا، اور پگڑی دی کہ اسے اپنے سر پر باندھ لو، تو انہیں ان کے بعض احباب نے کہا: اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ نے اس بدو کو وہ گدھا دے دیا ہے جس پر آپ راحت حاصل کرتے تھے اور وہ پگڑی عنایت فرما دی ہے جسے اپنے سر پر باندھتے تھے، تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”حسن سلوک کی ایک اعلیٰ قسم یہ ہے کہ باپ کے انتقال کے بعد انسان اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ (احترام و تکریم) کا تعلق رکھے۔“ اور اس کا باپ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب البر والصلة والآداب/حدیث: 6515]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2552
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6514
| أبر البر صلة الولد أهل ود أبيه |
صحيح مسلم |
6515
| أبر البر صلة الرجل أهل ود أبيه بعد أن يولي |
جامع الترمذي |
1903
| أبر البر أن يصل الرجل أهل ود أبيه |
سنن أبي داود |
5143
| أبر البر صلة المرء أهل ود أبيه بعد أن يولي |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 6515 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6515
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
يتروح عليه:
اس پر راحت و سکون حاصل کرتے۔
(2)
بعد ان يولي:
جب وہ پشت پھیر جائے،
غائب ہو یا فوت ہو جائے۔
مفردات الحدیث:
(1)
يتروح عليه:
اس پر راحت و سکون حاصل کرتے۔
(2)
بعد ان يولي:
جب وہ پشت پھیر جائے،
غائب ہو یا فوت ہو جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6515]
Sahih Muslim Hadith 6515 in Urdu
عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي