سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. باب ما جاء في فضل المملوك الصالح
باب: نیک سیرت غلام کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1985
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نِعِمَّا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يُطِيعَ رَبَّهُ وَيُؤَدِّيَ حَقَّ سَيِّدِهِ "، يَعْنِي: الْمَمْلُوكَ، وَقَالَ كَعْبٌ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے لیے کیا ہی اچھا ہے کہ اپنے رب کی اطاعت کریں اور اپنے مالک کا حق ادا کریں“، آپ کے اس فرمان کا مطلب لونڈی و غلام سے تھا ۱؎۔ کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1985]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1985]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12388) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا وہ غلام اور لونڈی جو رب العالمین کی عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے مالک کے جملہ حقوق کو اچھی طرح سے ادا کریں ان کے لیے دو گنا ثواب ہے، ایک رب کی عبادت کا دوسرا مالک کا حق ادا کرنے کا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، التعليق الرغيب (3 / 159)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2549
| نعما لأحدهم يحسن عبادة ربه وينصح لسيده |
صحيح البخاري |
2548
| للعبد المملوك الصالح أجران |
صحيح مسلم |
4320
| للعبد المملوك المصلح أجران |
صحيح مسلم |
4322
| إذا أدى العبد حق الله وحق مواليه كان له أجران |
صحيح مسلم |
4324
| نعما للمملوك أن يتوفى يحسن عبادة الله وصحابة سيده نعما له |
جامع الترمذي |
1985
| نعما لأحدهم أن يطيع ربه ويؤدي حق سيده |
صحيفة همام بن منبه |
119
| نعما للمملوك أن يتوفاه الله بحسن طاعة ربه وطاعة سيده نعما له نعما له |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1985 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1985
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
گویا وہ غلام اور لونڈی جو رب العالمین کی عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے مالک کے جملہ حقوق کو اچھی طرح سے ادا کریں ان کے لیے دوگنا ثواب ہے،
ایک رب کی عبادت کا دوسرا مالک کا حق اداکرنے کا۔
وضاحت:
1؎:
گویا وہ غلام اور لونڈی جو رب العالمین کی عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے مالک کے جملہ حقوق کو اچھی طرح سے ادا کریں ان کے لیے دوگنا ثواب ہے،
ایک رب کی عبادت کا دوسرا مالک کا حق اداکرنے کا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1985]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2548
2548. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیک غلام کے لیے دوہرا ثواب ہے۔“ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اگر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اور حج بیت اللہ نیز والدہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا نہ ہوتا تو میں یہ پسند کرتا کہ میں کسی کا مملوک (غلام) رہ کر مرتا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2548]
حدیث حاشیہ:
حضرت ابوہریرہ ؓ کا مطلب یہ ہے کہ غلام پر جہاد فرض نہیں ہے، اسی طرح حج اور وہ بغیر اپنے مالک کی اجازت کے جہاد اور حج کے لیے جا بھی نہیں سکتا۔
اسی طرح اپنی ماں کی خدمت بھی آزادی کے ساتھ نہیں کرسکتا۔
اس لیے اگر یہ باتیں نہ ہوتیں تو میں آزادی کی نسبت کسی کا غلام رہنا زیادہ پسند کرتا۔
قال ابن بطال هو من قول أبي هریرة و کذلك قاله الداودي وغیرہ أنه مدرج في الحدیث و قد صرح بالإدراج الإسماعیلي من طریق آخر عن عبداﷲ بن المبارك بلفظ والذي نفس أبي هریرة بیدہ الخ و صرح مسلم أیضا بذلك۔
(حاشیہ بخاری)
یعنی یہ قول حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کا ہے۔
عبداللہ بن مبارک سے صراحتاً یہ آیا ہے اور مسلم میں بھی یہ صراحت موجود ہے۔
واللہ أعلم
حضرت ابوہریرہ ؓ کا مطلب یہ ہے کہ غلام پر جہاد فرض نہیں ہے، اسی طرح حج اور وہ بغیر اپنے مالک کی اجازت کے جہاد اور حج کے لیے جا بھی نہیں سکتا۔
اسی طرح اپنی ماں کی خدمت بھی آزادی کے ساتھ نہیں کرسکتا۔
اس لیے اگر یہ باتیں نہ ہوتیں تو میں آزادی کی نسبت کسی کا غلام رہنا زیادہ پسند کرتا۔
قال ابن بطال هو من قول أبي هریرة و کذلك قاله الداودي وغیرہ أنه مدرج في الحدیث و قد صرح بالإدراج الإسماعیلي من طریق آخر عن عبداﷲ بن المبارك بلفظ والذي نفس أبي هریرة بیدہ الخ و صرح مسلم أیضا بذلك۔
(حاشیہ بخاری)
یعنی یہ قول حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کا ہے۔
عبداللہ بن مبارک سے صراحتاً یہ آیا ہے اور مسلم میں بھی یہ صراحت موجود ہے۔
واللہ أعلم
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2548]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2548
2548. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیک غلام کے لیے دوہرا ثواب ہے۔“ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اگر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اور حج بیت اللہ نیز والدہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا نہ ہوتا تو میں یہ پسند کرتا کہ میں کسی کا مملوک (غلام) رہ کر مرتا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2548]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث پر ایک اعتراض ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صغر سنی ہی میں وفات پا گئی تھیں تو حدیث کے مطابق اپنی ماں سے نیکی کرنے کے کیا معنی ہیں؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ مذکورہ کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں بلکہ یہ حضرت ابو ہریرہؓ کا مقولہ ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نیک اور صالح غلام کو دوہرا اجر ملتا ہے“ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں ابو ہریرہ کی جان ہے! اگر اللہ کی راہ میں جہاد اور حج نہ ہوتا، نیز والدہ سے نیک کرنا ضروری نہ ہوتا تو میری خواہش یہی تھی کہ میں غلامی میں فوت ہوتا۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 4320(1665)
۔
2۔
حضرت ابو ہریرہؓ کا مطلب ہے کہ غلام پر جہاد فرض نہیں ہے اسی طرح حج کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل نہیں ہے، ماں کی خدمت بھی آزادی سے نہیں کر سکتا، اس لیے اگر یہ باتیں نہ ہوتیں تو میں آزادی کی نسبت کسی کا غلام رہنا پسند کرتا۔
(فتح الباري: 217/5)
1۔
اس حدیث پر ایک اعتراض ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صغر سنی ہی میں وفات پا گئی تھیں تو حدیث کے مطابق اپنی ماں سے نیکی کرنے کے کیا معنی ہیں؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ مذکورہ کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں بلکہ یہ حضرت ابو ہریرہؓ کا مقولہ ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”نیک اور صالح غلام کو دوہرا اجر ملتا ہے“ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں ابو ہریرہ کی جان ہے! اگر اللہ کی راہ میں جہاد اور حج نہ ہوتا، نیز والدہ سے نیک کرنا ضروری نہ ہوتا تو میری خواہش یہی تھی کہ میں غلامی میں فوت ہوتا۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 4320(1665)
۔
2۔
حضرت ابو ہریرہؓ کا مطلب ہے کہ غلام پر جہاد فرض نہیں ہے اسی طرح حج کرنا بھی اس کے فرائض میں شامل نہیں ہے، ماں کی خدمت بھی آزادی سے نہیں کر سکتا، اس لیے اگر یہ باتیں نہ ہوتیں تو میں آزادی کی نسبت کسی کا غلام رہنا پسند کرتا۔
(فتح الباري: 217/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2548]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2549
2549. حضرت ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کتنااچھا ہے کسی کا وہ غلام جو اپنے رب کی عبادت اچھی طرح کرتا ہے اور اپنے آقا کی خیر خواہی بھی کرتا ہے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2549]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں آقاؤں کو اپنے لونڈی غلاموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی تلقین فرمائی ہے وہاں لونڈی غلاموں سے توقع رکھی ہے کہ وہ اسلامی فرائض کی ادائیگی کے بعد اپنے آقاؤں کی خیرخواہی کو اہم فریضہ خیال کریں، ان کے ساتھ وفاداری کریں اور انہیں تکلیف پہنچانے کا تصور تک نہ کریں۔
اگر وہ ان تعلیمات پر عمل کریں گے تو اللہ کے ہاں دوگنا اجر پائیں گے۔
ایسے غلاموں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف کی ہے جیسا کہ حدیث مذکور میں ہے۔
واللہ أعلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں آقاؤں کو اپنے لونڈی غلاموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی تلقین فرمائی ہے وہاں لونڈی غلاموں سے توقع رکھی ہے کہ وہ اسلامی فرائض کی ادائیگی کے بعد اپنے آقاؤں کی خیرخواہی کو اہم فریضہ خیال کریں، ان کے ساتھ وفاداری کریں اور انہیں تکلیف پہنچانے کا تصور تک نہ کریں۔
اگر وہ ان تعلیمات پر عمل کریں گے تو اللہ کے ہاں دوگنا اجر پائیں گے۔
ایسے غلاموں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف کی ہے جیسا کہ حدیث مذکور میں ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2549]
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي