سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. باب ما جاء في فضل المملوك الصالح
باب: نیک سیرت غلام کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1986
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ، أُرَاهُ قَالَ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ: عَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ، وَرَجُلٌ يُنَادِي بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ إِلا مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَأَبُو الْيَقْظَانِ اسْمُهُ عُثْمَانُ بْنُ قَيْسٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ أَشْهَرُ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمی مشک کے ٹیلے پر ہوں گے، قیامت کے دن، پہلا وہ غلام جو اللہ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں، اور تیسرا وہ آدمی جو رات اور دن میں نماز کے لیے پانچ بار بلاتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں،
۲- ابوالیقظان کا نام عثمان بن قیس ہے، انہیں عثمان بن عمیر بھی کہا جاتا ہے اور یہی مشہور ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1986]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں،
۲- ابوالیقظان کا نام عثمان بن قیس ہے، انہیں عثمان بن عمیر بھی کہا جاتا ہے اور یہی مشہور ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1986]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف وأعادہ في صفة الجنة 25 (2566) (تحفة الأشراف: 6718)، وانظر مسند احمد (2/26) (ضعیف) (سند میں أبوالیقظان ضعیف، مختلط اور مدلس راوی ہے، اور تشیع میں بھی غالی ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اذان دیتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (666) // ضعيف الجامع الصغير (2579) ، وسيأتي برقم (470 / 2705) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1986) إسناده ضعيف /يأتي 2566
أبو اليقظان عثمان بن عمير : ضعيف (تقدم:126)
أبو اليقظان عثمان بن عمير : ضعيف (تقدم:126)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥زاذان الكندي، أبو عبد الله، أبو عمر زاذان الكندي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة | |
👤←👥عثمان بن عمير البجلي، أبو اليقظان عثمان بن عمير البجلي ← زاذان الكندي | ضعيف الحديث | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عثمان بن عمير البجلي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب محمد بن العلاء الهمداني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1986
| ثلاثة على كثبان المسك عبد أدى حق الله وحق مواليه رجل أم قوما وهم به راضون رجل ينادي بالصلوات الخمس في كل يوم وليلة |
جامع الترمذي |
2566
| ثلاثة على كثبان المسك أره قال يوم القيامة يغبطهم الأولون والآخرون رجل ينادي بالصلوات الخمس في كل يوم وليلة رجل يؤم قوما وهم به راضون عبد أدى حق الله وحق مواليه |
المعجم الصغير للطبراني |
1130
| ثلاثة لا يهولهم الفزع الأكبر ولا ينالهم الحساب هم على كثيب من مسك حتى يفرغ من حساب الخلائق : رجل قرأ القرآن ابتغاء وجه الله وأم به قوما وهم يرضون به ، وداع يدعو إلى الصلوات الخمس ابتغاء وجه الله ، وعبد أحسن فيما بينه وبين ربه وفيما بينه وبين مواليه |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1986 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1986
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
یعنی اذان دیتاہے۔
نوٹ:
(سند میں أبوالیقظان ضعیف،
مختلط اور مدلس راوی ہے،
اور تشیع میں بھی غالی ہے)
وضاحت: 1 ؎:
یعنی اذان دیتاہے۔
نوٹ:
(سند میں أبوالیقظان ضعیف،
مختلط اور مدلس راوی ہے،
اور تشیع میں بھی غالی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1986]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2566
باب:۔۔۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلے پر ہوں گے“، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن، ان پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے: ایک وہ آدمی جو رات دن میں پانچ وقت نماز کے لیے اذان دے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرتا ہو اور وہ اس سے راضی ہوں اور تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2566]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلے پر ہوں گے“، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے فرمایا: ”قیامت کے دن، ان پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے: ایک وہ آدمی جو رات دن میں پانچ وقت نماز کے لیے اذان دے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرتا ہو اور وہ اس سے راضی ہوں اور تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے۔“ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2566]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابوالیقظان ضعیف مدلس اور مختلط راوی ہے،
تشیع میں بھی غالی ہے)
نوٹ:
(سند میں ابوالیقظان ضعیف مدلس اور مختلط راوی ہے،
تشیع میں بھی غالی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2566]
زاذان الكندي ← عبد الله بن عمر العدوي