الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. باب ما جاء من أين يخرج الدجال
باب: دجال کہاں سے نکلے گا؟
حدیث نمبر: 2237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الدَّجَّالُ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ، يُقَالُ لَهَا: خُرَاسَانُ، يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي التَّيَّاحِ.
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”دجال مشرق (پورب) میں ایک جگہ سے نکلے گا جسے خراسان کہا جاتا ہے، اس کے پیچھے ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- عبداللہ بن شوذب اور کئی لوگوں نے اسے ابوالتیاح سے روایت کیا ہے، ہم اسے صرف ابوتیاح کی روایت سے جانتے ہیں،
۳- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2237]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- عبداللہ بن شوذب اور کئی لوگوں نے اسے ابوالتیاح سے روایت کیا ہے، ہم اسے صرف ابوتیاح کی روایت سے جانتے ہیں،
۳- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الفتن 33 (4072) (تحفة الأشراف: 6614) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دجال کی پیروی کرنے والے چوڑے چہرے اور ابھرے رخسار والے ہوں گے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ (ملک ایران کے شہر) اصفہان کے ستر ہزار یہودی دجال کا لشکر بن کر نکلیں گے اور ان پر کالے لباس ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (4072)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2237
| الدجال يخرج من أرض بالمشرق يقال لها خراسان يتبعه أقوام كأن وجوههم المجان المطرقة |
سنن ابن ماجه |
4072
| الدجال يخرج من أرض بالمشرق يقال لها خراسان يتبعه أقوام كأن وجوههم المجان المطرقة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2237 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2237
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی دجال کی پیروی کرنے والے چوڑے چہرے اور ابھرے رخسار والے ہوں گے۔
صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ (ملکِ ایران کے شہر) اصفہان کے ستر ہزار یہود ی دجال کا لشکر بن کر نکلیں گے اور ان پر کالے لباس ہوں گے۔
وضاحت:
1؎:
یعنی دجال کی پیروی کرنے والے چوڑے چہرے اور ابھرے رخسار والے ہوں گے۔
صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ (ملکِ ایران کے شہر) اصفہان کے ستر ہزار یہود ی دجال کا لشکر بن کر نکلیں گے اور ان پر کالے لباس ہوں گے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2237]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4072
فتنہ دجال، عیسیٰ بن مریم اور یاجوج و ماجوج کے ظہور کا بیان۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان کی: ”دجال مشرق (پورب) کے ایک ملک سے ظاہر ہو گا، جس کو «خراسان» کہا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے گویا تہ بہ تہ ڈھال ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4072]
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان کی: ”دجال مشرق (پورب) کے ایک ملک سے ظاہر ہو گا، جس کو «خراسان» کہا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے گویا تہ بہ تہ ڈھال ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4072]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جس علاقے کو ماضی میں ”خراسان“ کہا جاتا تھا اس میں اکثرحصہ موجودہ ایران کا اور روس سے آزاد ہونے والی ریاستوں کا ہے جو افغانستان کے شمال میں واقع ہیں۔
(2)
چمڑے کی تہ دار ڈھال کی طرح چپٹے چہرے والے لوگ چین میں تبت میں پاکستان کے شمالی علاقوں (گلگت بلستان وغیرہ)
میں اور جاپان میں پائے جاتے ہیں۔
حدیث میں انھی علاقوں میں سے کسی علاقے کے باشندے مراد ہوسکتے ہیں۔
ممکن ہے خراسان کے بعض علاقوں کے لوگ بھی ایسے ہوتے ہوں۔
واللہ اعلم
فوائد و مسائل:
(1)
جس علاقے کو ماضی میں ”خراسان“ کہا جاتا تھا اس میں اکثرحصہ موجودہ ایران کا اور روس سے آزاد ہونے والی ریاستوں کا ہے جو افغانستان کے شمال میں واقع ہیں۔
(2)
چمڑے کی تہ دار ڈھال کی طرح چپٹے چہرے والے لوگ چین میں تبت میں پاکستان کے شمالی علاقوں (گلگت بلستان وغیرہ)
میں اور جاپان میں پائے جاتے ہیں۔
حدیث میں انھی علاقوں میں سے کسی علاقے کے باشندے مراد ہوسکتے ہیں۔
ممکن ہے خراسان کے بعض علاقوں کے لوگ بھی ایسے ہوتے ہوں۔
واللہ اعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4072]
عمرو بن حريث القرشي ← أبو بكر الصديق