🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. باب ما جاء في علامة الدجال
باب: دجال کی نشانیوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2236
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُقَاتِلُكُمْ الْيَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ: يَا مُسْلِمُ، هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود تم سے لڑیں گے اور تم ان پر غالب ہو جاؤ گے یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! میرے پیچھے یہ یہودی ہے اسے قتل کر دو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 6961) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دیگر احادیث کے مطالعہ سے اس ضمن میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسا مہدی اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام کے دور میں جاری جہاد کے وقت ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3593
تقاتلكم اليهود فتسلطون عليهم ثم يقول الحجر يا مسلم هذا يهودي ورائي فاقتله
صحيح البخاري
2925
تقاتلون اليهود حتى يختبي أحدهم وراء الحجر فيقول يا عبد الله هذا يهودي ورائي فاقتله
صحيح مسلم
7337
تقتتلون أنتم ويهود حتى يقول الحجر يا مسلم هذا يهودي ورائي تعال فاقتله
صحيح مسلم
7335
تقاتلن اليهود فلتقتلنهم حتى يقول الحجر يا مسلم هذا يهودي فتعال فاقتله
صحيح مسلم
7338
تقاتلكم اليهود فتسلطون عليهم حتى يقول الحجر يا مسلم هذا يهودي ورائي فاقتله
جامع الترمذي
2236
تقاتلكم اليهود فتسلطون عليهم حتى يقول الحجر يا مسلم هذا يهودي ورائي فاقتله
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2236 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2236
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
دیگراحادیث کے مطالعہ سے اس ضمن میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسا مہدی اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام کے دور میں جاری جہاد کے وقت ہوگا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2236]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3593
3593. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم سے یہودی جنگ کریں گے اور تم اس جنگ میں ان پر غالب آجاؤ گے یہاں تک کہ پتھر بول کرکہے گا: اےمسلمان!یہ یہودی میری آڑ میں چھپا ہوا ہے آؤ اور اسے قتل کرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3593]
حدیث حاشیہ:
یہ اس وقت ہوگا جب عیسیٰ ؑ اتریں گے اور یہودی لوگ دجال کے لشکری ہوں گے۔
حضرت عیسیٰ ؑ باب لد کے پاس دجال کو ماریں گے اور اس کے لشکر والے جابجا مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3593]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3593
3593. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم سے یہودی جنگ کریں گے اور تم اس جنگ میں ان پر غالب آجاؤ گے یہاں تک کہ پتھر بول کرکہے گا: اےمسلمان!یہ یہودی میری آڑ میں چھپا ہوا ہے آؤ اور اسے قتل کرو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3593]
حدیث حاشیہ:

مسند امام احمد میں اس حدیث کی تفصیل بیان ہوئی ہے کہ مسیح الدجال مدینہ طیبہ سے باہر ایک شوریلی زمین میں پڑاؤ کرے گا۔
وہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس پر مسلط کرے گا حتی کہ وہاں اس کے پیرو کار قتل ہو جائیں گے یہودی پتھروں اور درختوں کی اوٹ میں چھپتے پھیریں گے۔
اس وقت درخت اور پتھر بول کر کہیں گے۔
اے مسلمان!میرے پیچھے یہودی چھپا بیٹھا ہےاسے قتل کرو۔
(مسند أحمد: 67/2)
سنن ابن ماجہ میں ان الفاظ کا اضافہ ہے دجال کے ساتھ اس وقت ستر ہزار یہودی ہوں گے حضرت عیسیٰ ؑ " اب لد"کے پاس دجال کو قتل کریں گے اس طرح یہودیوں کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
(سنن ابن ماجة، الفتن، حدیث: 4077)

اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیش گوئی کا بیان ہے جو قرب قیامت پوری ہو گی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3593]