سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب منه
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2470
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُمْ ذَبَحُوا شَاةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَقِيَ مِنْهَا؟ " قَالَتْ: مَا بَقِيَ مِنْهَا إِلَّا كَتِفُهَا، قَالَ: " بَقِيَ كُلُّهَا غَيْرَ كَتِفِهَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مَيْسَرَةَ هُوَ الْهَمْدَانِيُّ اسْمُهُ: عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک بکری ذبح کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”اس میں سے کچھ باقی ہے؟“ عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: دستی کے سوا اور کچھ نہیں باقی ہے، آپ نے فرمایا: ”دستی کے سوا سب کچھ باقی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2470]
یہ حدیث صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 17419) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مفہوم یہ ہے کہ ذبح کی گئی بکری کا جتنا حصہ غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یہی صدقہ کیا ہوا مال درحقیقت باقی ہے، رہا وہ حصہ جو تمہارے پاس ہے وہ باقی نہیں ہے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ رب العالمین کے اس فرمان کی طرف ہے، «ماعندكم ينفد وما عند الله باق» ”جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والا ہے، اور رب العالمین کے پاس جو کچھ ہے وہ باقی رہنے والا ہے“۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (2544)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عمرو بن شرحبيل الهمداني، أبو ميسرة عمرو بن شرحبيل الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة | |
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق أبو إسحاق السبيعي ← عمرو بن شرحبيل الهمداني | ثقة مكثر | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أبو إسحاق السبيعي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2470
| ذبحوا شاة فقال النبي ما بقي منها قالت ما بقي منها إلا كتفها قال بقي كلها غير كتفها |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 2470 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2470
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ ذبح کی گئی بکری کا جتنا حصہ غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کردیاگیا ہے۔
یہی صدقہ کیا ہوا مال در حقیقت باقی ہے،
رہا وہ حصہ جو تمہارے پاس ہے وہ باقی نہیں ہے،
اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ رب العالمین کے اس فرمان کی طرف ہے،
﴿مَاعِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللهِ بَاقٍ﴾ جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے وا لا ہے،
اور رب العالمین کے پاس جو کچھ ہے و ہ باقی رہنے والا ہے۔
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ ذبح کی گئی بکری کا جتنا حصہ غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کردیاگیا ہے۔
یہی صدقہ کیا ہوا مال در حقیقت باقی ہے،
رہا وہ حصہ جو تمہارے پاس ہے وہ باقی نہیں ہے،
اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ رب العالمین کے اس فرمان کی طرف ہے،
﴿مَاعِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللهِ بَاقٍ﴾ جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے وا لا ہے،
اور رب العالمین کے پاس جو کچھ ہے و ہ باقی رہنے والا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2470]
عمرو بن شرحبيل الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق