🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب ومن سورة التوبة
باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3099
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:" تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ، وَقَالَ الْآخَرُ: هُوَ مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ مَسْجِدِي هَذَا"، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، وَرَوَاهُ أُنَيْسُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس مسجد کے بارے میں اختلاف کر بیٹھے جس کی تاسیس و تعمیر پہلے دن سے تقویٰ پر ہوئی ہے ۱؎ (کہ وہ کون سی ہے؟) ایک شخص نے کہا: وہ مسجد قباء ہے اور دوسرے نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔ تب آپ نے فرمایا: وہ میری یہی مسجد (مسجد نبوی) ہے ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عمران بن ابی انس کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- یہ حدیث ابو سعید خدری سے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی مروی ہے،
۳- اسے انیس بن ابی یحییٰ نے اپنے والد سے اور ان کے والد ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المناسک 96 (1398) (تحفة الأشراف: 4118) (تحفة الأشراف: 12309) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ ارشاد باری «لمسجد أسس على التقوى من أول يوم» (التوبہ: ۱۰۸) کی طرف اشارہ ہے۔
۲؎: اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے یا مسجد قباء اس حدیث میں ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے، جبکہ دوسری حدیث میں ہے کہ وہ مسجد قباء ہے، اور آیت کے سیاق و سباق سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ وہ مسجد قباء ہے، تو اس حدیث میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ یہی مسجد نبوی ہے کا کیا جواب ہے؟ جواب یہ ہے کہ آپ کے جواب کا مطلب صرف اتنا ہے کہ میری اس مسجد کی بھی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد پڑی ہے، علماء کی توجیہات کا یہی خلاصہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥سمعان الأسلمي، أبو يحيى
Newسمعان الأسلمي ← أبو سعيد الخدري
صدوق حسن الحديث
👤←👥أنس بن أبي يحيى الأسلمي، أبو يونس
Newأنس بن أبي يحيى الأسلمي ← سمعان الأسلمي
ثقة
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد
Newأبو سعيد الخدري ← أنس بن أبي يحيى الأسلمي
صحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري، أبو محمد، أبو حفص، أبو جعفر
Newعبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥عمران بن أبي أنس القرشي
Newعمران بن أبي أنس القرشي ← عبد الرحمن بن أبي سعيد الخدري
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← عمران بن أبي أنس القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
698
هو مسجدي هذا
صحيح مسلم
3387
هو مسجدكم هذا لمسجد المدينة
جامع الترمذي
3099
هو مسجدي هذا
جامع الترمذي
323
هو مسجد رسول الله وقال الآخر هو مسجد قباء فأتيا رسول الله في ذلك فقال هو هذا يعني مسجده وفي ذلك خير كثير
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3099 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3099
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ ارشادباری  ﴿لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ﴾  (التوبة: 108) کی طرف اشارہ ہے۔

2؎:
اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے یا مسجد قباء اس حدیث میں ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے،
جبکہ دوسری حدیث میں ہے کہ وہ مسجد قباء ہے،
اورآیت کے سیاق و سباق سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ وہ مسجد قباء ہے،
تو اس حدیث میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ یہی مسجد نبوی ہے کا کیا جواب ہے؟ جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کا مطلب صرف اتنا ہے کہ میری اس مسجد کی بھی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد پڑی ہے،
علماء کی توجیہات کا یہی خلاصہ ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3099]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 698
تقویٰ اور اخلاص کی بنیاد پر بنائی جانے والی مسجد کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس بارے میں لڑ پڑے کہ وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، تو ایک شخص نے کہا: یہ مسجد قباء ہے، اور دوسرے نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری یہ مسجد ہے (یعنی مسجد نبوی)۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 698]
698 ۔ اردو حاشیہ: اہل تفسیر کے مطابق «لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى» [التوبة 108: 9]
سے مراد مسجد قباء ہے کیونکہ یہ شان نزول کے زیادہ موافق ہے مگر اس حدیث کی رو سے اس سے مراد مسجد نبوی ہے۔ دراصل دونوں مسجدیں ان الفاظ کا مصداق ہیں کیونکہ دونوں مسجدوں کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی ہے اور ظاہر ہے دونوں کی بنیاد لازماً تقویٰ پر ہے مگر چونکہ مسجد نبوی کی باقی تعمیر بھی آپ نے فرمائی اور آپ کی باقی زندگی اسی مسجد میں گزری، اسی مسجد کو آپ کے شب و روز سے برکتیں حاصل ہوئیں، لہٰذا یہ مسجد ہی زیادہ مستحق ہے کہ اسے اس کا مصداق قرار دیا جائے، البتہ مسجد قباء کو بھی ہفتے کے بعد کچھ دیر کے لیے آپ کی زیارت اور قدم بوسی نصیب ہوتی تھی، لہٰذا اس میں بھی خیر کثیر ہے۔ تبھی تو وہاں بھی نمازیوں کا ہر وقت ہجوم رہتا ہے، اگرچہ مسجد نبوی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 698]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 323
اس مسجد کا بیان جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی خدرہ کے ایک شخص اور بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص کے درمیان بحث ہو گئی کہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ۱؎ تو خدری نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد (یعنی مسجد نبوی) ہے، دوسرے نے کہا: وہ مسجد قباء ہے، چنانچہ وہ دونوں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: وہ یہ مسجد ہے، یعنی مسجد نبوی اور اس میں (یعنی مسجد قباء میں) بھی بہت خیر و برکت ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 323]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی سورہ توبہ میں ارشاد الٰہی ﴿لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ﴾ سے کون سی مسجد مراد ہے؟۔

2؎:
یہ حدیث صرف اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہے کہ  ﴿لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى﴾ سے مراد مسجد نبوی ہی ہے،
بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس مسجد نبوی کی بھی تقوی پر ہی بنیاد ہے،
یہ مطلب لوگوں نے اس لیے لیا ہے کہ قرآن میں سیاق و سباق سے صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ ارشاد ربانی مسجد قباء کے بارے میں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 323]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 3099 in Urdu