الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء في فضل الدعاء
باب: دعا کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3370
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنَ الدُّعَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، وَعِمْرَانُ الْقَطَّانُ هُوَ ابْنُ دَاوَرَ وَيُكْنَى أَبَا الْعَوَّامِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم کوئی چیز (عبادت) نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں، عمران القطان یہ ابن داور ہیں اور ان کی کنیت ابوالعوام ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3370]
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں، عمران القطان یہ ابن داور ہیں اور ان کی کنیت ابوالعوام ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3370]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدعاء 1 (3829) (تحفة الأشراف: 12938) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ بندہ رب العالمین کی طاقت و قدرت کے سامنے دعا کرتے وقت اپنی انتہائی بے بسی اور عاجزی و محتاجگی کا اظہار کرتا ہے، اس لیے اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز و مکرم چیز (عبادت) کوئی نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (3829)
قال الشيخ زبير على زئي:(3370) إسناده ضعيف / جه 3829
قتادة عنعن (تقدم:30)
قتادة عنعن (تقدم:30)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن يسار الأنصاري سعيد بن يسار الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← سعيد بن يسار الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥عمران بن داور العمي، أبو العوام عمران بن داور العمي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ورمي برأي الخوارج، صدوق يهم | |
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود أبو داود الطيالسي ← عمران بن داور العمي | ثقة حافظ غلط في أحاديث | |
👤←👥العباس بن عبد العظيم العنبري، أبو الفضل العباس بن عبد العظيم العنبري ← أبو داود الطيالسي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3370
| ليس شيء أكرم على الله من الدعاء |
سنن ابن ماجه |
3829
| ليس شيء أكرم على الله من الدعاء |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3370 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3370
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیوں کہ بندہ رب العالمین کی طاقت و قدرت کے سامنے دعا کرتے وقت اپنی انتہائی بے بسی اور عاجز ی ومحتاجگی کا اظہارکرتا ہے،
اس لیے اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز ومکرم چیز (عبادت) کوئی نہیں ہے۔
وضاحت:
1؎:
کیوں کہ بندہ رب العالمین کی طاقت و قدرت کے سامنے دعا کرتے وقت اپنی انتہائی بے بسی اور عاجز ی ومحتاجگی کا اظہارکرتا ہے،
اس لیے اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ معزز ومکرم چیز (عبادت) کوئی نہیں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3370]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3829
دعا کی فضیلت۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ لائق قدر کوئی چیز نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3829]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ لائق قدر کوئی چیز نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3829]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے اور اس پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحسین حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 14/ 360، 361)
(2)
دعا کے ذریعے سے اللہ کے ہاں عزت اور رفعت حاصل ہوتی ہے۔
(3)
دوسرے اعمال کے ذریعے سے بھی اللہ کے ہاں بلند مقام حاصل ہوتا ہے لیکن ان کے ساتھ بھی دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔
(4)
اعمال کی قبولیت کے لیے اللہ سے دعا کی جاتی ہے، اس لیے بھی دعا کو اہمیت حاصل ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے اور اس پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحسین حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 14/ 360، 361)
(2)
دعا کے ذریعے سے اللہ کے ہاں عزت اور رفعت حاصل ہوتی ہے۔
(3)
دوسرے اعمال کے ذریعے سے بھی اللہ کے ہاں بلند مقام حاصل ہوتا ہے لیکن ان کے ساتھ بھی دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔
(4)
اعمال کی قبولیت کے لیے اللہ سے دعا کی جاتی ہے، اس لیے بھی دعا کو اہمیت حاصل ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3829]
حدیث نمبر: 3370M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
عبدالرحمٰن بن مہدی نے عمران القطان سے اسی طرح اسی سند سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3370M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (3829)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمران بن داور العمي، أبو العوام | ورمي برأي الخوارج، صدوق يهم | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← عمران بن داور العمي | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ |
سعيد بن يسار الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي