سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب ما جاء في رفع الأيدي عند الدعاء
باب: دعا کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3386
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عِيسَى الْجُهَنِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ لَمْ يَحُطَّهُمَا حَتَّى يَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ "، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى فِي حَدِيثِهِ: لَمْ يَرُدَّهُمَا حَتَّى يَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ عِيسَى، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِهِ وَهُوَ قَلِيلُ الْحَدِيثِ، وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُ النَّاسُ، وَحَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيُّ ثِقَةٌ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں ہاتھ اٹھاتے تھے تو جب تک اپنے دونوں ہاتھ منہ مبارک پر پھیر نہ لیتے انہیں نیچے نہ گراتے تھے، محمد بن مثنیٰ اپنی روایت میں کہتے ہیں: آپ دونوں ہاتھ جب دعا کے لیے اٹھاتے تو انہیں اس وقت تک واپس نہ لاتے جب تک کہ دونوں ہاتھ اپنے چہرے مبارک پر پھیر نہ لیتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن عیسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- حماد بن عیسیٰ نے اسے تنہا روایت کیا ہے، اور یہ بہت کم حدیثیں بیان کرتے ہیں، ان سے کئی لوگوں نے روایت لی ہے،
۳- حنظلہ ابن ابی سفیان جمحی ثقہ ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید قطان نے ثقہ کہا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3386]
۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن عیسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- حماد بن عیسیٰ نے اسے تنہا روایت کیا ہے، اور یہ بہت کم حدیثیں بیان کرتے ہیں، ان سے کئی لوگوں نے روایت لی ہے،
۳- حنظلہ ابن ابی سفیان جمحی ثقہ ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید قطان نے ثقہ کہا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10531) (ضعیف) (سند میں ”عیسیٰ بن حماد“ ضعیف راوی ہیں)»
وضاحت: ۱؎: دونوں روایتوں کا مفہوم ایک ہے فرق صرف الفاظ میں ہے، ایک میں ہے «لم يحطهما» اور دوسری میں ہے «لايردهما» اور یہی یہاں دونوں روایتوں کے ذکر سے بتانا مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (2245) ، الإرواء (433) // ضعيف الجامع الصغير (4412) //
قال الشيخ زبير على زئي:(3386) إسناده ضعيف
حماد بن عيسٰي:ضعيف (تق:1503)
حماد بن عيسٰي:ضعيف (تق:1503)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3386
| إذا رفع يديه في الدعاء لم يحطهما حتى يمسح بهما وجهه |
بلوغ المرام |
1345
| إذا مد يديه في الدعاء لم يردهما حتى يمسح بهما وجهه |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3386 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3386
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
دونوں روایتوں کا مفہوم ایک ہے فرق صرف الفاظ میں ہے،
ایک میں ہے (لَم يحطهُمَا) اور دوسری میں ہے (لَايَرُدَّهُمَا) اور یہی یہاں دونوں روایتوں کے ذکر سے بتانا مقصود ہے۔
نوٹ:
(سند میں ”عیسیٰ بن حماد“ ضعیف راوی ہیں)
وضاحت:
1؎:
دونوں روایتوں کا مفہوم ایک ہے فرق صرف الفاظ میں ہے،
ایک میں ہے (لَم يحطهُمَا) اور دوسری میں ہے (لَايَرُدَّهُمَا) اور یہی یہاں دونوں روایتوں کے ذکر سے بتانا مقصود ہے۔
نوٹ:
(سند میں ”عیسیٰ بن حماد“ ضعیف راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3386]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1345
ذکر اور دعا کا بیان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا کرتے تو ان کو اس وقت تک واپس نہ لوٹاتے جب تک چہرے پر پھیر نہ لیتے۔ اسے ترمذی نے نکالا ہے اور اس کے کئی شواہد ہیں، ان میں ایک ابوداؤد وغیرہ کے ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے اور ان کا مجموعہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1345»
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا کرتے تو ان کو اس وقت تک واپس نہ لوٹاتے جب تک چہرے پر پھیر نہ لیتے۔ اسے ترمذی نے نکالا ہے اور اس کے کئی شواہد ہیں، ان میں ایک ابوداؤد وغیرہ کے ہاں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے اور ان کا مجموعہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1345»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، الدعاء، باب ما جاء في رفع الأيدي عند الدعاء، حديث:3386.* حمادبن عيسي ضعيف، وحديث ابن عباس:أخرجه أبوداود، الوتر، حديث:1485 وسنده ضعيف، عبدالملك وعبدالله مجهولان، وللحديث شواهد ضعيفة، وأثر ابن عمر وابن الزبير يغني عنه، رواه البخاري في الأدب المفرد: (609) وسنده حسن.» تشریح:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہم کا اثر اس سے کفایت کرتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ روایت مجموعی لحاظ سے درجۂ حسن تک پہنچتی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کی بابت” الادب المفرد“ میں ابونعیم سے موقوفاً صحیح سند سے روایت بیان کی ہے کہ ابونعیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم کو دعا کرتے ہوئے اور اپنی ہتھیلیوں کو چہرے پر پھیرتے ہوئے دیکھا‘ نیز اس مسئلے کی بابت امام طبرانی رحمہ اللہ نے یزید بن سعید الکندی کی روایت نقل کی ہے جس کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ضعیف ہے اور اس کا استاد غیر معروف ہے‘ لیکن اس حدیث کے مؤید شاہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس حدیث کی کچھ نہ کچھ بنیاد ضرور ہے۔
علاوہ ازیں حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی حسن سند کے ساتھ اس کی تائید مروی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (العلل:۲ /۳۴۷) گو مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن یہ عمل صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین سے صحیح سندوں سے ثابت ہے‘ لہٰذا اسے بدعت کہنا درست نہیں‘ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مسنون نہیں ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
«أخرجه الترمذي، الدعاء، باب ما جاء في رفع الأيدي عند الدعاء، حديث:3386.* حمادبن عيسي ضعيف، وحديث ابن عباس:أخرجه أبوداود، الوتر، حديث:1485 وسنده ضعيف، عبدالملك وعبدالله مجهولان، وللحديث شواهد ضعيفة، وأثر ابن عمر وابن الزبير يغني عنه، رواه البخاري في الأدب المفرد: (609) وسنده حسن.»
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ حضرت ابن عمر اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہم کا اثر اس سے کفایت کرتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ روایت مجموعی لحاظ سے درجۂ حسن تک پہنچتی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کی بابت” الادب المفرد“ میں ابونعیم سے موقوفاً صحیح سند سے روایت بیان کی ہے کہ ابونعیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم کو دعا کرتے ہوئے اور اپنی ہتھیلیوں کو چہرے پر پھیرتے ہوئے دیکھا‘ نیز اس مسئلے کی بابت امام طبرانی رحمہ اللہ نے یزید بن سعید الکندی کی روایت نقل کی ہے جس کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ضعیف ہے اور اس کا استاد غیر معروف ہے‘ لیکن اس حدیث کے مؤید شاہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس حدیث کی کچھ نہ کچھ بنیاد ضرور ہے۔
علاوہ ازیں حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی حسن سند کے ساتھ اس کی تائید مروی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (العلل:۲ /۳۴۷) گو مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن یہ عمل صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین سے صحیح سندوں سے ثابت ہے‘ لہٰذا اسے بدعت کہنا درست نہیں‘ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مسنون نہیں ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1345]
عبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي