الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب ما يقول إذا قام من المجلس
باب: مجلس سے اٹھتے وقت کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3434
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ يُعَدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ الْوَاحِدِ مِائَةُ مَرَّةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَقُومَ: رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مجلس میں مجلس سے اٹھنے سے پہلے سو سو مرتبہ: «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور» ”اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہماری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے اور بخشنے والا ہے“، گنا جاتا تھا۔ سفیان نے محمد بن سوقہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3434]
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 361 (1516)، سنن ابن ماجہ/الأدب 57 (3814) (تحفة الأشراف: 8422) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3814)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3434
| رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور |
جامع الترمذي |
1949
| كل يوم سبعين مرة |
سنن ابن ماجه |
3814
| رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الرحيم مائة مرة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3434 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3434
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہماری توبہ قبول فرما،
بے شک تو توبہ قبول کرنے اور بخشنے والا ہے۔
وضاحت:
1؎:
اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہماری توبہ قبول فرما،
بے شک تو توبہ قبول کرنے اور بخشنے والا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3434]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3814
استغفار کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم شمار کرتے رہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور» ”اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول فرما لے، تو ہی توبہ قبول فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے“ سو بار کہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3814]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم شمار کرتے رہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الغفور» ”اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول فرما لے، تو ہی توبہ قبول فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے“ سو بار کہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3814]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
توبہ و استغفار بہت بڑی نیکی ہے۔
(2)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں سے پاک تھے اس کے باوجود کثرت سے استغفار کرتے تھے کیونکہ استغفار بھی عبودیت کے اظہار کا ایک طریقہ ہے جو اللہ کو بہت پسند ہے۔
(3)
مجلسوں میں فضول باتیں کرتے اور غیبت اور گناہوں میں مشغول ہونے کی بجائے اللہ کا ذکر اور استغفار کرنا بہتر ہے تاکہ گناہوں میں اضافہ ہونے کی بجائے معافی اور رحمت ملے۔
فوائد و مسائل:
(1)
توبہ و استغفار بہت بڑی نیکی ہے۔
(2)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں سے پاک تھے اس کے باوجود کثرت سے استغفار کرتے تھے کیونکہ استغفار بھی عبودیت کے اظہار کا ایک طریقہ ہے جو اللہ کو بہت پسند ہے۔
(3)
مجلسوں میں فضول باتیں کرتے اور غیبت اور گناہوں میں مشغول ہونے کی بجائے اللہ کا ذکر اور استغفار کرنا بہتر ہے تاکہ گناہوں میں اضافہ ہونے کی بجائے معافی اور رحمت ملے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3814]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1949
خادم کی غلطی معاف کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر پوچھا: اللہ کے رسول! میں اپنے خادم کی غلطیوں کو کتنی بار معاف کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے اس سوال پر خاموش رہے، اس نے پھر پوچھا: اللہ کے رسول! میں اپنے خادم کی غلطیوں کو کتنی بار معاف کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہر دن ۷۰ (ستر) بار معاف کرو۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1949]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر پوچھا: اللہ کے رسول! میں اپنے خادم کی غلطیوں کو کتنی بار معاف کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے اس سوال پر خاموش رہے، اس نے پھر پوچھا: اللہ کے رسول! میں اپنے خادم کی غلطیوں کو کتنی بار معاف کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہر دن ۷۰ (ستر) بار معاف کرو۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1949]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس حدیث کے ”عبد اللہ بن عمر بن خطاب“ یا ”عبد اللہ بن عمرو بن العاص“ کی روایت سے ہونے میں اختلاف ہے جس کی طرف مؤلف نے اشارہ کردیا،
مزی نے ابوداؤد کی طرف عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت،
اور ترمذی کی طرف عبد اللہ بن عمر ابن خطاب کی روایت کی نسبت کی ہے)
نوٹ:
(اس حدیث کے ”عبد اللہ بن عمر بن خطاب“ یا ”عبد اللہ بن عمرو بن العاص“ کی روایت سے ہونے میں اختلاف ہے جس کی طرف مؤلف نے اشارہ کردیا،
مزی نے ابوداؤد کی طرف عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت،
اور ترمذی کی طرف عبد اللہ بن عمر ابن خطاب کی روایت کی نسبت کی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1949]
سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن سوقة الغنوي