🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. باب منه
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3489
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَدْعُو: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تقویٰ کا طلب گار ہوں، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں، مالداری اور بے نیازی چاہتا ہوں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 18 (2721)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 2 (3832) (تحفة الأشراف: 9507) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3832)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عوف بن مالك الجشمي، أبو الأحوص
Newعوف بن مالك الجشمي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عوف بن مالك الجشمي
ثقة مكثر
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← أبو داود الطيالسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح مسلم
6904
اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى
جامع الترمذي
3489
اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى
سنن ابن ماجه
3832
اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3489 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی 3489
اردو حاشہ:
وضاحت:
اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں،
تقویٰ کا طلب گار ہوں،
پاکدامنی کا خواہشمند ہوں،
مالداری اور بےنیازی چاہتا ہوں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3489]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظہ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه 3832
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاکدامنی اور دل کی مالدرای چاہتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه: 3832]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:  
(1) اللہ تعالیٰ ہی ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھنے والا ہے۔
(2) یہ دعا کئی طرح کے شرور سے حفاظت کا سوال ہے۔ ہدایت گمراہی سے، تقویٰ گناہ سے، عفاف وعفت غیر شریفانہ عادتوں اور بے حیائی سے، غنائے قلب طمع و بخل سے اور غنائے ظاہری دنیوی ضروریات کے لیے کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے سےحفاطت کا باعث ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3832]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظہ الله، فوائد و مسائل،صحيح مسلم: 6904
حضرت عبد اللہ (ابن مسعود) رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ آپ یہ دعا فرماتے تھے۔"اے اللہ! میں تجھی سے ہدایت اور تقوی، پاکدامنی اور مخلوق سے بےنیازی مانگتا ہوں۔" [صحيح مسلم:6904]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ بھی انتہائی جامع دعا ہے،
اس میں ہدایت یعنی راہ حق پر چلنا اور اس پر استقامت اختیار کرنا،
تقویٰ و پرہیز گاری یعنی معاصی اور منکرات اور سیئات سے بچاؤ اور تحفظ،
عفت و پاکدامنی، یعنی نامناسب چیزوں سے اجتناب
اور لوگوں سے بے نیازی و استغناء کا سوال کیا گیا ہے
اور ان کے بغیر انسان اطمینان و سکون کی زندگی نہیں گزار سکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6904]