سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب پر ایک اور باب
حدیث نمبر: 3744
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا , وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُقَالُ: الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ، سَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں ۱؎ اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اور حواری مددگار کو کہا جاتا ہے، میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا ہے کہ حواری کے معنی مددگار کے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3744]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اور حواری مددگار کو کہا جاتا ہے، میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا ہے کہ حواری کے معنی مددگار کے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10096) (صحیح) (یہ سند حسن ہے، اور یہ حدیث جابر رضی الله عنہ سے متفق علیہ مروی ہے، ملاحظہ ہو: ابن ماجہ 122)»
وضاحت: ۱؎: یوں تو سبھی صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار تھے، مگر زبیر رضی الله عنہ میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم تھی، اس لیے خاص طور سے آپ نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے جس کا بیان اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (122)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3744
| لكل نبي حواري حواريي الزبير بن العوام |
المعجم الصغير للطبراني |
887
| لكل نبي حواري حواريي الزبير ابن عمتي |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3744 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3744
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یوں تو سبھی صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگارتھے،
مگر زبیر رضی اللہ عنہ میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم تھی،
اس لیے خاص طورسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے جس کا بیان اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
نوٹ:
(یہ سند حسن ہے،
اور یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے متفق علیہ مروی ہے،
ملاحظہ ہو: ابن ماجہ: 122)
وضاحت:
1؎:
یوں تو سبھی صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگارتھے،
مگر زبیر رضی اللہ عنہ میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم تھی،
اس لیے خاص طورسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے جس کا بیان اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
نوٹ:
(یہ سند حسن ہے،
اور یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے متفق علیہ مروی ہے،
ملاحظہ ہو: ابن ماجہ: 122)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3744]
زر بن حبيش الأسدي ← علي بن أبي طالب الهاشمي