🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب مناقب عبد الله بن الزبير رضي الله عنه
باب: عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3826
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا، فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ مَا أُرَى أَسْمَاءَ إِلَّا قَدْ نُفِسَتْ , فَلَا تُسَمُّوهُ حَتَّى أُسَمِّيَهُ "، فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ , وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (خواب میں) زبیر کے گھر میں ایک چراغ دیکھا تو آپ نے عائشہ رضی الله عنہا سے فرمایا: عائشہ! میں یہی سمجھا ہوں کہ اسماء کے یہاں ولادت ہونے والی ہے، تو اس کا نام تم لوگ نہ رکھنا، میں رکھوں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبداللہ رکھا، اور اپنے ہاتھ سے ایک کھجور کے ذریعہ ان کی تحنیک کی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16243) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسے چبا کر ان کے منہ میں ڈال دیا جس کے منہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن گیا وہ منہ کتنا مبارک ہو گیا! «ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء» (الجمعة: ۴)۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:(3826) إسناده ضعيف
عبدالله بن المؤمل: ضعيف الحديث (تق: 3648) و حديث مسلم (2146) هو المحفوظ

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عبد الله بن المؤمل القرشي
Newعبد الله بن المؤمل القرشي ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← عبد الله بن المؤمل القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن إسحاق الجوهري، أبو محمد
Newعبد الله بن إسحاق الجوهري ← الضحاك بن مخلد النبيل
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3910
أول مولود ولد في الإسلام عبد الله بن الزبير أتوا به النبي فأخذ النبي تمرة فلاكها ثم أدخلها في فيه فأول ما دخل بطنه ريق النبي
صحيح مسلم
5620
جئنا بعبد الله بن الزبير إلى النبي يحنكه فطلبنا تمرة فعز علينا طلبها
جامع الترمذي
3826
ما أرى أسماء إلا قد نفست فلا تسموه حتى أسميه فسماه عبد الله وحنكه بتمرة بيده
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3826 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3826
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اسے چبا کر ان کے منہ میں ڈال دیا جس کے منہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن گیا وہ منہ کتنا مبارک ہو گیا! ﴿ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاء﴾ (الجمعة:4)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3826]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5620
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، ہم عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے گھٹی دیں، ہم نے چھوہارے تلاش کیے اور ہمارے لیے ان کی دستیابی مشکل ہو گئی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5620]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
عز علينا:
ہمارے لیے دشوار ہوگئی،
کیونکہ وہ کھجوریں پکنے کا موسم نہیں تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5620]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3910
3910. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ (ہجرت کے بعد) پہلا بچہ جو اسلام میں پیدا ہوا وہ عبداللہ بن زبیر ؓ ہیں۔ وہ (ان کے گھر والے) انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لی اور اسے چبایا۔ پھر آپ نے اسے اس (عبداللہ ؓ) کے منہ میں ڈالا۔ان کے پیٹ میں پہلی داخل ہونے والی چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3910]
حدیث حاشیہ:
حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے۔
حضرت عبد اللہ بن زبیر اسد قریشی ہیں مدینہ میں مہاجرین میں یہ سب سے پہلے بچے ہیں۔
جو 1ھ میں پیدا ہوئے خود ان کے نانا جان حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان کے کان میں اذان پڑھی۔
یہ بالکل صاف چہرہ والے تھے ایک بھی بال منہ پر نہیں تھا نہ ڈاڑھی تھی۔
بڑے روزے رکھنے والے اور بہت نوافل پڑھنے والے تھے موٹے تازے بڑے قوی اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔
حق بات ماننے والے صلہ رحمی کرنے والے اور بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔
ان کی والدہ حضرت ابوبکر ؓ کی بیٹی تھیں۔
ان کے نانا حضرت ابوبکر صدیق ؓ تھے ان کی دادی حضرت صفیہ ؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں ان کی خالہ حضرت عائشہ ؓ تھیں آٹھ سال کی عمرمیں ان کو شرف بیعت حاصل ہوا۔
حجاج بن یوسف ظالم نے ان کو بڑی بے رحمی کے ساتھ مکہ میں قتل کیا۔
منگل کے دن 17جمادی الثانی 73 ھ کو ان کو سولی پر لٹکایا ان کی شہادت کے بعد حجاج بن یوسف عذاب خدا وندی میں گرفتار ہوا جب بھی نیند آتی فوراً چونک کر کھڑا ہوجاتا اور کہتا عبداللہ مجھ سے انتقام لینے میرے سر پر کھڑا ہواہے۔
اس طرح بلبلا کر کچھ دنوں یہ ظالم بھی ختم ہو گیا۔
64 ھ میں حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کے ہاتھ پر اہل حجاز یمن عراق اور خراسان کے مسلمانوں کی بڑی تعداد نے بیعت خلافت کی تھی۔
حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے آٹھ حج بھی کئے تھے۔
آج اس دور کے ظالم ومظلوم لوگوں کی داستانیں باقی رہ گئیں ہیں۔
کاش! آج کے ظالمین ان سے عبرت حاصل کریں اور آیت قرآنیہ کے فلسفہ کو سمجھنے پر توجہ دیں ﴿فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (الأنعام: 45)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3910]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3910
3910. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ (ہجرت کے بعد) پہلا بچہ جو اسلام میں پیدا ہوا وہ عبداللہ بن زبیر ؓ ہیں۔ وہ (ان کے گھر والے) انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لی اور اسے چبایا۔ پھر آپ نے اسے اس (عبداللہ ؓ) کے منہ میں ڈالا۔ان کے پیٹ میں پہلی داخل ہونے والی چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3910]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے حضرت زید بن حارثہ ؓ کو مکے بھیجاتاکہ و ہ آپ کی رفیقہ حیات حضرت سودہ بنت زمعہ ؓ دونوں صاحبزادیوں حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت ام کلثوم ؓ،ام ایمن ؓ اور ان کے بیتے حضرت اسامہ ؓ کو مکے سے مدینے لے آئیں۔
ان کے ساتھ حضرت عبداللہ بن ابی بکر ؓ،ان کی والدہ ماجدہ حضرت ام رومان ؓ اور دونوں بہنیں حضرت عائشہ ؓ اور حضرت اسماء ؓ بھی تشریف لائیں۔
اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی کی تعمیر میں مصروف تھے۔
یہ حالات اور حضرت اسماء ؓ کا کہنا کہ میں نے مقام قباء میں حضرت عبدللہ بن زبیر ؓ کو جنم دیا،اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ ہجرت کے پہلے سال پیداہوئے۔
(فتح الباري: 311/7۔
)
مدینہ طیبہ میں مہاجرین کے ہاں یہ پہلے مولود تھے۔
انصار میں ہجرت کے بعد پہلا بچہ مسلمہ بن مخلد اور حبشہ میں ہجرت کے بعد پہلا بچہ عبداللہ بن جعفر ؓ پیدا ہوا۔
جب عبداللہ بن زبیر ؓ پیدا ہوئے توانھیں دودھ پلانے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔
آپ نے اس کا نام عبداللہ رکھا پھر جب وہ سات یاآٹھ برس کے ہوئے تو ان کے والد گرامی زبیر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تا کہ آپ سے بیعت کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرماتے ہوئے انھیں بیعت کرلیا۔
(صحیح مسلم، الآداب، حدیث 5616(2146)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3910]