الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
203. باب ما جاء في الأربع قبل الظهر
باب: ظہر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 424
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: كُنَّا نَعْرِفُ فَضْلَ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَلَى حَدِيثِ الْحَارِثِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَخْتَارُونَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَهُوَ قَوْلُ سفيان الثوري , وَابْنِ الْمُبَارَكِ , وَإِسْحَاق وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يَرَوْنَ الْفَصْلَ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَبِهِ يَقُولُ: الشافعي , وَأَحْمَدُ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہما اور ام حبیبہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- ہم سے ابوبکر عطار نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سفیان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم جانتے تھے کہ عاصم بن ضمرہ کی حدیث حارث (اعور) کی حدیث سے افضل ہے،
۴- صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل کا عمل اسی پر ہے۔ وہ پسند کرتے ہیں کہ آدمی ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق بن راہویہ اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ دن اور رات (دونوں) کی نمازیں دو دو رکعتیں ہیں، وہ ہر دو رکعت کے بعد فصل کرنے کے قائل ہیں شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 424]
۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہما اور ام حبیبہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- ہم سے ابوبکر عطار نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سفیان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم جانتے تھے کہ عاصم بن ضمرہ کی حدیث حارث (اعور) کی حدیث سے افضل ہے،
۴- صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل کا عمل اسی پر ہے۔ وہ پسند کرتے ہیں کہ آدمی ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق بن راہویہ اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ دن اور رات (دونوں) کی نمازیں دو دو رکعتیں ہیں، وہ ہر دو رکعت کے بعد فصل کرنے کے قائل ہیں شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف وأخرجہ في الشمائل (42) أیضا، وانظر ما یأتي برقم: 429 و598 (تحفة الأشراف: 10139) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث اور اس قول میں کوئی فرق نہیں، مطلب یہ ہے کہ چار رکعتیں بھی دو دو سلاموں سے پڑھے، اور یہی زیادہ بہتر ہے، ایک سلام سے بھی جائز ہے۔ مگر دو سلاموں کے ساتھ سنت پر عمل، درود اور دعاؤں کی مزید فضیلت حاصل ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1161) ، ومن تمامه الحديث الآتى برقم (430)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي | |
👤←👥عاصم بن ضمرة السلولي عاصم بن ضمرة السلولي ← علي بن أبي طالب الهاشمي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق أبو إسحاق السبيعي ← عاصم بن ضمرة السلولي | ثقة مكثر | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أبو إسحاق السبيعي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الملك بن عمرو القيسي، أبو عامر عبد الملك بن عمرو القيسي ← سفيان الثوري | ثقة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الملك بن عمرو القيسي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
424
| يصلي قبل الظهر أربعا بعدها ركعتين |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 424 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 424
اردو حاشہ:
1؎:
اس حدیث اور اس قول میں کوئی فرق نہیں،
مطلب یہ ہے کہ چار رکعتیں بھی دو دو سلاموں سے پڑھے،
اور یہی زیادہ بہتر ہے،
ایک سلام سے بھی جائز ہے۔
مگر دو سلاموں کے ساتھ سنت پر عمل،
درود اور دعاؤں کی مزید فضیلت حاصل ہو جاتی ہے۔
1؎:
اس حدیث اور اس قول میں کوئی فرق نہیں،
مطلب یہ ہے کہ چار رکعتیں بھی دو دو سلاموں سے پڑھے،
اور یہی زیادہ بہتر ہے،
ایک سلام سے بھی جائز ہے۔
مگر دو سلاموں کے ساتھ سنت پر عمل،
درود اور دعاؤں کی مزید فضیلت حاصل ہو جاتی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 424]
عاصم بن ضمرة السلولي ← علي بن أبي طالب الهاشمي