سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء أن الوتر ليس بحتم
باب: وتر کے فرض نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 454
وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ وَلَكِنْ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". حَدَّثَنَا بِذَلِكَ َ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَقَدْ رَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق نَحْوَ رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: وتر لازم نہیں ہے جیسا کہ فرض صلاۃ کا معاملہ ہے، بلکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اسے سفیان ثوری وغیرہ نے بطریق «أبی اسحاق عن عاصم بن حمزة عن علی» روایت کیا ہے ۱؎ اور یہ روایت ابوبکر بن عیاش کی روایت سے زیادہ صحیح ہے اور اسے منصور بن معتمر نے بھی ابواسحاق سے ابوبکر بن عیاش ہی کی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر/حدیث: 454]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:(453۔454) إسناد ضعيف /د 1416، ن 1676، جه 1169
أبو إسحاق عنعن (تقديم :107) وروى أحمد (107/1 ح 842) بسند حسن عن على رضى الله عنه قال: ” ليس الوتر بحتم كالصلاة ولكنه سنة فلا تدعوه ۔۔۔۔ وقد أوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم “ وھو يغني عنه
أبو إسحاق عنعن (تقديم :107) وروى أحمد (107/1 ح 842) بسند حسن عن على رضى الله عنه قال: ” ليس الوتر بحتم كالصلاة ولكنه سنة فلا تدعوه ۔۔۔۔ وقد أوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم “ وھو يغني عنه
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ | |
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين علي بن أبي طالب الهاشمي ← محمد بن بشار العبدي | صحابي | |
👤←👥عاصم بن ضمرة السلولي عاصم بن ضمرة السلولي ← علي بن أبي طالب الهاشمي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق أبو إسحاق السبيعي ← عاصم بن ضمرة السلولي | ثقة مكثر | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أبو إسحاق السبيعي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1677
| الوتر ليس بحتم كهيئة المكتوبة ولكنه سنة سنها رسول الله |
جامع الترمذي |
454
| الوتر ليس بحتم كهيئة الصلاة المكتوبة ولكن سنة سنها رسول الله |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 454 کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، ترمذی 454
وتر کا حکم ۔
اس کے حکم میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔
(جمہور، احمدؒ، شافعیؒ، مالکؒ) وتر واجب نہیں ہے بلکہ سنت موکدہ ہے۔
(ابو حنیفہؒ) وتر واجب ہے (امام ابو حنیفہؒ سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ وتر فرض ہے)۔
[الأم: 257/1، بدائع الصنائع: 270/1، المغنى: 578/2، الهداية: 65/1، نيل الأوطار: 238/2]
(راجح) وتر سنت موکدہ ہے واجب نہیں ہے۔
(شوکانیؒ) عدم وجوب کے قائل ہیں۔ [نيل الأوطار: 238/2]
(عبد الرحمن مبارکپوریؒ) اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ [تحفة الأحوذى: 554/2]
(ابن قدامهؒ) وترسنت موکدہ ہے۔ [المغنى: 595/2]
(ابن حزمؒ) وتر فرض نہیں۔ [المحلى بالآثار: 92/2]
(امیر صنعانیؒ) اسی کے قائل ہیں۔ [سبل السلام: 529/2]
(صدیق حسن خانؒ) وتر سنت موکدہ ہے۔ [الروضة الندية: 300/1]
ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «ليس الوتر بحتم كهيئة المكتوبة ولكن سنة سنها رسول الله» ”وتر فرضوں کی طرح حتمی و لازمی نہیں ہے بلکہ سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے۔“
[صحيح: صحيح الترغيب: 590، ترمذي: 453 - 454، كتاب الصلاة: باب ما جاء أن الوترليس بحتم، نسائى: 228/3، أبو داود: 1416، ابن ماجة: 1169، ابن خزيمة: 1067، شيخ محمد صجی حسن طلاق نے اسے صحيح كها هے۔ التعليق على سبل السلام: 28/3]
➋ جس حدیث میں ہے «الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا» ”وتر حق ہے لٰہذا جس نے وتر نہ پڑھا وہ ہم میں سے نہیں۔“ وہ ضعیف ہے۔
[ضعيف: إرواء الغليل: 417، أبو داود: 1419، كتاب الصلاة: باب فيمن لم يوتر، أحمد: 357/5، حاكم: 305/1، بيهقي: 470/2]
، حافظ ابن حجرؒ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ تلخیص الحبیر: 20/2، امام زیلعیؒ نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔ [نصب الراية: 112/2]
اس کے حکم میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔
(جمہور، احمدؒ، شافعیؒ، مالکؒ) وتر واجب نہیں ہے بلکہ سنت موکدہ ہے۔
(ابو حنیفہؒ) وتر واجب ہے (امام ابو حنیفہؒ سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ وتر فرض ہے)۔
[الأم: 257/1، بدائع الصنائع: 270/1، المغنى: 578/2، الهداية: 65/1، نيل الأوطار: 238/2]
(راجح) وتر سنت موکدہ ہے واجب نہیں ہے۔
(شوکانیؒ) عدم وجوب کے قائل ہیں۔ [نيل الأوطار: 238/2]
(عبد الرحمن مبارکپوریؒ) اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ [تحفة الأحوذى: 554/2]
(ابن قدامهؒ) وترسنت موکدہ ہے۔ [المغنى: 595/2]
(ابن حزمؒ) وتر فرض نہیں۔ [المحلى بالآثار: 92/2]
(امیر صنعانیؒ) اسی کے قائل ہیں۔ [سبل السلام: 529/2]
(صدیق حسن خانؒ) وتر سنت موکدہ ہے۔ [الروضة الندية: 300/1]
ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «ليس الوتر بحتم كهيئة المكتوبة ولكن سنة سنها رسول الله» ”وتر فرضوں کی طرح حتمی و لازمی نہیں ہے بلکہ سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے۔“
[صحيح: صحيح الترغيب: 590، ترمذي: 453 - 454، كتاب الصلاة: باب ما جاء أن الوترليس بحتم، نسائى: 228/3، أبو داود: 1416، ابن ماجة: 1169، ابن خزيمة: 1067، شيخ محمد صجی حسن طلاق نے اسے صحيح كها هے۔ التعليق على سبل السلام: 28/3]
➋ جس حدیث میں ہے «الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا» ”وتر حق ہے لٰہذا جس نے وتر نہ پڑھا وہ ہم میں سے نہیں۔“ وہ ضعیف ہے۔
[ضعيف: إرواء الغليل: 417، أبو داود: 1419، كتاب الصلاة: باب فيمن لم يوتر، أحمد: 357/5، حاكم: 305/1، بيهقي: 470/2]
، حافظ ابن حجرؒ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ تلخیص الحبیر: 20/2، امام زیلعیؒ نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔ [نصب الراية: 112/2]
[اسلام کیو اے، حدیث/صفحہ نمبر: 458]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1677
وتر پڑھنے کے حکم کا بیان۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح کوئی حتمی و واجبی چیز نہیں ہے، البتہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1677]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح کوئی حتمی و واجبی چیز نہیں ہے، البتہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1677]
1677۔ اردو حاشیہ: چونکہ وتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے جسے آپ نے کبھی ترک نہیں کیا، لہٰذا اسے بلاعذر ترک کرنا درست نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1677]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 454 in Urdu
محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري