پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : الأمر بالوتر
باب: وتر پڑھنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1677
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال:" الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح کوئی حتمی و واجبی چیز نہیں ہے، البتہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1677]
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر کی نماز فرض نماز کی طرح واجب نہیں بلکہ یہ سنت (مؤکدہ) ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے جاری فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 216 (الوتر 2) (554)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 114، حم1/86، 98، 100، 107، 115، 144، 145، 148، سنن الدارمی/الصلاة 208 (1620) (صحیح) (دیکھئے پچھلی حدیث پر کلام)»
وضاحت: ۱؎: یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ وتر واجب نہیں جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي | |
👤←👥عاصم بن ضمرة السلولي عاصم بن ضمرة السلولي ← علي بن أبي طالب الهاشمي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق أبو إسحاق السبيعي ← عاصم بن ضمرة السلولي | ثقة مكثر | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أبو إسحاق السبيعي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم الفضل بن دكين الملائي ← سفيان الثوري | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن إسماعيل بن علية، أبو عبد الله، أبو بكر محمد بن إسماعيل بن علية ← الفضل بن دكين الملائي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1677
| الوتر ليس بحتم كهيئة المكتوبة ولكنه سنة سنها رسول الله |
جامع الترمذي |
454
| الوتر ليس بحتم كهيئة الصلاة المكتوبة ولكن سنة سنها رسول الله |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1677 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1677
1677۔ اردو حاشیہ: چونکہ وتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے جسے آپ نے کبھی ترک نہیں کیا، لہٰذا اسے بلاعذر ترک کرنا درست نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1677]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، ترمذی 454
وتر کا حکم ۔
اس کے حکم میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔
(جمہور، احمدؒ، شافعیؒ، مالکؒ) وتر واجب نہیں ہے بلکہ سنت موکدہ ہے۔
(ابو حنیفہؒ) وتر واجب ہے (امام ابو حنیفہؒ سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ وتر فرض ہے)۔
[الأم: 257/1، بدائع الصنائع: 270/1، المغنى: 578/2، الهداية: 65/1، نيل الأوطار: 238/2]
(راجح) وتر سنت موکدہ ہے واجب نہیں ہے۔
(شوکانیؒ) عدم وجوب کے قائل ہیں۔ [نيل الأوطار: 238/2]
(عبد الرحمن مبارکپوریؒ) اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ [تحفة الأحوذى: 554/2]
(ابن قدامهؒ) وترسنت موکدہ ہے۔ [المغنى: 595/2]
(ابن حزمؒ) وتر فرض نہیں۔ [المحلى بالآثار: 92/2]
(امیر صنعانیؒ) اسی کے قائل ہیں۔ [سبل السلام: 529/2]
(صدیق حسن خانؒ) وتر سنت موکدہ ہے۔ [الروضة الندية: 300/1]
ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «ليس الوتر بحتم كهيئة المكتوبة ولكن سنة سنها رسول الله» ”وتر فرضوں کی طرح حتمی و لازمی نہیں ہے بلکہ سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے۔“
[صحيح: صحيح الترغيب: 590، ترمذي: 453 - 454، كتاب الصلاة: باب ما جاء أن الوترليس بحتم، نسائى: 228/3، أبو داود: 1416، ابن ماجة: 1169، ابن خزيمة: 1067، شيخ محمد صجی حسن طلاق نے اسے صحيح كها هے۔ التعليق على سبل السلام: 28/3]
➋ جس حدیث میں ہے «الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا» ”وتر حق ہے لٰہذا جس نے وتر نہ پڑھا وہ ہم میں سے نہیں۔“ وہ ضعیف ہے۔
[ضعيف: إرواء الغليل: 417، أبو داود: 1419، كتاب الصلاة: باب فيمن لم يوتر، أحمد: 357/5، حاكم: 305/1، بيهقي: 470/2]
، حافظ ابن حجرؒ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ تلخیص الحبیر: 20/2، امام زیلعیؒ نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔ [نصب الراية: 112/2]
اس کے حکم میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔
(جمہور، احمدؒ، شافعیؒ، مالکؒ) وتر واجب نہیں ہے بلکہ سنت موکدہ ہے۔
(ابو حنیفہؒ) وتر واجب ہے (امام ابو حنیفہؒ سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ وتر فرض ہے)۔
[الأم: 257/1، بدائع الصنائع: 270/1، المغنى: 578/2، الهداية: 65/1، نيل الأوطار: 238/2]
(راجح) وتر سنت موکدہ ہے واجب نہیں ہے۔
(شوکانیؒ) عدم وجوب کے قائل ہیں۔ [نيل الأوطار: 238/2]
(عبد الرحمن مبارکپوریؒ) اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ [تحفة الأحوذى: 554/2]
(ابن قدامهؒ) وترسنت موکدہ ہے۔ [المغنى: 595/2]
(ابن حزمؒ) وتر فرض نہیں۔ [المحلى بالآثار: 92/2]
(امیر صنعانیؒ) اسی کے قائل ہیں۔ [سبل السلام: 529/2]
(صدیق حسن خانؒ) وتر سنت موکدہ ہے۔ [الروضة الندية: 300/1]
ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «ليس الوتر بحتم كهيئة المكتوبة ولكن سنة سنها رسول الله» ”وتر فرضوں کی طرح حتمی و لازمی نہیں ہے بلکہ سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے۔“
[صحيح: صحيح الترغيب: 590، ترمذي: 453 - 454، كتاب الصلاة: باب ما جاء أن الوترليس بحتم، نسائى: 228/3، أبو داود: 1416، ابن ماجة: 1169، ابن خزيمة: 1067، شيخ محمد صجی حسن طلاق نے اسے صحيح كها هے۔ التعليق على سبل السلام: 28/3]
➋ جس حدیث میں ہے «الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا» ”وتر حق ہے لٰہذا جس نے وتر نہ پڑھا وہ ہم میں سے نہیں۔“ وہ ضعیف ہے۔
[ضعيف: إرواء الغليل: 417، أبو داود: 1419، كتاب الصلاة: باب فيمن لم يوتر، أحمد: 357/5، حاكم: 305/1، بيهقي: 470/2]
، حافظ ابن حجرؒ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ تلخیص الحبیر: 20/2، امام زیلعیؒ نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔ [نصب الراية: 112/2]
[اسلام کیو اے، حدیث/صفحہ نمبر: 458]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1677 in Urdu
عاصم بن ضمرة السلولي ← علي بن أبي طالب الهاشمي