🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب ما جاء في السواك للصائم
باب: روزہ دار کے مسواک کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 725
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أُحْصِي يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِالسِّوَاكِ لِلصَّائِمِ بَأْسًا، إِلَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا السِّوَاكَ لِلصَّائِمِ بِالْعُودِ وَالرُّطَبِ، وَكَرِهُوا لَهُ السِّوَاكَ آخِرَ النَّهَارِ، وَلَمْ يَرَ الشَّافِعِيُّ بِالسِّوَاكِ بَأْسًا أَوَّلَ النَّهَارِ وَلَا آخِرَهُ، وَكَرِهَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق السِّوَاكَ آخِرَ النَّهَارِ.
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روزہ کی حالت میں اتنی بار مسواک کرتے دیکھا کہ میں اسے شمار نہیں کر سکتا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے،
۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
۳- اسی حدیث پر اہل علم کا عمل ہے۔ یہ لوگ روزہ دار کے مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ۱؎ سمجھتے، البتہ بعض اہل علم نے روزہ دار کے لیے تازی لکڑی کی مسواک کو مکروہ قرار دیا ہے، اور دن کے آخری حصہ میں بھی مسواک کو مکروہ کہا ہے۔ لیکن شافعی دن کے شروع یا آخری کسی بھی حصہ میں مسواک کرنے میں حرج محسوس نہیں کرتے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ نے دن کے آخری حصہ میں مسواک کو مکروہ قرار دیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصیام 26 (2364)، (تحفة الأشراف: 5034) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف راوی ہے)»
وضاحت: ۱؎: خواہ زوال سے پہلے ہو یا زوال کے بعد، خواہ تازی لکڑی سے ہو، یا خشک، یہی اکثر اہل علم کا قول ہے اور یہی راجح۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، الإرواء (68) //، ضعيف أبي داود (511 / 2364) ، المشكاة (2009) //
قال الشيخ زبير على زئي:(725) إسناده ضعيف / د 2364
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عامر بن ربيعة العنزي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن عامر العنزي، أبو محمد
Newعبد الله بن عامر العنزي ← عامر بن ربيعة العنزي
له رؤية
👤←👥عاصم بن عبيد الله القرشي
Newعاصم بن عبيد الله القرشي ← عبد الله بن عامر العنزي
ضعيف الحديث
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عاصم بن عبيد الله القرشي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
725
يتسوك وهو صائم
سنن أبي داود
2364
يستاك وهو صائم
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 725 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 725
اردو حاشہ:
1؎:
خواہ زوال سے پہلے ہو یا زوال کے بعد،
خواہ تازی لکڑی سے ہو،
یا خشک،
یہی اکثراہل علم کا قول ہے اور یہی راجح۔

نوٹ:
(سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف راوی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 725]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2364
روزہ دار کے مسواک کرنے کا بیان۔
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا، جسے میں نہ گن سکتا ہوں، نہ شمار کر سکتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2364]
فوائد ومسائل:
(1) روزہ رکھ کر مسواک کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
مسواک خواہ تازہ ہو یا خشک، ہر طرح سے جائز ہے۔
اور ظاہر ہے کہ تازہ مسواک کی رطوبت کو تھوکنا لازمی ہو گا جب کہ اس کے ذائقے کا منہ میں باقی رہ جانا معاف ہے۔
جہاں تک ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کا سوال ہے، تع بعض علماء اسے روزے کی حالت میں مکروہ قرار دیتے ہیں۔
لیکن ایسا سمجھنا صحیح نہیں ہے، اس کا حکم بھی مسواک سے مختلف نہیں ہے۔
اگر برش کے استعمال کے دوران میں، مسواک کرتے ہوئے یا وضو کرتے ہوئے دانتوں سے معمولی مقدار میں خون نکل آئے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے (باب سوال الرطب واليابس للصائم) کا عنوان قائم کر کے مندرجہ بالا روایت کو تعلیقا بیان فرمایا ہے۔

(2) دوسری حدیث جس میں ہے کہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی طیب ہوتی ہے۔
(صحيح البخاري‘ الصوم‘ حديث:1894‘ و صحيح مسلم‘ الصيام‘ حديث:1151) تو اس کا مفہوم منہ کو گندہ رکھنا نہیں بلکہ اس میں روزے دار کا اللہ کے ہاں محبوب ہونا بیان ہوا ہے اور یہ کہ اس کے معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے اس کے منہ میں جو نامناسب سی بو پیدا ہو جاتی ہے، وہ بھی اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے۔
اور ہر حال اور کیفیت میں منہ کو صاف ستھرا رکھنا مطلوب ہے اور روزہ دار ہر حال میں اللہ کا محبوب ہے۔

(3) اس حدیث کی اسنادی بحث کے لیے دیکھئے: (إرواء الغلیل، حدیث: 68)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2364]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 2364
روزے کی حالت میں مسواک
روزے کی حالت میں مسواک کرنے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ دیکھئے: [مصنف ابن ابي شيبه 3/35 ح 9149 وسنده صحيح]

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: روزے کی حالت میں مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چاہئے مسواک خشک ہو یا ترہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه 3/ 37 ح 9173 وسنده صحيح]
نیز دیکھئے: [صحيح بخاري قبل ح 1934]
اصل مضمون کے لئے دیکھیں:
مقالات جلد 3 صفحہ 602
اور دیکھئے ماہنامہ الحدیث شمارہ نمبر 64 صفحہ 23
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 602]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 725 in Urdu