سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب السواك للصائم
باب: روزہ دار کے مسواک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2364
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ"، زَادَ مُسَدَّدٌ: مَا لَا أَعُدُّ وَلَا أُحْصِي.
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا، جسے میں نہ گن سکتا ہوں، نہ شمار کر سکتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 28 (725)، (تحفة الأشراف: 5034)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/445، 446) (ضعیف)» (اس کے راوی عاصم ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (725)
عاصم بن عبيد اللّٰه : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88
إسناده ضعيف
ترمذي (725)
عاصم بن عبيد اللّٰه : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عامر بن ربيعة العنزي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن عامر العنزي، أبو محمد عبد الله بن عامر العنزي ← عامر بن ربيعة العنزي | له رؤية | |
👤←👥عاصم بن عبيد الله القرشي عاصم بن عبيد الله القرشي ← عبد الله بن عامر العنزي | ضعيف الحديث | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عاصم بن عبيد الله القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← مسدد بن مسرهد الأسدي | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥محمد بن الصباح الدولابي، أبو جعفر محمد بن الصباح الدولابي ← شريك بن عبد الله القاضي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
725
| يتسوك وهو صائم |
سنن أبي داود |
2364
| يستاك وهو صائم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2364 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 2364
روزے کی حالت میں مسواک
روزے کی حالت میں مسواک کرنے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ دیکھئے: [مصنف ابن ابي شيبه 3/35 ح 9149 وسنده صحيح]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: روزے کی حالت میں مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چاہئے مسواک خشک ہو یا ترہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه 3/ 37 ح 9173 وسنده صحيح]
نیز دیکھئے: [صحيح بخاري قبل ح 1934]
اصل مضمون کے لئے دیکھیں:
مقالات جلد 3 صفحہ 602
اور دیکھئے ماہنامہ الحدیث شمارہ نمبر 64 صفحہ 23
روزے کی حالت میں مسواک کرنے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ دیکھئے: [مصنف ابن ابي شيبه 3/35 ح 9149 وسنده صحيح]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: روزے کی حالت میں مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چاہئے مسواک خشک ہو یا ترہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه 3/ 37 ح 9173 وسنده صحيح]
نیز دیکھئے: [صحيح بخاري قبل ح 1934]
اصل مضمون کے لئے دیکھیں:
مقالات جلد 3 صفحہ 602
اور دیکھئے ماہنامہ الحدیث شمارہ نمبر 64 صفحہ 23
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 602]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2364
فوائد ومسائل:
(1) روزہ رکھ کر مسواک کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
مسواک خواہ تازہ ہو یا خشک، ہر طرح سے جائز ہے۔
اور ظاہر ہے کہ تازہ مسواک کی رطوبت کو تھوکنا لازمی ہو گا جب کہ اس کے ذائقے کا منہ میں باقی رہ جانا معاف ہے۔
جہاں تک ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کا سوال ہے، تع بعض علماء اسے روزے کی حالت میں مکروہ قرار دیتے ہیں۔
لیکن ایسا سمجھنا صحیح نہیں ہے، اس کا حکم بھی مسواک سے مختلف نہیں ہے۔
اگر برش کے استعمال کے دوران میں، مسواک کرتے ہوئے یا وضو کرتے ہوئے دانتوں سے معمولی مقدار میں خون نکل آئے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے (باب سوال الرطب واليابس للصائم) کا عنوان قائم کر کے مندرجہ بالا روایت کو تعلیقا بیان فرمایا ہے۔
(2) دوسری حدیث جس میں ہے کہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی طیب ہوتی ہے۔
(صحيح البخاري‘ الصوم‘ حديث:1894‘ و صحيح مسلم‘ الصيام‘ حديث:1151) تو اس کا مفہوم منہ کو گندہ رکھنا نہیں بلکہ اس میں روزے دار کا اللہ کے ہاں محبوب ہونا بیان ہوا ہے اور یہ کہ اس کے معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے اس کے منہ میں جو نامناسب سی بو پیدا ہو جاتی ہے، وہ بھی اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے۔
اور ہر حال اور کیفیت میں منہ کو صاف ستھرا رکھنا مطلوب ہے اور روزہ دار ہر حال میں اللہ کا محبوب ہے۔
(3) اس حدیث کی اسنادی بحث کے لیے دیکھئے: (إرواء الغلیل، حدیث: 68)
(1) روزہ رکھ کر مسواک کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
مسواک خواہ تازہ ہو یا خشک، ہر طرح سے جائز ہے۔
اور ظاہر ہے کہ تازہ مسواک کی رطوبت کو تھوکنا لازمی ہو گا جب کہ اس کے ذائقے کا منہ میں باقی رہ جانا معاف ہے۔
جہاں تک ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کا سوال ہے، تع بعض علماء اسے روزے کی حالت میں مکروہ قرار دیتے ہیں۔
لیکن ایسا سمجھنا صحیح نہیں ہے، اس کا حکم بھی مسواک سے مختلف نہیں ہے۔
اگر برش کے استعمال کے دوران میں، مسواک کرتے ہوئے یا وضو کرتے ہوئے دانتوں سے معمولی مقدار میں خون نکل آئے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے (باب سوال الرطب واليابس للصائم) کا عنوان قائم کر کے مندرجہ بالا روایت کو تعلیقا بیان فرمایا ہے۔
(2) دوسری حدیث جس میں ہے کہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی طیب ہوتی ہے۔
(صحيح البخاري‘ الصوم‘ حديث:1894‘ و صحيح مسلم‘ الصيام‘ حديث:1151) تو اس کا مفہوم منہ کو گندہ رکھنا نہیں بلکہ اس میں روزے دار کا اللہ کے ہاں محبوب ہونا بیان ہوا ہے اور یہ کہ اس کے معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے اس کے منہ میں جو نامناسب سی بو پیدا ہو جاتی ہے، وہ بھی اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے۔
اور ہر حال اور کیفیت میں منہ کو صاف ستھرا رکھنا مطلوب ہے اور روزہ دار ہر حال میں اللہ کا محبوب ہے۔
(3) اس حدیث کی اسنادی بحث کے لیے دیکھئے: (إرواء الغلیل، حدیث: 68)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2364]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 725
روزہ دار کے مسواک کرنے کا بیان۔
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روزہ کی حالت میں اتنی بار مسواک کرتے دیکھا کہ میں اسے شمار نہیں کر سکتا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 725]
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روزہ کی حالت میں اتنی بار مسواک کرتے دیکھا کہ میں اسے شمار نہیں کر سکتا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 725]
اردو حاشہ:
1؎:
خواہ زوال سے پہلے ہو یا زوال کے بعد،
خواہ تازی لکڑی سے ہو،
یا خشک،
یہی اکثراہل علم کا قول ہے اور یہی راجح۔
نوٹ:
(سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف راوی ہے)
1؎:
خواہ زوال سے پہلے ہو یا زوال کے بعد،
خواہ تازی لکڑی سے ہو،
یا خشک،
یہی اکثراہل علم کا قول ہے اور یہی راجح۔
نوٹ:
(سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف راوی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 725]
عبد الله بن عامر العنزي ← عامر بن ربيعة العنزي