🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب ما جاء في أكل الصيد للمحرم
باب: محرم شکار کا گوشت کھائے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 846
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، وَطَلْحَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ، وَالْمُطَّلِبُ لَا نَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنْ جَابِرٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِأَكْلِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ بَأْسًا إِذَا لَمْ يَصْطَدْهُ أَوْ لَمْ يُصْطَدْ مِنْ أَجْلِهِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: هَذَا أَحْسَنُ حَدِيثٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَاب وَأَفْسَرُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خشکی کا شکار تمہارے لیے حالت احرام میں حلال ہے جب کہ تم نے اس کا شکار خود نہ کیا ہو، نہ ہی وہ تمہارے لیے کیا گیا ہو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں ابوقتادہ اور طلحہ رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے،
۲- جابر کی حدیث مفسَّر ہے،
۳- اور ہم مُطّلب کا جابر سے سماع نہیں جانتے،
۴- اور بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ محرم کے لیے شکار کے کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جب اس نے خود اس کا شکار نہ کیا ہو، نہ ہی وہ اس کے لیے کیا گیا ہو،
۵- شافعی کہتے ہیں: یہ اس باب میں مروی سب سے اچھی اور قیاس کے سب سے زیادہ موافق حدیث ہے، اور اسی پر عمل ہے۔ اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 846]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الحج 41 (1851)، سنن النسائی/الحج 81 (2830)، (تحفة الأشراف: 3098)، مسند احمد (3/362) (ضعیف) (سند میں عمروبن ابی عمرو ضعیف ہیں، لیکن اگلی روایت سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (2700 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (3524) ، ضعيف أبي داود (401 / 1851) //
قال الشيخ زبير على زئي:(846) إسناده ضعيف / د 1851، ن 2830

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥المطلب بن عبد الله المخزومي، أبو الحكم
Newالمطلب بن عبد الله المخزومي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق كثير التدليس والإرسال
👤←👥عمرو بن أبي عمرو القرشي، أبو عثمان
Newعمرو بن أبي عمرو القرشي ← المطلب بن عبد الله المخزومي
صدوق يهم
👤←👥يعقوب بن عبد الرحمن القاري
Newيعقوب بن عبد الرحمن القاري ← عمرو بن أبي عمرو القرشي
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← يعقوب بن عبد الرحمن القاري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2830
صيد البر لكم حلال ما لم تصيدوه أو يصاد لكم
جامع الترمذي
846
صيد البر لكم حلال وأنتم حرم ما لم تصيدوه أو يصد لكم
سنن أبي داود
1851
صيد البر لكم حلال ما لم تصيدوه أو يصد لكم
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 846 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 846
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عمرو بن ابی عمرو ضعیف ہیں،
لیکن اگلی روایت سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 846]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1851
محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانا کیسا ہے؟
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: خشکی کا شکار تمہارے لیے اس وقت حلال ہے جب تم خود اس کا شکار نہ کرو اور نہ تمہارے لیے اس کا شکار کیا جائے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: جب دو روایتیں متعارض ہوں تو دیکھا جائے گا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل کس کے موافق ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1851]
1851. اردو حاشیہ: یہ حدیث سندا تو صحیح نہیں۔مگر معنا درست ہے۔اور مسئلہ یہی ہے۔جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے۔(کتاب جزاء الصید۔احادیث۔1825تا1821)اوراگلی حدیث میں بھی مروی ہے۔
➋ امام ابودائود رحمۃ اللہ علیہ کابیان جب دو حدیثیں ایک دوسرے کے برخلاف ملیں الخ معلوم ہونا چاہیے کہ صحیح الاسناد احادیث میں جہاں تعارض محسوس ہوتا ہے ان میں یقیناً پہلے کا قول وعمل مسنوخ اور بعد والا ناسخ ہوتا ہے۔ اور تواریخ کا علم نہ ہوسکے۔تو دیگر وجو ہ ترجیحات کے ذریعے سے ایک کو راحج اور دوسرے کو مرجوح قرار دیا جائے گا۔اس قسم کی تحقیقات علمائے راسخین اور ان کی موثوق تالیفات ہی سے مل سکتی ہیں۔اس موضوع پر علمائے محدثین نے بہت محنت کی ہے۔مثلاً کتاب الاعتبار فی الناسخ والمنسوخ (للحاذی)۔الناسخ والمنسوخ (امام احمدؒ) تجرید الاحادیث المنسوخۃ ابن الجوزی۔بظاہر مختلف المعانی احادیث کے سلسلے میں یہ کتب قابل مراجعہ ہیں۔ اختلاف الحدیث (امام شافعی ؒ) تاویل مختلف الحدیث (ابن قتیبہ عبد اللہ ب ن مسلم ؒ اور۔مشکل الاثار (ابو جعفر احمد بن سلامہ الطحاوی)
➌ امام الائمہ ابو بکر بن خزیمہ ؒ فر مایا کرتے تھے۔ کہ جس شخص کو دو صحیح حدیثوں میں تعارض اور تضاد محسوس ہوتا ہو وہ ہمارے پاس لے آئے ہم ان میں تطبیق دے دیں گے۔اللہ اکبر! یہ ہیں ہمارے اسلاف محدثین۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1851]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2830
محرم جب شکار کی طرف اشارہ کرے اور غیر محرم شکار کرے تو کیا حکم ہے؟
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکار نہ کرو، یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے۔‏‏‏‏ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں «عمرو بن ابی عمرو» قوی نہیں ہیں، گو امام مالک نے ان سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2830]
اردو حاشہ:
(1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان محرمین کے لیے ہے۔ خشکی کی قید اس لیے لگائی کہ سمندری شکار قرآن کی رو سے متفقہ طور پر محرم کے لیے بھی کرنا جائز ہے اور کھانا بھی، البتہ خشکی کا شکار محرم نہ خود کر سکتا ہے اور نہ کسی سے اس سلسلے میں تعاون کر سکتا ہے، ہاں کسی حلال شخص نے اپنے لیے شکار کیا ہو، پھر وہ اس سے محرم کو تحفہ دے دے تو وہ کھا سکتا ہے، نیز اگر اس نے شکار محرم کے لیے کیا ہو تو محرم کے لیے وہ کھانا بھی جائز نہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2821)
(2) امام نسائی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے ایک راوی عمرو بن ابی عمرو کو ضعیف کہا ہے مگر کثیر محدثین نے اسے قوی کہا ہے حتیٰ کہ امام بخاری ومسلم رحمہما اللہ تو اس کی حدیثیں اپنی صحیحین میں لائے ہیں، لہٰذا یہ راوی ثقہ ہے۔ لیکن دوسری وجوہ سے یہ روایت ضعیف ہے، جس کی صراحت تخریج میں ہے، تاہم مسئلہ صحیح ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2830]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 846 in Urdu