🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. باب ما جاء أن الجمار التي يرمى بها مثل حصى الخذف
باب: جمرات کی رمی کے لیے کنکریاں ایسی ہوں کہ انگوٹھے اور شہادت والی انگلی سے پکڑ کر پھینکی جا سکیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 897
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ وَهِيَ أُمُّ جُنْدُبٍ الْأَزْدِيَّةُ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ تَكُونَ الْجِمَارُ الَّتِي يُرْمَى بِهَا مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایسی کنکریوں سے رمی جمار کر رہے تھے جو انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کے درمیان پکڑی جا سکتی تھیں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں سلیمان بن عمرو بن احوص (جو اپنی ماں ام جندب ازدیہ سے روایت کرتے ہیں)، ابن عباس، فضل بن عباس، عبدالرحمٰن بن عثمان تمیمی اور عبدالرحمٰن بن معاذ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اور اسی کو اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ کنکریاں جن سے رمی کی جاتی ہے ایسی ہوں جو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑی جا سکیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: 886 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ کنکریاں «باقلاّ» کے دانے کے برابر ہوتی تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3023)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← ابن جريج المكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3137
يرمي على راحلته يوم النحر تأخذوا مناسككم فإني لا أدري لعلي لا أحج بعد حجتي هذه
صحيح مسلم
3140
رمى الجمرة بمثل حصى الخذف
جامع الترمذي
897
يرمي الجمار بمثل حصى الخذف
جامع الترمذي
886
أوضع في وادي محسر أفاض من جمع وعليه السكينة أمرهم بالسكينة أمرهم أن يرموا بمثل حصى الخذف لعلي لا أراكم بعد عامي هذا
سنن أبي داود
1944
أفاض رسول الله عليه السكينة يرموا بمثل حصى الخذف أوضع في وادي محسر
سنن ابن ماجه
3053
رمى جمرة العقبة ضحى أما بعد ذلك فبعد زوال الشمس
سنن النسائى الصغرى
3024
يرموا الجمرة بمثل حصى الخذف
سنن النسائى الصغرى
3025
السكينة عباد الله
سنن النسائى الصغرى
3055
أوضع في وادي محسر
سنن النسائى الصغرى
3056
دفع من المزدلفة قبل أن تطلع الشمس أردف الفضل بن العباس حتى أتى محسرا حرك قليلا ثم سلك الطريق الوسطى التي تخرجك على الجمرة الكبرى حتى أتى الجمرة التي عند الشجرة فرمى بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها حصى الخذف رمى من بطن الوادي
سنن النسائى الصغرى
3076
رمى الجمرة بمثل حصى الخذف
سنن النسائى الصغرى
3077
يرمي الجمار بمثل حصى الخذف
سنن النسائى الصغرى
3078
رمى الجمرة التي عند الشجرة بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها حصى الخذف رمى من بطن الوادي ثم انصرف إلى المنحر فنحر
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 897 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 897
اردو حاشہ:
1؎:
یہ کنکریاں باقلاّ کے دانے کے برابر ہوتی تھیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 897]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1944
مزدلفہ سے منیٰ جلدی واپس لوٹ جانے کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے اطمینان و سکون کے ساتھ لوٹے اور لوگوں کو حکم دیا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو ہاتھ کی دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آ سکیں اور وادی محسر میں آپ نے اپنی سواری کو تیز کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1944]
1944. اردو حاشیہ: وادی محشر میں اصحاب الفیل پر عذاب نازل ہوا تھا اور مقامات عذاب سے بڑی جلدی نکل جانا چاہیے
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1944]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3024
عرفات سے لوٹتے وقت اطمینان و سکون سے چلنے کے حکم کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، آپ پر سکینت طاری تھی، آپ نے لوگوں کو بھی اطمینان و سکون سے واپس ہونے کا حکم دیا، اور وادی محسر میں اونٹ کو تیزی سے دوڑایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اتنی چھوٹی کنکریوں سے جمرہ کی رمی کریں جنہیں وہ انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مار سکیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3024]
اردو حاشہ:
(1) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف کہا ہے اور مزید لکھا ہے کہ صحیح مسلم کی روایت اس سے کفایت کرتی ہے، یعنی مذکورہ روایت محقق کتاب کے نزدیک بھی قابل عمل ہے جبکہ دیگر محققین نے غالباً اسی وجہ سے اسے صحیح کہا ہے۔ بنا بریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی وجہ سے قابل عمل ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام احمد: 22/ 418، 419، وصحیح سنن أبي داؤد (مفصل) للألباني: 6/ 189، 190)
(2) وادی محسر مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان ہے۔ یہ وہ وادی ہے جہاں ابرہہ کا لشکر تباہ و برباد ہوا تھا۔ گویا یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی جگہ ہے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وادی سے تیزی سے گزرے۔ ہر عذاب والی جگہ سے اسی طرح گزرنے کا حکم ہے، نیزی روتے ہوئے یا رونی صورت بنائے ہوئے خاموشی سے گزرنا چاہیے۔ کنکریوں کے سلسلے میں دیکھیے، حدیث: نمبر 2999۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3024]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3055
وادی محسر میں اونٹ کو تیز بھگانے کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محسر میں اونٹ کو تیز دوڑایا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3055]
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث نمبر: 3024۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3055]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3053
ایام تشریق میں رمی جمار کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی چاشت کے وقت کی، اور اس کے بعد جو رمی کی (یعنی ۱۱، ۱۲ اور ۱۳ ذی الحجہ) کو تو وہ زوال (سورج ڈھلنے) کے بعد کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3053]
اردو حاشہ: دیکھیے فوائد حدیث: 3033۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3053]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3137
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری پر کنکریاں مارتے دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو، کیونکہ میں نہیں جانتا شاید اس حج کے بعد میں حج نہ کر سکوں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3137]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جس دور میں لوگ،
اونٹ پر سوار ہو کرحج کرتے تھے اس کے مطابق قربانی کے دن سوار ہو کررمی کرنا ہی بہتر تھا لیکن اب یہ صورت نہیں رہی ہے اس لیے اب پیدل چل کر ہی رمی کرنا ہوتا ہے اس کے جائز ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
چونکہ فرضیت حج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پہلا حج تھا جس کے آخری ہونے کے اشارات بھی موجود تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خصوصی اہتمام فرمایا کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ سے افعال حج سیکھ سکیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے افعال حج اونٹ پر سوار ہو کر ادا کیے تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو دیکھ سکیں اور ضرورت ہو تو پوچھ بھی سکیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3137]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3140
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ چٹکی سے پھینکے جانے والی کنکری سے مارتے دیکھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3140]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے جمرات مارنے کے لیے چھوٹی کنکریاں جومٹر کے دانے کے برابر یا اس سے تھوڑی سی بڑی ہوں،
استعمال کرنا چاہیے بڑے کنکر جوتے وغیرہ مارنا درست نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3140]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 897 in Urdu