🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
96. باب ما جاء في الذي يهل بالحج فيكسر أو يعرج
باب: جو حج کا تلبیہ پکار رہا ہو پھر اس کا کوئی عضو ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 940
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى "، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَا: صَدَقَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ الْحَجَّاجِ مِثْلَهُ، قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَى مَعْمَرٌ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَحَجَّاجٌ الصَّوَّافُ لَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَافِعٍ، وَحَجَّاجٌ ثِقَةٌ حَافِظٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: رِوَايَةُ مَعْمَرٍ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ أَصَحُّ. حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی عضو ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو اس کے لیے احرام کھول دینا درست ہے، اس پر دوسرا حج لازم ہو گا ۱؎۔ میں نے اس کا ذکر ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے کیا تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں نے (حجاج) سچ کہا۔ اسحاق بن منصور کی سند بھی حجاج رضی الله عنہ سے اسی کے مثل روایت ہے البتہ اس میں «عن الحجاج بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» کے بجائے «سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم» کے الفاظ ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اسی طرح کئی اور لوگوں نے بھی حجاج الصواف سے اسی طرح روایت کی ہے،
۳- معمر اور معاویہ بن سلام نے بھی یہ حدیث بطریق: «يحيى بن أبي كثير عن عكرمة عن عبد الله بن رافع عن الحجاج بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے،
۴- اور حجاج الصواف نے اپنی روایت میں عبداللہ بن رافع کا ذکر نہیں کیا ہے، حجاج الصواف محدثین کے نزدیک ثقہ اور حافظ ہیں،
۵- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ معمر اور معاویہ بن سلام کی روایت سب سے زیادہ صحیح ہے،
۶- عبدالرزاق نے بسند «معمر عن يحيى بن أبي كثير عن عكرمة عن عبد الله بن رافع عن الحجاج بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 940]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الحج 44 (1862)، سنن النسائی/الحج 102 (2863)، سنن ابن ماجہ/المناسک 85 (3077)، (تحفة الأشراف: 3294)، مسند احمد (3/450) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوداؤد کی ایک روایت میں «مِنْ قَابِلٍ» کا اضافہ ہے، یعنی اگلے سال وہ اس حج کی قضاء کرے گا، خطابی کہتے ہیں: یہ اس شخص کے لیے ہے جس کا یہ حج فرض حج رہا ہو، لیکن نفلی حج کرنے والا اگر روک دیا جائے تو اس پر قضاء نہیں، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے، جب کہ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا کہنا ہے کہ اس پر حج اور عمرہ دونوں لازم ہو گا، امام نخعی کا بھی قول یہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3077)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحجاج بن عمرو الأنصاريصحابي
👤←👥عبد الله بن رافع المخزومي، أبو رافع
Newعبد الله بن رافع المخزومي ← الحجاج بن عمرو الأنصاري
ثقة
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن رافع المخزومي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ
👤←👥الحجاج بن أبي عثمان الصواف، أبو عثمان، أبو الصلت
Newالحجاج بن أبي عثمان الصواف ← عبد بن حميد الكشي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله الأنصاري ← الحجاج بن أبي عثمان الصواف
ثقة
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← محمد بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← إسحاق بن منصور الكوسج
صحابي
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← عبد الله بن العباس القرشي
صحابي
👤←👥الحجاج بن عمرو الأنصاري
Newالحجاج بن عمرو الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
صحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← الحجاج بن عمرو الأنصاري
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥الحجاج بن أبي عثمان الصواف، أبو عثمان، أبو الصلت
Newالحجاج بن أبي عثمان الصواف ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة حافظ
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← الحجاج بن أبي عثمان الصواف
ثقة
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← روح بن عبادة القيسي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2863
من عرج أو كسر فقد حل وعليه حجة أخرى
سنن النسائى الصغرى
2864
من كسر أو عرج فقد حل وعليه حجة أخرى
جامع الترمذي
940
من كسر أو عرج فقد حل وعليه حجة أخرى
سنن ابن ماجه
3077
من كسر أو عرج فقد حل وعليه حجة أخرى
سنن ابن ماجه
3078
من كسر أو مرض أو عرج فقد حل وعليه الحج من قابل
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 940 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 940
اردو حاشہ: 1؎:
ابوداود کی ایک روایت میں 'مِنْ قَابِلٍ' کا اضافہ ہے،
یعنی اگلے سال وہ اس حج کی قضاکرے گا،
خطابی کہتے ہیں:
یہ اس شخص کے لیے ہے جس کا یہ حج فرض حج رہا ہو،
لیکن نفلی حج کرنے والا اگرروک دیا جائے تو اس پر قضانہیں،
یہی مالک اورشافعی کا قول ہے،
جب کہ امام ابوحنیفہ اوران کے اصحاب کا کہنا ہے کہ اس پر حج اورعمرہ دونوں لازم ہوگا،
امام نخعی کا بھی قول یہی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 940]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2863
جسے دشمن کے سبب حج سے روک دیا جائے۔
حجاج بن عمرو انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص لنگڑا ہو جائے، یا جس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، تو وہ حلال ہو جائے گا، (اس کا احرام کھل جائے گا) اور اس پر دوسرا حج ہو گا، (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں (یعنی حجاج انصاری) نے سچ کہا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2863]
اردو حاشہ:
یہ حدیث دلیل ہے کہ احصار دشمن کے علاوہ مرض وغیرہ کی بنا پر بھی معتبر ہے جیسا کہ جمہور اہل علم کا مسلک ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے احرام باندھتے وقت شرط لگا لی ہو کہ جہاں میں عاجز آگیا، وہاں حلال ہو جاؤں گا تو وہ بھی عاجز آنے پر بغیر کسی فدیے کے حلال ہو سکتا ہے، جبکہ احصار کی صورت میں جانور ذبح کرنا ہوگا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2863]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2864
جسے دشمن کے سبب حج سے روک دیا جائے۔
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا جو لنگڑا ہو گیا تو وہ حلال ہو گیا، اور اس پر دوسرا حج ہے (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا، تو ان دونوں نے کہا، انہوں (حجاج انصاری) نے سچ کہا ہے۔ اور شعیب اپنی روایت میں «وعليه حجة أخرى» ان پر دوسرا حج ہے کے بجائے «وعليه الحج من قابل‏» آئندہ سال ان پر حج ہے کہا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2864]
اردو حاشہ:
آئندہ سال حج ہوگا یعنی اگر یہ فرض حج تھا اور وہ ابھی تک بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ورنہ اس پر حج لازم نہیں یہی حکم عمرے کا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2864]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3078
معذور حاجی (جو مناسک حج ادا نہ کر سکے) کا بیان۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ سے محرم کے رک جانے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا بیمار ہو گیا، یا لنگڑا ہو گیا تو وہ حلال ہو گیا اور اس پر آئندہ سال حج ہے ۱؎۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بیان کی تو انہوں نے کہا: حجاج نے سچ کہا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث ہشام صاحب دستوائی کی کتاب میں ملی، تو اسے لے کر میں معمر کے پاس آیا، تو انہوں نے ی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3078]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
احرام باندھنے کے بعد حج یا عمرہ کرنے والے کو راستے میں کوئی رکاوٹ پیش آجائے تواسے محصر کہتے ہیں۔

(2)
ایسے شخص کو جب یقین ہوجائے کی سفر جاری رکھنا ناممکن ہے تو اسے چاہیے کہ وہیں احرام کھول دے۔
اگر اس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو تو اسے وہیں ذبح کردے۔
جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ کے سفر میں کیا تھا۔

(3)
عذر کی وجہ سے نامکمل رہ جانے والا حج مکمل حج کے حکم میں نہیں اس لیے اگر بعد میں حج کی طاقت ہو تو حج کرنا ضروری ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3078]