🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. باب : المحصر
باب: معذور حاجی (جو مناسک حج ادا نہ کر سکے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3078
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو ، عَنْ حَبْسِ الْمُحْرِمِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كُسِرَ أَوْ مَرِضَ أَوْ عَرَجَ، فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ"، قَالَ عِكْرِمَةُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَا: صَدَقَ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: فَوَجَدْتُهُ فِي جُزْءِ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، فَأَتَيْتُ بِهِ مَعْمَرًا، فَقَرَأَ عَلَيَّ، أَوْ قَرَأْتُ عَلَيْهِ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ سے محرم کے رک جانے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا بیمار ہو گیا، یا لنگڑا ہو گیا تو وہ حلال ہو گیا اور اس پر آئندہ سال حج ہے ۱؎۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بیان کی تو انہوں نے کہا: حجاج نے سچ کہا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث ہشام صاحب دستوائی کی کتاب میں ملی، تو اسے لے کر میں معمر کے پاس آیا، تو انہوں نے یہ حدیث مجھے پڑھ کر سنائی یا میں نے ا نہیں پڑھ کر سنائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3294، 6241، 14254) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حدیث کا سماع دونوں طرح سے جائز ہے کہ استاد پڑھے، اور شاگرد سنے یا شاگرد پڑھے اور استاد سنے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← أبو هريرة الدوسي
صحابي
👤←👥الحجاج بن عمرو الأنصاري
Newالحجاج بن عمرو الأنصاري ← عبد الله بن العباس القرشي
صحابي
👤←👥عبد الله بن رافع المخزومي، أبو رافع
Newعبد الله بن رافع المخزومي ← الحجاج بن عمرو الأنصاري
ثقة
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن رافع المخزومي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥سلمة بن شبيب المسمعي، أبو عبد الرحمن
Newسلمة بن شبيب المسمعي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2863
من عرج أو كسر فقد حل وعليه حجة أخرى
سنن النسائى الصغرى
2864
من كسر أو عرج فقد حل وعليه حجة أخرى
جامع الترمذي
940
من كسر أو عرج فقد حل وعليه حجة أخرى
سنن ابن ماجه
3077
من كسر أو عرج فقد حل وعليه حجة أخرى
سنن ابن ماجه
3078
من كسر أو مرض أو عرج فقد حل وعليه الحج من قابل
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3078 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3078
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
احرام باندھنے کے بعد حج یا عمرہ کرنے والے کو راستے میں کوئی رکاوٹ پیش آجائے تواسے محصر کہتے ہیں۔

(2)
ایسے شخص کو جب یقین ہوجائے کی سفر جاری رکھنا ناممکن ہے تو اسے چاہیے کہ وہیں احرام کھول دے۔
اگر اس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو تو اسے وہیں ذبح کردے۔
جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ کے سفر میں کیا تھا۔

(3)
عذر کی وجہ سے نامکمل رہ جانے والا حج مکمل حج کے حکم میں نہیں اس لیے اگر بعد میں حج کی طاقت ہو تو حج کرنا ضروری ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3078]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2863
جسے دشمن کے سبب حج سے روک دیا جائے۔
حجاج بن عمرو انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص لنگڑا ہو جائے، یا جس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، تو وہ حلال ہو جائے گا، (اس کا احرام کھل جائے گا) اور اس پر دوسرا حج ہو گا، (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں (یعنی حجاج انصاری) نے سچ کہا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2863]
اردو حاشہ:
یہ حدیث دلیل ہے کہ احصار دشمن کے علاوہ مرض وغیرہ کی بنا پر بھی معتبر ہے جیسا کہ جمہور اہل علم کا مسلک ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے احرام باندھتے وقت شرط لگا لی ہو کہ جہاں میں عاجز آگیا، وہاں حلال ہو جاؤں گا تو وہ بھی عاجز آنے پر بغیر کسی فدیے کے حلال ہو سکتا ہے، جبکہ احصار کی صورت میں جانور ذبح کرنا ہوگا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2863]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2864
جسے دشمن کے سبب حج سے روک دیا جائے۔
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا جو لنگڑا ہو گیا تو وہ حلال ہو گیا، اور اس پر دوسرا حج ہے (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا، تو ان دونوں نے کہا، انہوں (حجاج انصاری) نے سچ کہا ہے۔ اور شعیب اپنی روایت میں «وعليه حجة أخرى» ان پر دوسرا حج ہے کے بجائے «وعليه الحج من قابل‏» آئندہ سال ان پر حج ہے کہا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2864]
اردو حاشہ:
آئندہ سال حج ہوگا یعنی اگر یہ فرض حج تھا اور وہ ابھی تک بیت اللہ تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ورنہ اس پر حج لازم نہیں یہی حکم عمرے کا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2864]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 940
جو حج کا تلبیہ پکار رہا ہو پھر اس کا کوئی عضو ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو کیا کرے؟
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی عضو ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو اس کے لیے احرام کھول دینا درست ہے، اس پر دوسرا حج لازم ہو گا ۱؎۔ میں نے اس کا ذکر ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے کیا تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں نے (حجاج) سچ کہا۔ اسحاق بن منصور کی سند بھی حجاج رضی الله عنہ سے اسی کے مثل روایت ہے البتہ اس میں «عن الحجاج بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» کے بجائے «سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم» کے الفاظ ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 940]
اردو حاشہ: 1؎:
ابوداود کی ایک روایت میں 'مِنْ قَابِلٍ' کا اضافہ ہے،
یعنی اگلے سال وہ اس حج کی قضاکرے گا،
خطابی کہتے ہیں:
یہ اس شخص کے لیے ہے جس کا یہ حج فرض حج رہا ہو،
لیکن نفلی حج کرنے والا اگرروک دیا جائے تو اس پر قضانہیں،
یہی مالک اورشافعی کا قول ہے،
جب کہ امام ابوحنیفہ اوران کے اصحاب کا کہنا ہے کہ اس پر حج اورعمرہ دونوں لازم ہوگا،
امام نخعی کا بھی قول یہی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 940]