صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: انصار کے مناقب
The Merits of Al-Ansar
حدیث نمبر: 3938
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثني حامد بن عمر، عن بشر بن المفضل، حدثنا حميد، حدثنا انس، ان عبد الله بن سلام بلغه مقدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة فاتاه يساله عن اشياء، فقال:" إني سائلك عن ثلاث لا يعلمهن إلا نبي , ما اول اشراط الساعة؟ وما اول طعام ياكله اهل الجنة؟ وما بال الولد ينزع إلى ابيه او إلى امه؟ قال:" اخبرني به جبريل آنفا، قال ابن سلام: ذاك عدو اليهود من الملائكة، قال:" اما اول اشراط الساعة فنار تحشرهم من المشرق إلى المغرب، واما اول طعام ياكله اهل الجنة فزيادة كبد الحوت، واما الولد فإذا سبق ماء الرجل ماء المراة نزع الولد، وإذا سبق ماء المراة ماء الرجل نزعت الولد"، قال: اشهد ان لا إله إلا الله , وانك رسول الله، قال: يا رسول الله إن اليهود قوم بهت فاسالهم عني قبل ان يعلموا بإسلامي , فجاءت اليهود، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اي رجل عبد الله بن سلام فيكم؟ قالوا: خيرنا وابن خيرنا , وافضلنا وابن افضلنا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" ارايتم إن اسلم عبد الله بن سلام، قالوا: اعاذه الله من ذلك فاعاد عليهم، فقالوا: مثل ذلك فخرج إليهم عبد الله، فقال: اشهد ان لا إله إلا الله , وان محمدا رسول الله، قالوا: شرنا وابن شرنا وتنقصوه، قال: هذا كنت اخاف يا رسول الله.(مرفوع) حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ بَلَغَهُ مَقْدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَاهُ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَقَالَ:" إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ , مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ؟ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ وَمَا بَالُ الْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أَبِيهِ أَوْ إِلَى أُمِّهِ؟ قَالَ:" أَخْبَرَنِي بِهِ جِبْرِيلُ آنِفًا، قَالَ ابْنُ سَلَامٍ: ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، قَالَ:" أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَأَمَّا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ، وَأَمَّا الْوَلَدُ فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدَ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَتِ الْوَلَدَ"، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهُتٌ فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِي , فَجَاءَتْ الْيَهُودُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فِيكُمْ؟ قَالُوا: خَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا , وَأَفْضَلُنَا وَابْنُ أَفْضَلِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، قَالُوا: أَعَاذَهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ فَأَعَادَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مِثْلَ ذَلِكَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالُوا: شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا وَتَنَقَّصُوهُ، قَالَ: هَذَا كُنْتُ أَخَافُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.
مجھ سے حامد بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے، ان سے حمید طویل نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ جب عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے کی خبر ہوئی تو وہ آپ سے چند سوال کرنے کے لیے آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے متعلق پوچھوں گا جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کی سب سے پہلی نشانی کیا ہو گی؟ اہل جنت کی ضیافت سب سے پہلے کس کھانے سے کی جائے گی؟ اور کیا بات ہے کہ بچہ کبھی باپ پر جاتا ہے اور کبھی ماں پر؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جواب ابھی مجھے جبرائیل نے آ کر بتایا ہے۔ عبداللہ بن سلام نے کہا کہ یہ ملائکہ میں یہودیوں کے دشمن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے جو انسانوں کو مشرق سے مغرب کی طرف لے جائے گی۔ جس کھانے سے سب سے پہلے اہل جنت کی ضیافت ہو گی وہ مچھلی کی کلیجی کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہو گا (جو نہایت لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے) اور بچہ باپ کی صورت پر اس وقت جاتا ہے جب عورت کے پانی پر مرد کا پانی غالب آ جائے اور جب مرد کے پانی پر عورت کا پانی غالب آ جائے تو بچہ ماں پر جاتا ہے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہودی بڑے بہتان لگانے والے لوگ ہیں۔ اس لیے آپ اس سے پہلے کہ میرے اسلام کے بارے میں انہیں کچھ معلوم ہو، ان سے میرے متعلق دریافت فرمائیں۔ چنانچہ چند یہودی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہاری قوم میں عبداللہ بن سلام کون ہیں؟ وہ کہنے لگے کہ ہم میں سب سے بہتر اور سب سے بہتر کے بیٹے ہیں، ہم میں سب سے افضل اور سب سے افضل کے بیٹے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسلام لائیں؟ وہ کہنے لگے اس سے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی پناہ میں رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان سے یہی سوال کیا اور انہوں نے یہی جواب دیا۔ اس کے بعد عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر آئے اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔ اب وہ کہنے لگے یہ تو ہم میں سب سے بدتر آدمی ہیں اور سب سے بدتر باپ کے بیٹے ہیں۔ فوراً ہی برائی شروع کر دی، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اسی کا مجھے ڈر تھا۔

Narrated Anas: When the news of the arrival of the Prophet at Medina reached `Abdullah bin Salam, he went to him to ask him about certain things, He said, "I am going to ask you about three things which only a Prophet can answer: What is the first sign of The Hour? What is the first food which the people of Paradise will eat? Why does a child attract the similarity to his father or to his mother?" The Prophet replied, "Gabriel has just now informed me of that." Ibn Salam said, "He (i.e. Gabriel) is the enemy of the Jews amongst the angels. The Prophet said, "As for the first sign of The Hour, it will be a fire that will collect the people from the East to the West. As for the first meal which the people of Paradise will eat, it will be the caudate (extra) lobe of the fish-liver. As for the child, if the man's discharge proceeds the woman's discharge, the child attracts the similarity to the man, and if the woman's discharge proceeds the man's, then the child attracts the similarity to the woman." On this, `Abdullah bin Salam said, "I testify that None has the right to be worshipped except Allah, and that you are the Apostle of Allah." and added, "O Allah's Apostle! Jews invent such lies as make one astonished, so please ask them about me before they know about my conversion to I slam . " The Jews came, and the Prophet said, "What kind of man is `Abdullah bin Salam among you?" They replied, "The best of us and the son of the best of us and the most superior among us, and the son of the most superior among us. "The Prophet said, "What would you think if `Abdullah bin Salam should embrace Islam?" They said, "May Allah protect him from that." The Prophet repeated his question and they gave the same answer. Then `Abdullah came out to them and said, "I testify that None has the right to be worshipped except Allah and that Muhammad is the Apostle of Allah!" On this, the Jews said, "He is the most wicked among us and the son of the most wicked among us." So they degraded him. On this, he (i.e. `Abdullah bin Salam) said, "It is this that I was afraid of, O Allah's Apostle.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 5, Book 58, Number 275


   صحيح البخاري3329أنس بن مالكأول أشراط الساعة فنار تحشر الناس من المشرق إلى المغرب أول طعام يأكله أهل الجنة فزيادة كبد حوت الرجل إذا غشي المرأة فسبقها ماؤه كان الشبه له إذا سبق ماؤها كان الشبه لها قال أشهد أنك رسول الله ثم قال يا رسول الله إن اليهود قوم بهت إن علموا بإسلامي قبل أن تس
   صحيح البخاري3938أنس بن مالكذاك عدو اليهود من الملائكة أول أشراط الساعة فنار تحشرهم من المشرق إلى المغرب أول طعام يأكله أهل الجنة فزيادة كبد الحوت الولد فإذا سبق ماء الرجل ماء المرأة نزع الولد وإذا سبق ماء المرأة ماء الرجل نزعت الولد أرأيتم إن أسلم عبد الله بن سلام قالوا أعاذه الله
   سنن النسائى الصغرى200أنس بن مالكماء الرجل غليظ أبيض وماء المرأة رقيق أصفر فأيهما سبق كان الشبه

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 200  
´مرد اور عورت کی منی میں فرق کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد کی منی گاڑھی اور سفید ہوتی ہے، اور عورت کی منی پتلی زرد ہوتی ہے، تو دونوں میں جس کی منی سبقت کر جائے ۱؎ بچہ اسی کی ہم شکل ہوتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 200]
200۔ اردو حاشیہ: جماع سے مرد اور عورت کی منی مل جاتی ہے۔ منی دراصل جراثیم کا مجموعہ ہوتا ہے، جس منی کے جرثومے قوی ہوں گے، وہ دوسری پر غالب آ جائے گی اور بچے کی مشابہت اس سے ہو گی۔ بعض نے «سَبَقَ» کے معنی پہلے نکلنا بھی کیے ہیں۔ واللہ أعلم۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث\صفحہ نمبر: 200   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3938  
3938. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو خبر ملی کہ نبی ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لے آئے ہیں تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور چند ایک چیزوں کے بارے میں پوچھا، چنانچہ انہوں نے کہا: میں آپ سے تین چیزوں کے متعلق دریافت کرتا ہوں جنہیں صرف نبی ہی جانتا ہے: قیامت کی پہلی علامت کیا ہے؟ پہلا کھانا جو اہل جنت تناول کریں گے وہ کیا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی باپ سے مشابہ ہوتا ہے اور کبھی ماں کی شکل و صورت پر ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ابھی ابھی ان باتوں کی حضرت جبریل ؑ نے خبر دی ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے عرض کیا: فرشتوں میں وہ تو یہودیوں کا دشمن ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی پہلی علامت آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب تک ہانک کر لائے گی۔ پہلا کھانا جو جنتی تناول کریں گے وہ مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہو گا (جو نہایت لذیذ اور جلد ہضم ہونے والا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3938]
حدیث حاشیہ:
کہ یہودی جب میرے اسلام کا حال سنیں گے تو پہلے ہی برا کہیں گے تو آپ نے سن لیا ان کی بے ایمانی معلوم ہو گئی پہلے تو تعریف کی جب اپنے مطلب کے خلاف ہوا تو لگے برائی کرنے۔
بے ایمانوں کا یہی شیوہ ہے جو شخص ان کے مشرب کے خلاف ہو وہ کتنا عالم فاضل صاحب ہنر اچھا شخص ہو لیکن اس کی برائی کرتے ہیں۔
اب تو ہر جگہ یہ آفت پھیل گئی ہے کہ اگر کوئی عالم فاضل شخص علمائے سوء کا ایک مسئلہ میں اختلاف کرے تو بس اس کے سارے فضائل اور کمالات کو ایک طرف ڈال کر اس کے دشمن بن جاتے ہیں جو ادبار وتنزل کی نشانی ہے۔
اکثر فقہی متعصب علماء بھی اس مرض میں گرفتار ہیں۔
إلا ما شاء اللہ۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 3938   
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3938  
3938. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو خبر ملی کہ نبی ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لے آئے ہیں تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور چند ایک چیزوں کے بارے میں پوچھا، چنانچہ انہوں نے کہا: میں آپ سے تین چیزوں کے متعلق دریافت کرتا ہوں جنہیں صرف نبی ہی جانتا ہے: قیامت کی پہلی علامت کیا ہے؟ پہلا کھانا جو اہل جنت تناول کریں گے وہ کیا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ بچہ کبھی باپ سے مشابہ ہوتا ہے اور کبھی ماں کی شکل و صورت پر ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ابھی ابھی ان باتوں کی حضرت جبریل ؑ نے خبر دی ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے عرض کیا: فرشتوں میں وہ تو یہودیوں کا دشمن ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی پہلی علامت آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب تک ہانک کر لائے گی۔ پہلا کھانا جو جنتی تناول کریں گے وہ مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہو گا (جو نہایت لذیذ اور جلد ہضم ہونے والا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3938]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں قوم یہود کی ایک عادت بیان ہوئی ہے کہ جب وہ اپنے خلاف کسی سے کوئی بات سنتے ہیں تو اس کے خلاف بدزبانی کرناشروع کردیتے ہیں۔
بدکردار لوگوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ جو شخص ان کے مزاج کے خلاف ہو، خواہ وہ کتنا بڑا عالم کیوں نہ ہو وہ اس کی بُرائی کریں گے۔
علماء سوء کا بھی یہی حال ہے کہ اگر کوئی عالم فاضل ان کے اختیار کردہ کسی مؤقف سے اختلاف کرے تو اس کے سب فضائل وکمالات ایک طرف ڈال کر اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔
اکثر فقہی متعصب علماء اس مرض میں گرفتار ہیں۔

چونکہ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی مدینہ طیبہ تشریف آوری کاذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو بیان فرمایا ہے۔

حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ مچھلی کا جگر انتہائی لذیذ اور بہترین کھانا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ اہل جنت کی جنت میں پہلے اس کھانے سے ضیافت فرمائے گا۔
حضرت ثوبان ؓ کی حدیث میں ہے کہ جب جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو ان کا ناشتہ مچھلی کے جگر سے ہوگا اورچشمہ سلسبیل سے جام بھر بھر کر انھیں پلائے جائیں گے۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 93/2، وفتح الباري: 341/7)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 3938   

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.