🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب هل يجعل للنساء يوم على حدة فى العلم:
باب: اس بیان میں کہ کیا عورتوں کی تعلیم کے لیے کوئی خاص دن مقرر کیا جا سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 101
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَتِ النِّسَاءُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ نَفْسِكَ، فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا لَقِيَهُنَّ فِيهِ فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُنَّ" مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِهَا إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ، فَقَالَتْ: امْرَأَةٌ وَاثْنَتَيْنِ، فَقَالَ: وَاثْنَتَيْنِ".
ہم سے آدم نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابن الاصبہانی نے، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے سنا، وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فائدہ اٹھانے میں) مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے (وعظ کے) لیے (بھی) کوئی دن خاص فرما دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرما لیا۔ اس دن عورتوں سے آپ نے ملاقات کی اور انہیں وعظ فرمایا اور (مناسب) احکام سنائے جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی کہ جو کوئی عورت تم میں سے (اپنے) تین (لڑکے) آگے بھیج دے گی تو وہ اس کے لیے دوزخ سے پناہ بن جائیں گے۔ اس پر ایک عورت نے کہا، اگر دو (بچے بھیج دے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اور دو (کا بھی یہ حکم ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 101]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چند عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مرد آپ سے فائدہ اٹھانے میں ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے لیے کوئی دن مقرر فرما دیں۔ آپ نے ان کی ملاقات کے لیے ایک دن کا وعدہ کر لیا، چنانچہ اس دن آپ نے انہیں نصیحت فرمائی اور شریعت کے احکام بتائے۔ آپ نے انہیں جو باتیں تلقین فرمائیں، ان میں ایک یہ بھی تھی: تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی تو وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ سے حجاب بن جائیں گے۔ ایک عورت نے عرض کیا: اگر کوئی دو بھیجے تو؟ آپ نے فرمایا: دو کا بھی یہی حکم ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 101]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1249
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ النِّسَاءَ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْ لَنَا يَوْمًا، فَوَعَظَهُنَّ , وَقَالَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَ لَهَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ كَانُوا حِجَابًا مِنَ النَّارِ , قَالَتِ امْرَأَةٌ: وَاثْنَانِ، قَالَ: وَاثْنَانِ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ اصبہانی نے، ان سے ذکوان نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمیں بھی نصیحت کرنے کے لیے آپ ایک دن خاص فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کی درخواست منظور فرماتے ہوئے ایک خاص دن میں) ان کو وعظ فرمایا اور بتلایا کہ جس عورت کے تین بچے مر جائیں تو وہ اس کے لیے جہنم سے پناہ بن جاتے ہیں۔ اس پر ایک عورت نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو ہی بچے مریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو بچوں پر بھی۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 1249]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ہمارے لیے کوئی دن مقرر فرما دیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ کیا اور فرمایا: جس عورت کے تین بچے مر جائیں وہ دوزخ کی آگ سے اس کے لیے رکاوٹ بن جائیں گے۔ ایک عورت نے کہا: دو بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بھی (حجاب بنیں گے)۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 1249]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7310
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،" جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ، فَقَالَ: اجْتَمِعْنَ، فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَاجْتَمَعْنَ، فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوِ اثْنَيْنِ، قَالَ: فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن الاصبہانی نے، ان سے ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کی تمام احادیث مرد لے گئے، ہمارے لیے بھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جاؤ۔ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو عورت بھی اپنی زندگی میں اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی۔ (یعنی ان کی وفات ہو جائے گی) تو وہ اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔ اس پر ان میں سے ایک خاتون نے کہا: یا رسول اللہ! دو؟ انہوں نے اس کلمہ کو دو مرتب دہرایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں دو، دو، دو بھی یہی درجہ رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7310]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کی احادیث تو مرد حضرات ہی سنتے ہیں، آپ اپنی طرف سے ہمارے لیے بھی کوئی دن مقرر فرما دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فلاں فلاں مقام پر جمع ہو جاؤ۔ وہ عورتیں وہاں جمع ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے اور انہیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو عورت اپنی زندگی میں تین بچے آگے بھیج دے گی تو وہ اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔ ان میں سے ایک خاتون نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! دو بچوں کا بھی یہی حکم ہے؟ اس نے اس بات کو دو مرتبہ دہرایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بھی، دو بھی، دو بھی (ان کا بھی یہی درجہ ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب العلم/حدیث: 7310]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں