صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. باب صفوف الصبيان مع الرجال على الجنائز:
باب: جنازے کی نماز میں بچے بھی مردوں کے برابر کھڑے ہوں۔
حدیث نمبر: 1321
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ قَدْ دُفِنَ لَيْلًا , فَقَالَ: مَتَى دُفِنَ هَذَا؟ , قَالُوا: الْبَارِحَةَ، قَالَ: أَفَلَا آذَنْتُمُونِي؟ , قَالُوا: دَفَنَّاهُ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، فَقَامَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا فِيهِمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ".
ہم سے موسیٰ ابن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شیبانی نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبر پر ہوا۔ میت کو ابھی رات ہی دفنایا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ دفن کب کیا گیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ گذشتہ رات۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کیوں نہیں اطلاع کرائی؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اندھیری رات میں دفن کیا گیا ‘ اس لیے ہم نے آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں بھی انہیں میں تھا (نابالغ تھا لیکن) نماز جنازہ میں شرکت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1321]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی قبر کے پاس سے گزرے جس میں رات کے وقت میت کو دفن کیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اسے کب دفن کیا گیا تھا؟“ لوگوں نے عرض کیا: گزشتہ رات۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے اسے اندھیری رات میں دفن کیا تھا اور آپ کو اس وقت بیدار کرنا مناسب خیال نہ کیا، چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا، پھر آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 458
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِت، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَسْوَدَ أَوِ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَقَالُوا: مَاتَ، قَالَ:" أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ، دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ أَوْ قَالَ قَبْرِهَا، فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ثابت سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک حبشی مرد یا حبشی عورت مسجد نبوی میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ ایک دن اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت فرمایا۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ تو انتقال کر گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے مجھے کیوں نہ بتایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 458]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام مرد یا عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا، وہ فوت ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے اس کی بابت پوچھا؟ انہوں نے کہا: وہ تو فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا تم نے مجھے اس کی اطلاع کیوں نہ دی؟ اچھا اب مجھے اس کی قبر بتاؤ۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور وہاں نماز جنازہ ادا کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 458]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 460
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ امْرَأَةً أَوْ رَجُلًا كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ وَلَا أُرَاهُ إِلَّا امْرَأَةً، فَذَكَرَ حَدِيثَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى عَلَى قَبْرِهَا".
ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا کہ، کہا ہم سے حماد بن زید نے ثابت بنانی کے واسطہ سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک عورت یا مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا۔ ابورافع نے کہا، میرا خیال ہے کہ وہ عورت ہی تھی۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نقل کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر نماز پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 460]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت یا ایک مرد مسجدِ نبوی میں جھاڑو دیا کرتا تھا، راویِ حدیث ابورافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق وہ عورت ہی تھی، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نقل فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر نماز پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 460]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 857
حَدَّثَنَا بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ:" أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ، فَأَمَّهُمْ وَصَفُّوا عَلَيْهِ"، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو، مَنْ حَدَّثَكَ؟ فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان شیبانی سے سنا، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی جو (ایک مرتبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اکیلی الگ تھلگ ٹوٹی ہوئی قبر پر سے گزر رہے تھے وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھے ہوئے تھے۔ سلیمان نے کہا کہ میں نے شعبی سے پوچھا کہ ابوعمرو آپ سے یہ کس نے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 857]
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے اس شخص نے خبر دی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ایک ایسی قبر سے گزرے جو دوسری قبروں سے الگ تھلگ تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی امامت کرائی اور انہوں نے صف بندی کی۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے ابوعمرو سے سوال کیا کہ تجھے کس نے بیان کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 857]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1319
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَصَفَّهُمْ , وَكَبَّرَ أَرْبَعًا"، قُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شیبانی نے ‘ ان سے شعبی نے بیان کیا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر پر آئے جو اور قبروں سے الگ تھلگ تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صف بندی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1319]
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے اس شخص نے خبر دی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک الگ تھلگ قبر پر تشریف لائے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی صف بندی فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ شیبانی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اے ابو عمرو! شعبی! تم سے کس نے بیان کیا؟ تو انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (یہ حدیث بیان کی تھی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1319]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1322
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ: فَأَمَّنَا فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ , فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ؟ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے شیبانی نے اور ان سے شعبی نے بیان کیا کہ مجھے اس صحابی نے خبر دی تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر پر سے گزرا۔ وہ کہتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری امامت کی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں۔ ہم نے پوچھا کہ ابوعمرو (یہ شعبی کی کنیت ہے) یہ آپ سے بیان کرنے والے کون صحابی ہیں؟ فرمایا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1322]
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے اس شخص نے خبر دی جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک ایسی قبر سے گزر ہوا جو دوسری قبروں سے الگ تھلگ ایک طرف تھی۔ (انہوں نے کہا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری امامت کرائی اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی (اور آپ کے ہمراہ نماز جنازہ ادا کی) ہم نے کہا: اے ابو عمرو! تم سے کس شخص نے یہ حدیث بیان کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1322]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1326
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرًا , فَقَالُوا: هَذَا دُفِنَ أَوْ دُفِنَتِ الْبَارِحَةَ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَصَفَّنَا خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی بکیر نے ‘ انہوں نے کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق شیبانی نے ‘ ان سے عامر نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر پر تشریف لائے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس میت کو گزشتہ رات دفن کیا گیا ہے۔ (صاحب قبر مرد تھا یا عورت تھی) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بندی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1326]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس تشریف لائے تو لوگوں نے عرض کیا: اسے گزشتہ رات دفن کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، پھر آپ نے اس پر نماز جنازہ ادا کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1326]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1336
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ , قَالَ:" أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَلَّوْا خَلْفَهُ"، قُلْتُ: مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا يَا أَبَا عَمْرٍو؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے شعبی سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے اس صحابی نے خبر دی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر سے گزرے تھے۔ قبر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام بنے اور صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی۔ شیبانی نے کہا کہ میں نے شعبی سے پوچھا کہ ابوعمرو! یہ آپ سے کس صحابی نے بیان کیا تھا تو انہوں نے بتلایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1336]
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں لوگوں کی امامت کی اور لوگوں نے آپ کے پیچھے نماز (جنازہ) پڑھی۔ شیبانی کہتے ہیں: میں نے ابو عمرو شعبی رحمہ اللہ سے دریافت کیا: آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی تھی؟ انہوں نے فرمایا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے متعلق بتایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1336]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1337
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ أَسْوَدَ رَجُلًا , أَوِ امْرَأَةً , كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ , وَلَمْ يَعْلَمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْتِهِ، فَذَكَرَهُ ذَاتَ يَوْمٍ , فَقَالَ: مَا فَعَلَ ذَلِكَ الْإِنْسَانُ؟ , قَالُوا: مَاتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَفَلَا آذَنْتُمُونِي، فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ كَذَا , وَكَذَا قِصَّتُهُ، قَالَ: فَحَقَرُوا شَأْنَهُ، قَالَ فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ".
ہم سے محمد بن فضل نے کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے بیان کیا ‘ ان سے ابورافع نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ کالے رنگ کا ایک مرد یا ایک کالی عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھیں ‘ ان کی وفات ہو گئی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وفات کی خبر کسی نے نہیں دی۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یاد فرمایا کہ وہ شخص دکھائی نہیں دیتا۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ان کا تو انتقال ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی؟ صحابہ نے عرض کی کہ یہ وجوہ تھیں (اس لیے آپ کو تکلیف نہیں دی گئی) گویا لوگوں نے ان کو حقیر جان کر قابل توجہ نہیں سمجھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چلو مجھے ان کی قبر بتا دو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1337]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام (مرد یا عورت) مسجد میں رہتا اور جھاڑو دیا کرتا تھا۔ اس کا انتقال ہو گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی موت کا علم نہ ہو سکا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر فرمایا اور دریافت کیا: ”وہ شخص کہاں ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی وفات ہو گئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تم لوگوں نے مجھے مطلع کیوں نہ کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: حضرت! اس کا قصہ تو اس طرح ہے، گویا انہوں نے اس کا معاملہ اتنا اہم نہ سمجھا۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر سے آگاہ کرو۔“ چنانچہ آپ اس کی قبر پر تشریف لائے اور نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1337]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1340
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ بِلَيْلَةٍ، قَامَ هُوَ , وَأَصْحَابُهُ وَكَانَ سَأَلَ عَنْهُ , فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ , فَقَالُوا: فُلَانٌ، دُفِنَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّوْا عَلَيْهِ".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے شیبانی نے ‘ ان سے شعبی نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھی جن کا انتقال رات کے وقت ہوا (اور اسے رات ہی میں دفن کر دیا گیا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق پوچھا تھا کہ یہ کن کی قبر ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ فلاں کی ہے جسے کل رات ہی دفن کیا گیا ہے۔ پھر سب نے (دوسرے روز) نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1340]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھی جو رات دفن کیا گیا تھا۔ آپ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اٹھے اور آپ نے اس شخص کے متعلق دریافت کیا اور فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: یہ فلاں شخص ہے جسے گزشتہ رات دفن کیا گیا تھا، چنانچہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1340]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة