🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ التِّجَارَةِ فِي الْبَرِّ:
باب: خشکی میں تجارت کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2061
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ: كُنْتُ أَتَّجِرُ فِي الصَّرْفِ، فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَا: كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ؟ فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ، وَإِنْ كَانَ نَسَاءً فَلَا يَصْلُحُ".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی اور ان سے ابوالمنہال نے بیان کیا کہ میں سونے چاندی کی تجارت کیا کرتا تھا۔ اس لیے میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا کہ ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار اور عامر بن مصعب نے خبر دی، ان دونوں حضرات نے ابوالمنہال سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے سونے چاندی کی تجارت کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تاجر تھے، اس لیے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے چاندی کے متعلق پوچھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب یہ دیا تھا کہ (لین دین) ہاتھوں ہاتھ ہو تو کوئی حرج نہیں لیکن ادھار کی صورت میں جائز نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2061]
حضرت ابو منہال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں کرنسی کا کاروبار کرتا تھا۔ میں نے اس کے متعلق حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک دوسری سند کے مطابق حضرت ابو منہال کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے کرنسی کے کاروبار کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تجارت کرتے تھے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «بَيْعِ صَرْفٍ» یعنی کرنسی کے کاروبار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر نقد بہ نقد ہو تو کوئی حرج نہیں، اگر ادھار ہو تو جائز نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2061]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2180
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَ عَنِ الصَّرْفِ؟ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَقُولُ: هَذَا خَيْرٌ مِنِّي، فَكِلَاهُمَا يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ دَيْنًا".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حبیب بن ابی ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوالمنہال سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے متعلق پوچھا تو ان دونوں حضرات نے ایک دوسرے کے متعلق فرمایا کہ یہ مجھ سے بہتر ہیں۔ آخر دونوں حضرات نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو چاندی کے بدلے میں ادھار کی صورت میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2180]
حضرت ابو منہال سے روایت ہے انہوں نے حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے متعلق دریافت کیا، تو ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کے متعلق کہا کہ یہ مجھ سے بہتر ہے۔ پھر دونوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو چاندی کے عوض ادھار فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2180]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2497
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْأَسْوَدِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ عَنِ الصَّرْفِ يَدًا بِيَدٍ، فَقَالَ: اشْتَرَيْتُ أَنَا وَشَرِيكٌ لِي شَيْئًا يَدًا بِيَدٍ وَنَسِيئَةً، فَجَاءَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ فَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: فَعَلْتُ أَنَا وَشَرِيكِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، وَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَخُذُوهُ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَذَرُوهُ".
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عثمان نے جو اسود کے بیٹے ہیں، کہا کہ مجھے سلیمان بن ابی مسلم نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالمنہال سے بیع صرف نقد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اور میرے ایک شریک نے کوئی چیز (سونے اور چاندی کی) خریدی نقد پر بھی اور ادھار پر بھی۔ پھر ہمارے یہاں براء بن عازب رضی اللہ عنہ آئے تو ہم نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اور میرے شریک زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی یہ بیع کی تھی اور ہم نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو نقد ہو وہ لے لو اور جو ادھار ہو اسے چھوڑ دو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2497]
سلیمان بن ابو مسلم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابو منہال سے دست بدست بیع صرف کرنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے اور میرے شریکِ کاروبار نے کچھ چیزیں نقد اور کچھ چیزیں ادھار خریدیں۔ پھر ہمارے پاس حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ہم نے ان سے اس کے متعلق دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا: میں نے اور میرے شریک حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے ایسا ہی کیا تھا تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سودا نقد ہو اسے رکھ لو اور جو ادھار پر ہے اسے ترک کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2497]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3939
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ، قَالَ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي دَرَاهِمَ فِي السُّوقِ نَسِيئَةً، فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَيَصْلُحُ هَذَا، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَهُ أَحَدٌ , فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، فَقَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ:" مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ , وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلَا يَصْلُحُ" , وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْظَمَنَا تِجَارَةً , فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَقَالَ: مِثْلَهُ، وَقَالَ سُفْيَانُ: مَرَّةً، فَقَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ، وَقَالَ:" نَسِيئَةً إِلَى الْمَوْسِمِ أَوِ الْحَجِّ".
ہم سے علی بن عبداللہ المدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے ابومنہال (عبدالرحمٰن بن مطعم) سے سنا، عبدالرحمٰن بن مطعم نے بیان کیا کہ میرے ایک ساجھی نے بازار میں چند درہم ادھار فروخت کیے، میں نے اس سے کہا: سبحان اللہ! کیا یہ جائز ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ کی قسم! میں نے بازار میں اسے بیچا تو کسی نے بھی قابل اعتراض نہیں سمجھا۔ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب (ہجرت کر کے) تشریف لائے تو اس طرح خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید و فروخت کی اس صورت میں اگر معاملہ دست بدست (نقد) ہو تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر ادھار پر معاملہ کیا تو پھر یہ صورت جائز نہیں اور زید بن ارقم سے بھی مل کر اس کے متعلق پوچھ لو کیونکہ وہ ہم میں بڑے سوداگر تھے۔ میں نے زید بن ارقم سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ سفیان نے ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے یہاں مدینہ تشریف لائے تو ہم (اس طرح کی) خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور بیان کیا کہ ادھار موسم تک کے لیے یا (یوں بیان کیا کہ) حج تک کے لیے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 3939]
حضرت عبدالرحمٰن بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرے ایک ساتھی نے بازار میں چند درہم ادھار پر فروخت کیے تو میں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» سبحان اللہ! کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اس نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» سبحان اللہ! اللہ کی قسم! میں نے انہیں بازار میں فروخت کیا ہے۔ کسی نے بھی اس خریدوفروخت پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو ہم اس طرح خریدوفروخت کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نقد ہو اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ ادھار پر اس طرح کی خریدوفروخت جائز نہیں۔ تم حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، اس خریدوفروخت کے متعلق ان سے دریافت کرو کیونکہ وہ ہم سے بہت بڑے تاجر تھے۔ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے یہی جواب دیا۔ (راوی حدیث) حضرت سفیان رحمہ اللہ کبھی اس کو بایں الفاظ بیان کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو ہم اس طرح کی خریدوفروخت کرتے تھے اور کبھی بایں الفاظ بیان کرتے تھے: ہم موسم یا حج تک ادھار خریدوفروخت کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 3939]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2181
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَ عَنِ الصَّرْفِ؟ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَقُولُ: هَذَا خَيْرٌ مِنِّي، فَكِلَاهُمَا يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ دَيْنًا".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حبیب بن ابی ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوالمنہال سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کے متعلق پوچھا تو ان دونوں حضرات نے ایک دوسرے کے متعلق فرمایا کہ یہ مجھ سے بہتر ہیں۔ آخر دونوں حضرات نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو چاندی کے بدلے میں ادھار کی صورت میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2181]
حضرت ابو منہال سے روایت ہے، انہوں نے حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے «بَيْعِ الصَّرْفِ» کے متعلق دریافت کیا تو ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کے متعلق کہا کہ یہ مجھ سے بہتر ہے۔ پھر دونوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو چاندی کے عوض ادھار فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2181]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2498
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْأَسْوَدِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ عَنِ الصَّرْفِ يَدًا بِيَدٍ، فَقَالَ: اشْتَرَيْتُ أَنَا وَشَرِيكٌ لِي شَيْئًا يَدًا بِيَدٍ وَنَسِيئَةً، فَجَاءَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ فَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: فَعَلْتُ أَنَا وَشَرِيكِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، وَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَخُذُوهُ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَذَرُوهُ".
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عثمان نے جو اسود کے بیٹے ہیں، کہا کہ مجھے سلیمان بن ابی مسلم نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالمنہال سے بیع صرف نقد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے اور میرے ایک شریک نے کوئی چیز (سونے اور چاندی کی) خریدی نقد پر بھی اور ادھار پر بھی۔ پھر ہمارے یہاں براء بن عازب رضی اللہ عنہ آئے تو ہم نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اور میرے شریک زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی یہ بیع کی تھی اور ہم نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو نقد ہو وہ لے لو اور جو ادھار ہو اسے چھوڑ دو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2498]
سلیمان بن ابو مسلم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابو منہال سے دست بدست بیعِ صرف کرنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے اور میرے شریکِ کاروبار نے کچھ چیزیں نقد اور کچھ چیزیں ادھار خریدیں۔ پھر ہمارے پاس حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما تشریف لائے تو ہم نے ان سے اس کے متعلق دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا: میں نے اور میرے شریک حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے ایسا ہی کیا تھا تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سودا نقد ہو اسے رکھ لو اور جو ادھار پر ہے اسے ترک کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2498]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3940
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُطْعِمٍ، قَالَ: بَاعَ شَرِيكٌ لِي دَرَاهِمَ فِي السُّوقِ نَسِيئَةً، فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَيَصْلُحُ هَذَا، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَهُ أَحَدٌ , فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، فَقَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ، فَقَالَ:" مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ , وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلَا يَصْلُحُ" , وَالْقَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْظَمَنَا تِجَارَةً , فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، فَقَالَ: مِثْلَهُ، وَقَالَ سُفْيَانُ: مَرَّةً، فَقَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ، وَقَالَ:" نَسِيئَةً إِلَى الْمَوْسِمِ أَوِ الْحَجِّ".
ہم سے علی بن عبداللہ المدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے ابومنہال (عبدالرحمٰن بن مطعم) سے سنا، عبدالرحمٰن بن مطعم نے بیان کیا کہ میرے ایک ساجھی نے بازار میں چند درہم ادھار فروخت کیے، میں نے اس سے کہا: سبحان اللہ! کیا یہ جائز ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ کی قسم! میں نے بازار میں اسے بیچا تو کسی نے بھی قابل اعتراض نہیں سمجھا۔ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب (ہجرت کر کے) تشریف لائے تو اس طرح خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید و فروخت کی اس صورت میں اگر معاملہ دست بدست (نقد) ہو تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اگر ادھار پر معاملہ کیا تو پھر یہ صورت جائز نہیں اور زید بن ارقم سے بھی مل کر اس کے متعلق پوچھ لو کیونکہ وہ ہم میں بڑے سوداگر تھے۔ میں نے زید بن ارقم سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ سفیان نے ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے یہاں مدینہ تشریف لائے تو ہم (اس طرح کی) خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور بیان کیا کہ ادھار موسم تک کے لیے یا (یوں بیان کیا کہ) حج تک کے لیے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 3940]
حضرت عبدالرحمٰن بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرے ایک ساتھی نے بازار میں چند درہم ادھار پر فروخت کیے تو میں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے! کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اس نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے! اللہ کی قسم! میں نے انہیں بازار میں فروخت کیا ہے، کسی نے بھی اس خریدوفروخت پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو ہم اس طرح خریدوفروخت کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نقد ہو اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ ادھار پر اس طرح کی خریدوفروخت جائز نہیں۔ تم حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، اس خریدوفروخت کے متعلق ان سے دریافت کرو کیونکہ وہ ہم سے بہت بڑے تاجر تھے۔ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے یہی جواب دیا۔ (راویِ حدیث) حضرت سفیان رحمہ اللہ کبھی اس کو بایں الفاظ بیان کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو ہم اس طرح کی خریدوفروخت کرتے تھے اور کبھی بایں الفاظ بیان کرتے تھے: ہم موسم یا حج تک ادھار خریدوفروخت کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 3940]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں