🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا:
باب: جس شخص نے اس ارادہ سے جنگ کی کہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلمہ بلند رہے، اس کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2810
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلذِّكْرِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ:" مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صحابی (لاحق بن ضمیرہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ایک شخص جنگ میں شرکت کرتا ہے غنیمت حاصل کرنے کے لیے ایک شخص جنگ میں شرکت کرتا ہے ناموری کے لیے ‘ ایک شخص جنگ میں شرکت کرتا ہے تاکہ اس کی بہادری کی دھاک بیٹھ جائے تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون لڑتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس ارادہ سے جنگ میں شریک ہوتا ہے کہ اللہ ہی کا کلمہ بلند رہے ‘ صرف وہی اللہ کے راستہ میں لڑتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2810]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا: کوئی آدمی غنیمت کے لیے لڑتا ہے اور کوئی ناموری کے لیے جہاد کرتا ہے، جبکہ کوئی شخص ذاتی بہادری دکھانے کے لیے میدانِ جنگ میں کود پڑتا ہے، تو ایسے حالات میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑے وہی مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2810]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ غَضَبًا وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، فَرَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ، قَالَ: وَمَا رَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا، فَقَالَ:" مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابووائل سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی راہ میں لڑائی کی کیا صورت ہے؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی غصہ کی وجہ سے اور کوئی غیرت کی وجہ سے جنگ کرتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سر اٹھایا، اور سر اسی لیے اٹھایا کہ پوچھنے والا کھڑا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ کے کلمے کو سربلند کرنے کے لیے لڑے، وہ اللہ کی راہ میں (لڑتا) ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 123]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ کی راہ میں لڑنا کسے کہتے ہیں؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی غصے کی وجہ سے لڑتا ہے اور کوئی حمیت کے سبب جنگ کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اپنا سر مبارک اٹھایا۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اس لیے اٹھایا تھا کہ وہ کھڑا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس لیے لڑے کہ اللہ کا بول بالا ہو تو ایسی لڑائی اللہ عزوجل کی راہ میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 123]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3126
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ مَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ:" مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابووائل سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی (لاحق بن ضمیرہ باہلی) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ایک شخص ہے جو غنیمت حاصل کرنے کے لیے جہاد میں شریک ہوا ‘ ایک شخص ہے جو اس لیے شرکت کرتا ہے کہ اس کی بہادری کے چرچے زبانوں پر آ جائیں ‘ ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اس کی دھاک بیٹھ جائے ‘ تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون سا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جنگ میں شرکت اس لیے کرے تاکہ اللہ کا کلمہ (دین) ہی بلند رہے۔ فقط وہی اللہ کے راستے میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3126]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایک شخص حصول غنیمت کے لیے لڑتا ہے، دوسرا شہرت و ناموری کے لیے میدان جنگ میں آتا ہے، تیسرا اس لیے لڑتا ہے کہ اس کی دھاک بیٹھ جائے تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس لیے جنگ میں شرکت کرتا ہے تاکہ اللہ کا دین سربلند ہو، صرف وہ اللہ کے راستے میں لڑتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3126]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7458
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الرَّجُلُ يُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ شَجَاعَةً وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟، قَالَ: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ کوئی شخص حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے، کوئی بہادری کی وجہ سے لڑتا ہے اور کوئی دکھاوے کے لیے لڑتا ہے۔ تو ان میں سے کون اللہ کے راستے میں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اس لیے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ ہی بلند رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7458]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کوئی شخص خاندانی حمیت کی وجہ سے جنگ کرتا ہے، کوئی بہادری دکھانے کے لیے میدانِ جنگ میں کود پڑتا ہے اور کوئی محض ریا کاری اور شہرت کے لیے لڑتا ہے، تو ان میں سے کون اللہ کے راستے میں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کے غلبے کے لیے لڑتا ہے، تو وہ لڑنا اللہ کی راہ میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7458]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں