صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ما ذكر من درع النبى صلى الله عليه وسلم وعصاه وسيفه وقدحه وخاتمه:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ، عصاء مبارک، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار، پیالہ اور انگوٹھی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3112
قَال: الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُنْذِرًا الثَّوْرِيَّ، عَنْ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبِي خُذْ هَذَا الْكِتَابَ فَاذْهَبْ بِهِ إِلَى عُثْمَانَ، فَإِنَّ فِيهِ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ.
حمیدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن سوقہ نے کہا کہ میں نے منذر ثوری سے سنا ‘ وہ محمد بن حنفیہ سے بیان کرتے تھے کہ میرے والد (علی رضی اللہ عنہ) نے مجھ کو کہا کہ یہ پروانہ عثمان رضی اللہ عنہ کو لے جا کر دے آؤ ‘ اس میں زکوٰۃ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ احکامات درج ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3112]
حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ ہی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے میرے والد گرامی (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے بھیجا اور فرمایا: یہ صحیفہ صدقات لو اور اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ کیونکہ اس میں صدقات سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ احکامات درج ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3112]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3111
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: لَوْ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاكِرًا عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَهُ يَوْمَ جَاءَهُ نَاسٌ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ، فَقَالَ لِي عَلِيٌّ:" اذْهَبْ إِلَى عُثْمَانَ، فَأَخْبِرْهُ أَنَّهَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمُرْ سُعَاتَكَ يَعْمَلُونَ فِيهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: أَغْنِهَا عَنَّا، فَأَتَيْتُ بِهَا عَلِيًّا فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ضَعْهَا حَيْثُ أَخَذْتَهَا"،
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سوقہ نے ‘ ان سے منذر بن یعلیٰ نے اور ان سے محمد بن حنفیہ نے ‘ انہوں نے کہا کہ اگر علی رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ کو برا کہنے والے ہوتے تو اس دن ہوتے جب کچھ لوگ عثمان رضی اللہ عنہ کے عاملوں کی (جو زکوٰۃ وصول کرتے تھے) شکایت کرنے ان کے پاس آئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا اور یہ زکوٰۃ کا پروانہ لے جا۔ ان سے کہنا کہ یہ پروانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھوایا ہوا ہے۔ تم اپنے عاملوں کو حکم دو کہ وہ اسی کے مطابق عمل کریں۔ چنانچہ میں اسے لے کر عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں پیغام پہنچا دیا ‘ لیکن انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں (کیونکہ ہمارے پاس اس کی نقل موجود ہے) میں نے جا کر علی رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ بیان کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا کہ اچھا ‘ پھر اس پروانے کو جہاں سے اٹھایا ہے وہیں رکھ دو۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3111]
حضرت ابن حنفیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو برائی سے یاد کرنے والے ہوتے تو اس دن برا بھلا کہتے جب ان کے پاس لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کارندوں کی شکایت کی تھی، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صدقات سے متعلقہ ایک پروانہ دے کر مجھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور فرمایا: انہیں خبردار کرو کہ یہ پروانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھوایا ہوا ہے، آپ اپنے کارندوں کو اس کے مطابق عمل درآمد کرنے کا پابند کریں، چنانچہ میں اسے لے کر ان (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا: فی الحال ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں وہ صحیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس لے آیا اور انہیں حالات سے آگاہ کر دیا تو انہوں نے فرمایا: اچھا، یہ صحیفہ جہاں سے اٹھایا تھا وہیں رکھ دو۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3111]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة