صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب: {واذكر عبدنا داود ذا الأيد إنه أواب} إلى قوله: {وفصل الخطاب} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ ص میں) فرمان ”ہمارے زوردار بندے داؤد کا ذکر کر، وہ اللہ کی طرف رجوع ہونے والا تھا“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وفصل الخطاب» تک (یعنی فیصلہ کرنے والی تقریر ہم نے انہیں عطا کی تھی)۔
حدیث نمبر: 3421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَوَّامَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ أَسْجُدُ فِي ص فَقَرَأَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ حَتَّى أَتَى فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 84 - 90 فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ أُمِرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن یوسف نے بیان کیا، کہا میں نے عوام سے سنا، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ میں نے عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا میں سورۃ ص میں سجدہ کیا کروں؟ تو انہوں نے آیت «ومن ذريته داود وسليمان» تلاوت کی «فبهداهم اقتده» تک نیز انہوں نے کہا کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے تھے جنہیں انبیاء علیہم السلام کی اقتداء کا حکم تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3421]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے پوچھا: کیا ہم سورہ ص میں سجدہ تلاوت کریں؟ تو انہوں نے ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ﴾ [سورة الأنعام: 84] سے لے کر ﴿فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 90] تک آیات تلاوت کیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پھر فرمایا: تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں پہلے انبیاء علیہم السلام کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3421]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4632
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، أَنَّ مُجَاهِدًا أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ: أَفِي ص سَجْدَةٌ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ تَلَا وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ إِلَى قَوْلِهِ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 84 - 90، ثُمَّ قَالَ: هُوَ مِنْهُمْ، زَادَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَسَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ الْعَوَّامِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: فَقَالَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِمَّنْ أُمِرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ".
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے سلیمان احول نے خبر دی، انہیں مجاہد نے خبر دی کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا، ہاں۔ پھر آپ نے آیت «ووهبنا» سے ( «فبهداهم اقتده») تک پڑھی اور کہا کہ داؤد علیہ السلام بھی ان انبیاء میں شامل ہیں (جن کا ذکر آیت میں ہوا ہے)۔ یزید بن ہارون، محمد بن عبید اور سہل بن یوسف نے عوام بن حوشب سے، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا، تو انہوں نے کہا تمہارے نبی بھی ان میں سے ہیں جنہیں اگلے انبیاء کی اقتداء کا حکم دیا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 4632]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”آیا سورہ ص میں سجدہ ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ... فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 84 - 90] ”ہم نے (ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب) عطا کیے۔۔ آپ بھی انہی کا راستہ اختیار کریں۔“ پھر فرمایا: ”وہ (داود علیہ السلام) بھی انہی انبیاء میں سے ہیں (جن کی اقتدا کا حکم دیا گیا ہے)۔“ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان میں سے ہیں جنہیں ان (مذکور انبیاء علیہم السلام) کی اقتدا کا حکم دیا گیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 4632]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4806
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْعَوَّامِ، قَالَ:" سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ السَّجْدَةِ فِي ص؟ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 90، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْجُدُ فِيهَا.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عوام بن حوشب نے کہ میں نے مجاہد سے سورۃ ص میں سجدہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ سوال ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی کیا گیا تھا تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی «أولئك الذين هدى الله فبهداهم اقتده» ”یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی تھی پس آپ بھی انہی کی ہدایت کی اتباع کریں۔“ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اس میں سجدہ کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 4806]
عوام بن حوشب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے سورہ ص میں سجدہ کرنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: یہ سوال حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی کیا گیا تھا، انہوں نے جواب میں یہ آیت تلاوت کی: ﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 90] ”یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی تھی، لہذا آپ بھی ان کی ہدایت کی اتباع کریں۔“ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سورت میں سجدہ کیا کرتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 4806]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4807
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ الْعَوَّامِ، قَالَ:" سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنْ سَجْدَةٍ فِي ص؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَيْنَ سَجَدْتَ؟ فَقَالَ: أَوَ مَا تَقْرَأُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 90، فَكَانَ دَاوُدُ مِمَّنْ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ، فَسَجَدَهَا دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَسَجَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مجھ سے محمد بن عبداللہ ذہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبید طنافسی نے، ان سے عوام بن حوشب نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سورۃ ص میں سجدہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا کہ اس سورت میں آیت سجدہ کے لیے دلیل کیا ہے؟ انہوں نے کہا کیا تم (سورت انعام) میں یہ نہیں پڑھتے «ومن ذريته داود وسليمان» کہ ”اور ان کی نسل سے داؤد اور سلیمان ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے یہ ہدایت دی تھی، سو آپ بھی ان کی ہدایت کی اتباع کریں۔“ داؤد علیہ السلام بھی ان میں سے تھے جن کی اتباع کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا (چونکہ داؤد علیہ السلام کے سجدہ کا اس میں ذکر ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس موقع پر سجدہ کیا)۔ «عجاب» کا معنی عجیب۔ «القط» کہتے ہیں کاغذ کے ٹکڑے (پرچے) کو یہاں نیکیوں کا پرچہ مراد ہے (یا حساب کا پرچہ)۔ اور مجاہد رحمہ اللہ نے کہا «في عزة» کا معنی یہ ہے کہ وہ شرارت و سرکشی کرنے والے ہیں۔ «الملة الآخرة» سے مراد قریش کا دین ہے۔ «اختلاق» سے مراد جھوٹ۔ «الأسباب» آسمان کے راستے، دروازے مراد ہیں۔ «جند ما هنالك مهزوم» الایۃ سے قریش کے لوگ مراد ہیں۔ «أولئك الأحزاب» سے اگلی امتیں مراد ہیں۔ جن پر اللہ کا عذاب اترا۔ «فواق» کا معنی پھرنا، لوٹنا۔ «عجل لنا قطنا» میں «قط» سے عذاب مراد ہے۔ «اتخذناهم سخريا» ہم نے ان کو ٹھٹھے میں گھیر لیا تھا۔ «أتراب» جوڑ والے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «أيد» کا معنی عبادت کی قوت۔ «الأبصار» اللہ کے کاموں کو غور سے دیکھنے والے۔ «حب الخير عن ذكر ربي» میں «عن من» کے معنی میں ہے۔ «طفق مسحا» گھوڑوں کے پاؤں اور ایال پر محبت سے ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔ یا بقول بعض تلوار سے ان کو کاٹنے لگے۔ «الأصفاد» کے معنی زنجیریں۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 4807]
حضرت عوام بن حوشب رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے سورہ ص میں سجدہ کرنے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی سوال کیا تھا کہ اس سورت میں سجدہ کرنے کی دلیل کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم یہ نہیں پڑھتے: ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ... أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ [سورة الأنعام: 84-90] ”ان کی نسل سے داود اور سلیمان ہیں... یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی تھی، لہذا آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیں۔“ حضرت داود علیہ السلام بھی انہی انبیاء علیہ السلام میں سے ہیں جن کی اتباع کا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر یہ سجدہ کیا ہے“۔ «عُجَابٌ» کے معنی ہیں: ”عجیب“۔ «الْقِطُّ» کے معنی ہیں: ”صحیفہ، یعنی کاغذ کا پرچہ۔ یہاں نیکیوں کا صحیفہ مراد ہے“۔ امام مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: «فِي عِزَّةٍ» کے معنی ہیں: ”تکبر اور سرکشی کرنے والے“۔ «الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ» سے مراد ”قریش کا دین ہے“۔ «الِاخْتِلَاقُ» سے مراد ”جھوٹ ہے“۔ «الْأَسْبَابُ» سے مراد ”آسمان کے دروازوں میں ان کے راستے ہیں“۔ «جُنْدٌ مَا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ» میں «مَهْزُومٌ»، «جُنْدٌ» کی صفت ہے۔ اس سے مراد ”قریش کے لوگ ہیں“۔ «أُولَئِكَ الْأَحْزَابُ» سے مراد ”گزشتہ امتیں ہیں جن پر عذاب اترا تھا“۔ «فَوَاقٍ»: ”پھرنا، لوٹنا“۔ «قِطَّنَا»: ”ہمارا عذاب“۔ «أَتَّخَذْنَاهُمْ سِخْرِيًّا»: ”ہم نے ان کو ہنسی مذاق میں گھیر لیا تھا“۔ «أَتْرَابٌ»: ”امثال، یعنی ہم عمر، جوڑ والے“۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «الْأَيْدِ» سے مراد ”عبادت کی قوت ہے“۔ «الْأَبْصَارُ» کے معنی ہیں: ”اللہ کے معاملات میں غور سے دیکھنے والے“۔ «حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّي» میں «عَنْ»، «مِنْ» کے معنی میں ہے، یعنی «مِنْ ذِكْرِ رَبِّي» ۔ «فَطَفِقَ مَسْحًا»: ”گھوڑوں کے پاؤں اور پیشانیوں پر محبت سے ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔ (کچھ حضرات نے یہ معنی بھی کیے ہیں کہ تلوار سے ان کو ذبح کرنے لگے)“۔ «الْأَصْفَادِ» کے معنی ”زنجیریں اور بیڑیاں ہیں“۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 4807]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة