صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب صفة النبى صلى الله عليه وسلم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اور اخلاق فاضلہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3553
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ بِالْمَصِّيصَةِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ، قَالَ شُعْبَةُ: وَزَادَفِيهِ عَوْنٌ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْمَرْأَةُ وَقَامَ النَّاسُ فَجَعَلُوا يَأْخُذُونَ يَدَيْهِ فَيَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَوَضَعْتُهَا عَلَى وَجْهِي، فَإِذَا هِيَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ".
ہم سے ابوعلی حسن بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد الاعور نے مصیصہ (شہر میں) بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت سفر کے ارادہ سے نکلے۔ بطحاء نامی جگہ پر پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ظہر کی نماز دو رکعت (قصر) پڑھی پھر عصر کی بھی دو رکعت (قصر) پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھوٹا سا نیزہ (بطور سترہ) گڑا ہوا تھا۔ عون نے اپنے والد سے اس روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نیزہ کے آگے سے آنے جانے والے آ جا رہے تھے۔ پھر صحابہ آپ کے پاس آ گئے اور آپ کے مبارک ہاتھوں کو تھام کر اپنے چہروں پر پھیرنے لگے۔ ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو اپنے چہرے پر رکھا۔ اس وقت وہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3553]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت وادی بطحاء کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ نے وضو کیا، پھر ظہر کی دو رکعات اور عصر کی دو رکعات ادا کیں اور آپ کے سامنے برچھا گاڑا ہوا تھا۔ (راویِ حدیث) عون نے یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ برچھے کے پیچھے سے لوگ گزر رہے تھے۔ نماز کے بعد لوگ کھڑے ہوئے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہروں پر ملنے لگے، چنانچہ میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر رکھا تو وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور کستوری سے زیادہ خوشبودار تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3553]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 187
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، يَقُولُ:" خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ فَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ.
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حکم نے بیان کیا، انہوں نے ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس دوپہر کے وقت تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی حاضر کیا گیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا۔ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی لے کر اسے (اپنے بدن پر) پھیرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں ادا کیں اور عصر کی بھی دو رکعتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (آڑ کے لیے) ایک نیزہ تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 187]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا تو آپ نے وضو فرمایا۔ پھر لوگ آپ کے وضو سے باقی ماندہ پانی لینے لگے اور بدن پر ملنے لگے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی دو، دو رکعتیں ادا کیں اور دورانِ نماز میں آپ کے سامنے ایک برچھی گاڑی گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 187]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1973
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَرَاهُ مِنَ الشَّهْرِ صَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، وَلَا مُفْطِرًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، وَلَا مِنَ اللَّيْلِ قَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، وَلَا مَسِسْتُ خَزَّةً وَلَا حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمِمْتُ مِسْكَةً وَلَا عَبِيرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابوخالد احمر نے خبر دی، کہا کہ ہم کو حمید نے خبر دی، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب بھی میرا دل چاہتا کہ آپ کو روزے سے دیکھوں تو میں آپ کو روزے سے ہی دیکھتا۔ اور بغیر روزے کے چاہتا تو بغیر روزے سے ہی دیکھتا۔ رات میں کھڑے (نماز پڑھتے) دیکھنا چاہتا تو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھتا۔ اور سوتے ہوئے دیکھنا چاہتا تو اسی طرح دیکھتا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے زیادہ نرم و نازک ریشم کے کپڑوں کو بھی نہیں دیکھا۔ اور نہ مشک و عنبر کو آپ کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار پایا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 1973]
حضرت حمید رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: جب میں چاہتا کہ کسی مہینے میں آپ کو بحالت روزہ دیکھوں تو آپ کو اسی حالت میں دیکھ لیتا، جب چاہتا کہ آپ کو افطار کی حالت میں دیکھوں تو اس حالت میں دیکھ لیتا۔ اسی طرح رات کو جب چاہتا آپ کو نماز میں کھڑے ہوئے اور جب چاہتا آپ کو سوئے ہوئے دیکھ لیتا۔ اور میں نے کوئی ریشم اور مخمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں سے زیادہ نرم نہیں دیکھا اور نہ میں نے کوئی مشک اور عنبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار سونگھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 1973]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3561
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَا مَسِسْتُ حَرِيرًا وَلَا دِيبَاجًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمِمْتُ رِيحًا قَطُّ، أَوْ عَرْفًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ أَوْ عَرْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ نرم و نازک کوئی حریر و دیباج میرے ہاتھوں نے کبھی چھوا اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے زیادہ بہتر اور پاکیزہ کوئی خوشبو یا عطر سونگھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3561]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے کسی موٹے یا باریک ریشم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے نرم نہیں پایا اور نہ میں نے کبھی کوئی خوشبو یا عطر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو یا مہک سے اچھی سونگھی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3561]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة