صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب مناقب على بن أبى طالب القرشي الهاشمي أبى الحسن رضي الله عنه:
باب: ابوالحسن علی بن ابی طالب القرشی الہاشمی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3702
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ وَكَانَ بِهِ رَمَدٌ، فَقَالَ: أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا اللَّهُ فِي صَبَاحِهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ أَوْ لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ" , أَوْ قَالَ:" يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ" , فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ، فَقَالُوا: هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے حاتم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بوجہ آنکھ دکھنے کے نہیں آ سکے تھے، پھر انہوں نے سوچا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک نہ ہو سکوں! چنانچہ گھر سے نکلے اور آپ کے لشکر سے جا ملے، جب اس رات کی شام آئی جس کی صبح کو اللہ تعالیٰ نے فتح عنایت فرمائی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل میں ایک ایسے شخص کو عَلم دوں گا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ کل) ایک ایسا شخص عَلم کو لے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول کو محبت ہے یا آپ نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عنایت فرمائے گا، اتفاق سے علی رضی اللہ عنہ آ گئے، حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں امید نہیں تھی لوگوں نے بتایا کہ یہ ہیں علی رضی اللہ عنہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلم انہیں دے دیا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر خیبر کو فتح کرا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3702]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ پھر انہوں نے سوچا کہ ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس غزوہ میں شریک نہیں ہو سکوں گا،“ چنانچہ گھر سے نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر سے جاملے۔ جب وہ رات آئی جس کی صبح خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا۔“ یا فرمایا: ”کل وہ شخص جھنڈا لے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت ہے۔“ یا فرمایا: ”وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اس کے ہاتھوں فتح نصیب کرے گا۔“ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آگئے، حالانکہ ان کے آنے کی توقع نہیں تھی۔ لوگوں نے کہا: ”یہ ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں فتح عنایت فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3702]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2942
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ القَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، فَقَامُوا يَرْجُونَ لِذَلِكَ أَيُّهُمْ يُعْطَى فَغَدَوْا وَكُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَى، فَقَالَ: أَيْنَعَلِيٌّ فَقِيلَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَأَمَرَ فَدُعِيَ لَهُ فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ مَكَانَهُ حَتَّى كَأَنَّه لَمْ يَكُنْ بِهِ شَيْءٌ، فَقَالَ: نُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا، فَقَالَ: عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يُهْدَى بِكَ رَجُلٌ وَاحِدٌ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا تھا کہ اسلامی جھنڈا میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا۔ اب سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھئیے جھنڈا کسے ملتا ہے، جب صبح ہوئی تو سب سرکردہ لوگ اسی امید میں رہے کہ کاش! انہیں کو مل جائے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: علی کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا کہ وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں بلایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن مبارک ان کی آنکھوں میں لگا دیا اور فوراً ہی وہ اچھے ہو گئے۔ جیسے پہلے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا ہم ان (یہودیوں سے) اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک یہ ہمارے جیسے (مسلمان) نہ ہو جائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ٹھہرو پہلے ان کے میدان میں اتر کر انہیں تم اسلام کی دعوت دے لو اور ان کے لیے جو چیز ضروری ہیں ان کی خبر کر دو (پھر وہ نہ مانیں تو لڑنا) اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 2942]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ”میں اب جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا۔“ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس امید میں کھڑے ہو گئے کہ ان میں سے کس کو جھنڈا ملتا ہے؟ اور دوسرے دن ہر شخص کو یہی امید تھی کہ جھنڈا اسے دیا جائے گا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا: وہ تو آشوبِ چشم میں مبتلا ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر انہیں بلایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن لگایا جس سے وہ فوراً صحت یاب ہو گئے گویا انہیں کوئی شکایت ہی نہیں تھی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ان سے جنگ لڑیں گے یہاں تک کہ وہ ہماری طرح (مسلمان) ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آرام سے چلو! جب تم ان کے میدان میں جاؤ تو سب سے پہلے انہیں دعوتِ اسلام دو اور ان کے فرائض سے انہیں آگاہ کرو۔ اللہ کی قسم! اگر تمہاری وجہ سے ایک شخص کو بھی ہدایت مل گئی تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 2942]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2975
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ وَكَانَ بِهِ رَمَدٌ، فَقَالَ: أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا فِي صَبَاحِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ، أَوْ قَالَ: لَيَأْخُذَنَّ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، أَوْ قَالَ: يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ، فَقَالُوا: هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ پھر انہوں نے کہا کہ کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہوں گا؟ چنانچہ وہ نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ اس رات کی شام کو جس کی صبح کو خیبر فتح ہوا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اسلامی پرچم اس شخص کو دوں گا یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) کل اسلامی پرچم اس شخص کے ہاتھ میں ہو گا جسے اللہ اور اس کے رسول اپنا محبوب رکھتے ہیں۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ اور اللہ اس شخص کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے۔ حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں کوئی امید نہ تھی۔ (کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے) لوگوں نے کہا کہ یہ علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں کو دیا۔ اور اللہ نے انہیں کے ہاتھ پر فتح فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 2975]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کیونکہ ان کی آنکھوں میں درد تھا۔ وہ فرمانے لگے: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیونکر پیچھے رہوں؟“ چنانچہ وہ نکل پڑے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آملے۔ اس رات کی شام جس کی صبح خیبر فتح ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا یا ایسا شخص جھنڈا پکڑے گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں۔“ یا فرمایا: ”وہ شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ خیبر فتح کرے گا۔“ ہم کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آگئے جبکہ ہمیں امید نہیں تھی۔ لوگوں نے عرض کیا: یہ علی رضی اللہ عنہ ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا دے دیا۔ پھر ان کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے فتح نصیب فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 2975]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3009
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَهْلٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُفْتَحُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَبَاتَ النَّاسُ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَى فَغَدَوْا كُلُّهُمْ يَرْجُوهُ، فَقَالَ: أَيْنَ عَلِيٌّ فَقِيلَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ، فَقَالَ: أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا، فَقَالَ: انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن بن محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحازم مسلمہ ابن دینار نے بیان کیا ‘ انہیں سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا ”کل میں ایسے شخص کے ہاتھ میں اسلامی جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اسلامی فتح حاصل ہو گی ‘ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور جس سے اللہ اور اس کا رسول بھی محبت رکھتے ہیں۔“ رات بھر سب صحابہ کے ذہن میں یہی خیال رہا کہ دیکھئیے کہ کسے جھنڈا ملتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو ہر شخص امیدوار تھا ‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”علی کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا کہ ان کی آنکھوں میں درد ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک تھوک ان کی آنکھوں میں لگا دیا۔ اور اس سے انہیں صحت ہو گئی ‘ کسی قسم کی بھی تکلیف باقی نہ رہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کو جھنڈا عطا فرمایا۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں ان لوگوں سے اس وقت تک نہ لڑوں جب تک یہ ہمارے ہی جیسے یعنی مسلمان نہ ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ یوں ہی چلا جا۔ جب ان کی سرحد میں اترے تو انہیں اسلام کی دعوت دینا اور انہیں بتانا کہ (اسلام کے ناطے) ان پر کون کون سے کام ضروری ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ اللہ ایک شخص کو بھی مسلمان کر دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3009]
حضرت سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر اعلان کیا: ”میں کل ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر خیبر فتح ہوگا اور وہ شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوگا اور اس سے اللہ اور اس کا رسول بھی محبت کرتے ہیں۔“ چنانچہ رات بھر لوگوں نے انتظار میں گزاری کہ دیکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھنڈا کس کو عنایت کرتے ہیں؟ جب صبح ہوئی تو سب اس کے امیدوار تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”علی کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا کہ انہیں آشوبِ چشم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن ان کی آنکھوں میں لگایا اور ان کے لیے دعا فرمائی تو انہیں صحت ہو گئی اور کسی قسم کی تکلیف باقی نہ رہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا عنایت فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں ان سے جنگ کروں حتیٰ کہ وہ ہماری طرح (مسلمان) ہو جائیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے حال پر رہو یہاں تک کہ تم ان کی سرحد میں اتر جاؤ، پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور بتاؤ کہ ان پر کون کون سے کام ضروری ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے سے ایک شخص کو مسلمان کر دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3009]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3701
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، قَالَ: فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ: أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟، فَقَالُوا: يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأْتُونِي بِهِ فَلَمَّا جَاءَ بَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ , فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا، فَقَالَ:" انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ , فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر بیان فرمایا کہ کل میں ایک ایسے شخص کو اسلامی عَلم دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا، راوی نے بیان کیا کہ رات کو لوگ یہ سوچتے رہے کہ دیکھئیے عَلم کسے ملتا ہے، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سب حضرات (جو سرکردہ تھے) حاضر ہوئے، سب کو امید تھی کہ عَلم انہیں ہی ملے گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ ان کی آنکھوں میں درد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے یہاں کسی کو بھیج کر بلوا لو، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ میں اپنا تھوک ڈالا اور ان کے لیے دعا فرمائی، اس سے انہیں ایسی شفاء حاصل ہوئی جیسے کوئی مرض پہلے تھا ہی نہیں، چنانچہ آپ نے عَلم انہیں کو عنایت فرمایا۔ علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ان سے اتنا لڑوں گا کہ وہ ہمارے جیسے ہو جائیں (یعنی مسلمان بن جائیں) آپ نے فرمایا: ابھی یوں ہی چلتے رہو، جب ان کے میدان میں اترو تو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ کے ان پر کیا حقوق واجب ہیں، اللہ کی قسم اگر تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو بھی ہدایت دیدے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں (کی دولت) سے بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3701]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کل ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عنایت کرے گا۔“ لوگ رات بھر سوچتے رہے کہ دیکھیں جھنڈا کسے ملتا ہے؟ صبح ہوئی تو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ جھنڈا اسے دیا جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی آنکھوں میں کوئی شکایت ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پیغام بھیج کر بلاؤ۔“ جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور ان کے لیے دعا فرمائی، چنانچہ اس سے انہیں ایسی شفا ہوئی کہ گویا پہلے کوئی مرض ہی نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ان سے جنگ کرتا رہوں حتیٰ کہ وہ سارے ہم جیسے (مسلمان) ہو جائیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی یوں ہی چلتے رہو۔ جب ان کے میدان میں اترو تو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ کے ان پر کیا حقوق (واجب) ہیں؟ اللہ کی قسم! اگر تمہاری کوشش سے کسی ایک شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت کر دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3701]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4209
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ، وَكَانَ رَمِدًا، فَقَالَ: أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَحِقَ بِهِ، فَلَمَّا بِتْنَا اللَّيْلَةَ الَّتِي فُتِحَتْ قَالَ:" لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا، أَوْ لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ يُفْتَحُ عَلَيْهِ"، فَنَحْنُ نَرْجُوهَا، فَقِيلَ: هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ , فَفُتِحَ عَلَيْهِ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ جا سکے تھے کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جا چکے) تو انہوں نے کہا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ سے پیچھے رہوں (ایسا نہیں ہو سکتا)؟ چنانچہ وہ بھی آ گئے۔ جس دن خیبر فتح ہونا تھا ‘ جب اس کی رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل میں (اسلامی) عَلم اس شخص کو دوں گا یا فرمایا کہ عَلم وہ شخص لے گا جسے اللہ اور اس کا رسول عزیز رکھتے ہیں اور جس کے ہاتھ پر فتح حاصل ہو گی۔ ہم سب ہی اس سعادت کے امیدوار تھے لیکن کہا گیا کہ یہ ہیں علی رضی اللہ عنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کو جھنڈا دیا اور انہیں کے ہاتھ پر خیبر فتح ہوا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 4209]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ خیبر کی جنگ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کیونکہ وہ آشوبِ چشم میں مبتلا تھے۔ انہوں نے دل میں کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جاؤں گا، اس لیے بعد میں وہ بھی آ گئے۔ جس رات خیبر فتح ہوا تھا، اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا یا علم وہ شخص پکڑے گا جسے اللہ اور اس کے رسول عزیز رکھتے ہیں اور اس کے ہاتھوں خیبر فتح ہو گا۔“ ہم سب لوگ اس سعادت کے امیدوار تھے۔ اچانک کہا گیا: وہ علی رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا، پھر ان کے ہاتھوں خیبر فتح ہوا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 4209]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4210
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ:" لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ , يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ"، قَالَ: فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ:" أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟"، فَقِيلَ: هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، قَالَ:" فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ"، فَأُتِيَ بِهِ، فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ، حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا؟، فَقَالَ:" انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحازم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ غزوہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول بھی اسے عزیز رکھتے ہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ وہ رات سب کی اس فکر میں گزر گئی کہ دیکھیں ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عَلم کسے عطا فرماتے ہیں۔ صبح ہوئی تو سب خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور اس امید کے ساتھ کہ عَلم انہیں کو ملے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! وہ تو آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بلا لاؤ۔ جب وہ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تھوک ان کی آنکھوں میں لگایا اور ان کے لیے دعا کی۔ اس دعا کی برکت سے ان کی آنکھیں اتنی اچھی ہو گئیں جیسے پہلے کوئی بیماری ہی نہیں تھی۔ علی رضی اللہ عنہ نے عَلم سنبھال کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ان سے اس وقت تک جنگ کروں گا جب تک وہ ہمارے ہی جیسے نہ ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی چلتے رہو ‘ ان کے میدان میں اتر کر پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور بتاؤ کہ اللہ کا ان پر کیا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 4210]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا: ”میں کل یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح عطا کرے گا۔ وہ شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، نیز اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔“ لوگ ساری رات اس امر میں غور کرتے رہے کہ ان میں سے کس کو جھنڈا دیا جائے گا؟ جب صبح ہوئی تو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں سے ہر ایک کو امید تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھنڈا اسے دیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کی آنکھوں میں شدید درد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف کسی آدمی کو بھیجا، چنانچہ انہیں لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں میں اپنا لعابِ مبارک ڈالا اور ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی تو وہ تندرست ہو گئے، گویا ان کی آنکھوں میں کبھی درد ہی نہیں تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا دے دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں ان (یہودیوں) سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ ہماری طرح مسلمان ہو جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سیدھے اپنی راہ پر چلتے جاؤ یہاں تک کہ تم ان کے میدان میں اترو تو ان کو دعوتِ اسلام دو اور اللہ کے جو حقوق ان کے ذمے فرض ہیں انہیں ان سے آگاہ کرو۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کسی ایک آدمی کو ہدایت سے ہمکنار کر دے تو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 4210]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة