🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب غزوة الطائف فى شوال سنة ثمان:
باب:غزوہ طائف کا بیان جو شوال سنہ ۸ ھ میں ہوا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: أَلَا تُنْجِزُ لِي مَا وَعَدْتَنِي، فَقَالَ لَهُ:" أَبْشِرْ"، فَقَالَ: قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ أَبْشِرْ، فَأَقْبَلَ عَلَى أَبِي مُوسَى وَبِلَالٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ، فَقَالَ: رَدَّ الْبُشْرَى، فَاقْبَلَا أَنْتُمَا، قَالَا: قَبِلْنَا، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ:" اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا، وَأَبْشِرَا"، فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلَا، فَنَادَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ: أَنْ أَفْضِلَا لِأُمِّكُمَا، فَأَفْضَلَا لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی تھا جب آپ جعرانہ سے، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ایک مقام ہے اتر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ اسی دوران میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بدوی آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ پورا کیوں نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بشارت ہو۔ اس پر وہ بدوی بولا بشارت تو آپ مجھے بہت دے چکے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک ابوموسیٰ اور بلال کی طرف پھیرا، آپ بہت غصے میں معلوم ہو رہے تھے۔ آپ نے فرمایا اس نے بشارت واپس کر دی اب تم دونوں اسے قبول کر لو۔ ان دونوں حضرات نے عرض کیا کہ ہم نے قبول کیا۔ پھر آپ نے پانی کا ایک پیالہ طلب فرمایا اور اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو اس میں دھویا اور اسی میں کلی کی اور (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ ہر دو سے) فرمایا کہ اس کا پانی پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر اسے ڈال لو اور بشارت حاصل کرو۔ ان دونوں نے پیالہ لے لیا اور ہدایت کے مطابق عمل کیا۔ پردہ کے پیچھے سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بھی کہا اپنی ماں کے لیے بھی کچھ چھوڑ دینا۔ چنانچہ ان دونوں نے ان کے لیے ایک حصہ چھوڑ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4328]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا جب آپ جعرانہ میں ٹھہرے تھے، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے۔ آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اس دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا: آپ نے مجھ سے ایک وعدہ کیا تھا، کیا آپ اسے پورا نہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا: تیرے لیے بشارت ہے۔ وہ بولا: یہ کیا بات ہے؟ آپ اکثر یہی فرماتے رہتے ہیں: خوش ہو جاؤ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی طرف غضبناک حالت میں متوجہ ہوئے اور فرمایا: اس دیہاتی نے تو بشارت کو مسترد کر دیا ہے، لہذا تم دونوں قبول کر لو۔ ان دونوں حضرات نے کہا: ہمیں منظور ہے۔ پھر آپ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا، اپنے دونوں ہاتھ اور منہ اس میں دھوئے اور اس میں کلی بھی کی، پھر فرمایا: تم دونوں اس میں سے کچھ نوش کر لو اور کچھ اپنے منہ اور سینے پر ڈال لو، نیز خوش ہو جاؤ۔ ہم دونوں پیالہ لے کر تعمیلِ حکم کرنے لگے تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پسِ پردہ پکارا کہ اپنی ماں کے لیے بھی کچھ پانی چھوڑ دینا تو انہوں نے کچھ پانی بچا کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4328]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 188
وَقَالَ أَبُو مُوسَى: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا: اشْرَبَا مِنْهُ وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا".
(اور ایک دوسری حدیث میں) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا۔ جس میں پانی تھا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اسی پیالہ میں منہ دھویا اور اس میں کلی فرمائی، پھر فرمایا، تو تم لوگ اس کو پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 188]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی تھا، پھر آپ نے اس پیالے میں اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ مبارک دھویا اور اس میں کلی فرمائی، پھر ان دونوں سے فرمایا: اس میں سے کچھ پانی نوش جان کر لو اور کچھ اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 188]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 196
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ".
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے برید کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابوبردہ سے، وہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگایا جس میں پانی تھا۔ پھر اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو دھویا اور اسی میں کلی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 196]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا پیالہ منگوایا جس میں پانی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ہاتھ، منہ دھوئے اور اس میں کلی فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں