🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. باب نوم الرجال فى المسجد:
باب: مسجدوں میں مردوں کا سونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَنَامُ وَهْوَ شَابٌّ أَعْزَبُ لاَ أَهْلَ لَهُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ نے عبیداللہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ کو نافع نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ اپنی نوجوانی میں جب کہ ان کے بیوی بچے نہیں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں سویا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 440]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ مسجد نبوی میں سویا کرتے تھے جب کہ وہ غیر شادی شدہ جوان تھے اور ان کا گھر بار نہیں تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 440]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1121
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ. ح وحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًّا، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ , وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ , وَإِذَا فِيهَا أُنَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَلَقِيَنَا مَلَكٌ آخَرُ، فَقَالَ لِي: لَمْ تُرَعْ.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر نے حدیث بیان کی (دوسری سند) اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے، انہیں ان کے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جب کوئی خواب دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دیتے) میرے بھی دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا، میں ابھی نوجوان تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں سوتا تھا۔ چنانچہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ دوزخ پر کنویں کی طرح بندش ہے (یعنی اس پر کنویں کی سی منڈیر بنی ہوئی ہے) اس کے دو جانب تھے۔ دوزخ میں بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا جنہیں میں پہچانتا تھا۔ میں کہنے لگا دوزخ سے اللہ کی پناہ! انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم کو ایک فرشتہ ملا اور اس نے مجھ سے کہا ڈرو نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1121]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک میں جب کوئی آدمی خواب دیکھتا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا۔ مجھے یہ تمنا ہوئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کروں۔ میں ابھی نوجوان تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں مسجد ہی میں سویا کرتا تھا، چنانچہ میں نے خواب میں دیکھا گویا مجھے دو فرشتوں نے پکڑا اور دوزخ کی جانب لے گئے۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ کنویں کی طرح پیچ دار بنی ہوئی ہے، اس پر دو چرخیاں لگی ہوئی ہیں اور اس میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں میں پہچانتا ہوں۔ میں یہ منظر دیکھ کر دوزخ سے اللہ کی پناہ مانگنے لگا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہمیں ایک اور فرشتہ ملا جس نے مجھ سے کہا کہ ڈرو نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1121]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1122
فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: نِعْمَ، الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَكَانَ بَعْدُ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا".
‏‏‏‏ یہ خواب میں نے (اپنی بہن) حفصہ رضی اللہ عنہا کو سنایا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ تعبیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بہت خوب لڑکا ہے۔ کاش رات میں نماز پڑھا کرتا۔ (راوی نے کہا کہ آپ کے اس فرمان کے بعد) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات میں بہت کم سوتے تھے (زیادہ عبادت ہی کرتے رہتے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1122]
(حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ) میں نے یہ خواب (اپنی ہمشیرہ) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ اچھا آدمی ہے، کاش کہ وہ تہجد پڑھنے کا التزام کرے۔ اس کے بعد وہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1122]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1156
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" رَأَيْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّ بِيَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ فَكَأَنِّي لَا أُرِيدُ مَكَانًا مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ إِلَيْهِ، وَرَأَيْتُ كَأَنَّ اثْنَيْنِ أَتَيَانِي أَرَادَا أَنْ يَذْهَبَا بِي إِلَى النَّارِ، فَتَلَقَّاهُمَا مَلَكٌ , فَقَالَ: لَمْ تُرَعْ خَلِّيَا عَنْهُ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ خواب دیکھا کہ گویا ایک گاڑھے ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا میرے ہاتھ ہے۔ جیسے میں جنت میں جس جگہ کا بھی ارادہ کرتا ہوں تو یہ ادھر اڑا کے مجھ کو لے جاتا ہے اور میں نے دیکھا کہ جیسے دو فرشتے میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے دوزخ کی طرف لے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک فرشتہ ان سے آ کر ملا اور (مجھ سے) کہا کہ ڈرو نہیں (اور ان سے کہا کہ) اسے چھوڑ دو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1156]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک خواب میں دیکھا جیسے میرے ہاتھ میں دبیز ریشم کا ایک ٹکڑا ہے۔ میں جنت میں جہاں جانا چاہتا ہوں وہ مجھے اڑا کر لے جاتا ہے۔ اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ جیسے دو شخص میرے پاس آئے، انہوں نے دوزخ کی طرف مجھے لے جانے کا ارادہ کیا تو انہیں ایک فرشتہ ملا اور اس نے (مجھے) کہا: خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر اس نے دونوں کو کہا: تم اس سے الگ ہو جاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1156]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3738
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ شَابًّا أَعْزَبَ وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ كَقَرْنَيِ الْبِئْرِ , وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ , أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ، فَقَالَ لِي: لَنْ تُرَاعَ , فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ.
ہم سے محمد نے بیان کیا کہا، ہم سے اسحٰق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب موجود تھے تو جب بھی کوئی شخص کوئی خواب دیکھتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کرتا۔ میرے دل میں بھی یہ تمنا پیدا ہو گئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کروں۔ میں ان دنوں کنوارا تھا اور نوعمر بھی تھا۔ میں آپ کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتا تھا تو میں نے خواب میں دو فرشتوں کو دیکھا کہ مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ وہ بل دار کنویں کی طرح پیچ در پیچ تھی۔ کنویں ہی کی طرح اس کے بھی دو کنارے تھے اور اس کے اندر کچھ ایسے لوگ تھے جنہیں میں پہچانتا تھا۔ میں اسے دیکھتے ہی کہنے لگا دوزخ سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، دوزخ سے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس کے بعد مجھ سے ایک دوسرے فرشتے کی ملاقات ہوئی، اس نے مجھ سے کہا کہ خوف نہ کھا، میں نے اپنا یہ خواب حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 3738]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں جب کوئی شخص خواب دیکھتا تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا۔ میری خواہش تھی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کروں۔ میں ان دنوں غیر شادی شدہ اور نوخیز تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسجد نبوی کے اندر ہی سویا کرتا تھا، چنانچہ میں نے خواب میں دو فرشتوں کو دیکھا جو مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ وہ بل دار کنویں کی طرح پیچ در پیچ تھی اور کنویں ہی کی طرح اس کے دو کنارے بھی تھے۔ اس کے اندر کچھ ایسے لوگ تھے جنہیں میں پہچانتا تھا۔ میں اسے دیکھتے ہی کہنے لگا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» میں دوزخ سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» میں جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس کے بعد مجھے ایک دوسرا فرشتہ ملا، اس نے مجھ سے کہا: «لَنْ تُرَاعَ» کسی قسم کی فکر نہ کرو۔ میں نے اپنا یہ خواب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 3738]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3739
فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ"، قَالَ سَالِمٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا.
‏‏‏‏ حفصہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا خواب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ کاش! رات میں وہ تہجد کی نماز پڑھا کرتا۔ سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ اس کے بعد رات میں بہت کم سویا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 3739]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے میرا یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: عبد اللہ اچھا آدمی ہے، کاش! وہ رات کو تہجد کی نماز پڑھا کرتا۔ حضرت سالم بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 3739]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3740
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أُخْتِهِ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا:" إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہوں نے اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ عبداللہ نیک آدمی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 3740]
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنی ہمشیرہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبد اللہ ایک نیک آدمی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 3740]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3741
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أُخْتِهِ حَفْصَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا:" إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہوں نے اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ عبداللہ نیک آدمی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 3741]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنی ہمشیرہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ ایک نیک آدمی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 3741]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7015
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدِي سَرَقَةً مِنْ حَرِيرٍ لَا أَهْوِي بِهَا إِلَى مَكَانٍ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرے ہاتھ میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور میں جنت میں جس جگہ جانا چاہتا ہوں وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے۔ میں نے اس کا ذکر حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7015]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک ریشم کا ٹکڑا ہے اور میں جنت کے جس مقام کی خواہش کرتا ہوں وہ مجھے اس طرف اڑا لے جاتا ہے۔ میں نے یہ خواب اپنی بہن حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7015]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7016
فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَخَاكِ رَجُلٌ صَالِحٌ، أَوْ قَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ".
‏‏‏‏ اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خواب کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا بھائی مرد نیک یا فرمایا کہ عبداللہ نیک آدمی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7016]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تمہارے بھائی نیک سیرت آدمی ہیں۔ یا فرمایا: عبداللہ نیک آدمی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7016]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7028
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ:" إِنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَرَوْنَ الرُّؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُصُّونَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ، وَأَنَا غُلَامٌ حَدِيثُ السِّنِّ وَبَيْتِي الْمَسْجِدُ قَبْلَ أَنْ أَنْكِحَ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: لَوْ كَانَ فِيكَ خَيْرٌ لَرَأَيْتَ مِثْلَ مَا يَرَى هَؤُلَاءِ، فَلَمَّا اضْطَجَعْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ فِيَّ خَيْرًا فَأَرِنِي رُؤْيَا، فَبَيْنَمَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَنِي مَلَكَانِ فِي يَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ يُقْبِلَانِ بِي إِلَى جَهَنَّمَ وَأَنَا بَيْنَهُمَا أَدْعُو اللَّهَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَهَنَّمَ، ثُمَّ أُرَانِي لَقِيَنِي مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: لَنْ تُرَاعَ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ لَوْ كُنْتَ تُكْثِرُ الصَّلَاةَ، فَانْطَلَقُوا بِي حَتَّى وَقَفُوا بِي عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ لَهُ قُرُونٌ كَقَرْنِ الْبِئْرِ بَيْنَ كُلِّ قَرْنَيْنِ مَلَكٌ بِيَدِهِ مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ وَأَرَى فِيهَا رِجَالًا مُعَلَّقِينَ بِالسَّلَاسِلِ رُءُوسُهُمْ أَسْفَلَهُمْ عَرَفْتُ فِيهَا رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ، فَانْصَرَفُوا بِي عَنْ ذَاتِ الْيَمِينِ،
مجھ سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں خواب دیکھتے تھے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر دیتے جیسا کہ اللہ چاہتا۔ میں اس وقت نوعمر تھا اور میرا گھر مسجد تھی یہ میری شادی سے پہلے کی بات ہے۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر تجھ میں کوئی خیر ہوتی تو تو بھی ان لوگوں کی طرح خواب دیکھتا۔ چنانچہ جب میں ایک رات لیٹا تو میں نے کہا: اے اللہ! اگر تو میرے اندر کوئی خیر و بھلائی جانتا ہے تو مجھے کوئی خواب دکھا۔ میں اسی حال میں (سو گیا اور میں نے دیکھا کہ) میرے پاس دو فرشتے آئے، ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں لوہے کا ہتھوڑا تھا اور وہ مجھے جہنم کی طرف لے چلے۔ میں ان دونوں فرشتوں کے درمیان میں تھا اور اللہ سے دعا کرتا جا رہا تھا کہ اے اللہ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر مجھے دکھایا گیا (خواب ہی میں) کہ مجھ سے ایک اور فرشتہ ملا جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا اور اس نے کہا ڈرو نہیں تم کتنے اچھے آدمی ہو اگر تم نماز زیادہ پڑھتے۔ چنانچہ وہ مجھے لے کر چلے اور جہنم کے کنارے پر لے جا کر مجھے کھڑا کر دیا تو جہنم ایک گول کنویں کی طرح تھی اور کنویں کے مٹکوں کی طرح اس کے بھی مٹکے تھے اور ہر دو مٹکوں کے درمیان ایک فرشتہ تھا۔ جس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ہتھوڑا تھا اور میں نے اس میں کچھ لوگ دیکھے جنہیں زنجیروں میں لٹکا دیا گیا تھا اور ان کے سر نیچے تھے۔ (اور پاؤں اوپر) ان میں سے بعض قریش کے لوگوں کو میں نے پہچانا بھی، پھر وہ مجھے دائیں طرف لے کر چلے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7028]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں کچھ صحابہ کرام خواب دیکھتے پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر فرماتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا۔ میں اس وقت نو عمر لڑکا تھا۔ نکاح کرنے سے پہلے میرا گھر مسجد ہی تھا۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر تجھ میں کوئی خیر ہوتی تو تجھے بھی ان لوگوں کی طرح خواب آتے، چنانچہ ایک دفعہ جب میں لیٹا تو دل میں کہا: اے اللہ! اگر تو مجھ میں کوئی بھلائی دیکھتا ہے تو مجھے کوئی خواب دکھا۔ سونے کے بعد اچانک میرے پاس دو فرشتے آئے، ان میں سے ہر ایک کے پاس لوہے کا ہتھوڑا تھا۔ وہ مجھے دوزخ کی طرف لے گئے اور میں ان کے درمیان اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا جا رہا تھا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» اے اللہ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ پھر مجھے یہ دکھایا گیا کہ مجھے ایک فرشتہ ملا، اس کے ہاتھ میں بھی لوہے کا ہتھوڑا تھا۔ اس نے مجھے تسلی دی کہ: گھبرانے کی ضرورت نہیں، تم اچھے آدمی ہو اگر تم زیادہ نماز پڑھنے کا اہتمام کرو۔ بہرحال وہ مجھے لے گئے اور دوزخ کے کنارے پر مجھے کھڑا کر دیا۔ میں دیکھتا ہوں کہ جہنم، کنویں کی طرح گول ہے، اس کی لکڑیاں ہیں جیسا کہ کنویں کے اوپر لکڑیاں گاڑی ہوتی ہیں۔ ہر دو لکڑیوں کے درمیان ایک فرشتہ تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا ہتھوڑا تھا۔ میں نے دوزخ میں ایسے لوگ دیکھے جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، ان کے سر نیچے تھے، میں نے اس میں قریش کے کچھ لوگ دیکھے جنہیں میں نے پہچان لیا، پھر وہ (فرشتے) مجھے دائیں جانب لے کر چلے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7028]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7029
فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ"، فَقَالَ نَافِعٌ: فَلَمْ يَزَلْ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ.
بعد میں، میں نے اس کا ذکر اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ (سن کر) فرمایا، عبداللہ مرد نیک ہے، (اگر رات کو تہجد پڑھتا ہوتا) نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جب سے یہ خواب دیکھا وہ نفل نماز بہت پڑھا کرتے تھے۔ مٹکے جن پر موٹھ کی لکڑیاں کھڑی کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7029]
میں نے اس خواب کا ذکر (اپنی ہمشیرہ ام المومنین) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ اچھا آدمی ہے (اگر وہ تہجد کا اہتمام کرے)۔ (راوی حدیث) حضرت نافع رحمہ اللہ نے کہا: اس خواب کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز (تہجد) کا بہت خیال کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7029]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7030
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ، وَكَانَ مَنْ رَأَى مَنَامًا قَصَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ لِي عِنْدكَ خَيْرٌ فَأَرِنِي مَنَامًا يُعَبِّرُهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنِمْتُ، فَرَأَيْتُ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَانْطَلَقَا بِي فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ، فَقَالَ لِي: لَنْ تُرَاعَ، إِنَّكَ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَانْطَلَقَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُ بَعْضَهُمْ، فَأَخَذَا بِي ذَاتَ الْيَمِينِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ.
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان غیر شادی شدہ تھا تو مسجد نبوی میں سوتا تھا اور جو شخص بھی خواب دیکھتا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کرتا۔ میں نے سوچا: اے اللہ! اگر تیرے نزدیک مجھ میں کوئی خیر ہے تو مجھے بھی کوئی خواب دکھا جس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تعبیر دیں۔ پھر میں سویا اور میں نے دو فرشتے دیکھے جو میرے پاس آئے اور مجھے لے چلے۔ پھر ان دونوں سے تیسرا فرشتہ بھی آ ملا اور اس نے مجھ سے کہا کہ ڈرو نہیں تم نیک آدمی ہو۔ پھر وہ دونوں فرشتے مجھے جہنم کی طرف لے گئے تو وہ کنویں کی طرح تہ بتہ تھی اور اس میں کچھ لوگ تھے جن میں سے بعض کو میں نے پہچانا بھی، پھر وہ دونوں فرشتے مجھے دائیں طرف لے چلے، جب صبح ہوئی تو میں نے اس تذکرہ اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7030]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کنوارہ نوجوان تھا۔ رات کو مسجد میں سوتا تھا۔ جو شخص بھی کوئی خواب دیکھتا وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا تھا۔ میں نے ایک دن اپنے دل میں کہا: اے اللہ! اگر تیرے ہاں میری کوئی بھلائی ہے تو مجھے بھی کوئی خواب دکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر کریں، چنانچہ میں سویا تو میں نے خواب میں دو فرشتے دیکھے جو میرے پاس آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے، ان دونوں میں سے ایک تیسرا فرشتہ بھی آ ملا اور اس نے مجھ سے کہا: مت گھبراؤ، تم نیک آدمی ہو، بہرحال وہ مجھے دوزخ کی طرف لے گئے۔ اس کی کنویں کی طرح منڈیر بنی ہوئی تھی۔ میں نے اس میں کچھ لوگوں کو دیکھا۔ ان میں سے بعض کو پہچانتا ہوں۔ پھر وہ دونوں فرشتے مجھے دائیں طرف لے گئے۔ جب صبح ہوئی تو میں نے اس خواب کا ذکر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7030]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7031
فَزَعَمَتْ حَفْصَةُ أَنَّهَا قَصَّتْهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ لَوْ كَانَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ.
‏‏‏‏ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خواب کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ نیک مرد ہے۔ کاش وہ رات میں نماز زیادہ پڑھا کرتا۔ زہری نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بعد وہ رات میں نفلی نماز زیادہ پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7031]
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: عبداللہ نیک آدمی ہے اگر وہ رات کو بکثرت نماز پڑھے۔ امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: (اس فرمانِ رسول) کے بعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رات میں نفل نماز زیادہ پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 7031]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں