صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب من جعل عتق الأمة صداقها:
باب: جس نے لونڈی کی آزادی کو اس کا مہر قرار دیا۔
حدیث نمبر: 5086
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَشُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی اور شعیب بن حبحاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5086]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا حق مہر قرار دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5086]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2310
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ لَكَ مِنْ نَفْسِي، فَقَالَ رَجُلٌ: زَوِّجْنِيهَا، قَالَ: قَدْ زَوَّجْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابوحازم نے، انہیں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے خود کو آپ کو بخش دیا۔ اس پر ایک صحابی نے کہا کہ آپ میرا ان سے نکاح کر دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس مہر کے ساتھ کیا جو تمہیں قرآن یاد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2310]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں خود کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔ ایک شخص بولا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس کا نکاح میرے ساتھ کر دیں۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے اس قرآن کے بدلے جو تجھے یاد ہے اس کا نکاح تجھ سے کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 2310]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4201
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" سَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ فَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا"، فَقَالَ ثَابِتٌ لِأَنَسٍ: مَا أَصْدَقَهَا؟ قَالَ:" أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا فَأَعْتَقَهَا".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیدیوں میں تھیں لیکن آپ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا تھا۔ ثابت رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مہر کیا دیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ خود انہیں کو ان کے مہر میں دیا تھا یعنی انہیں آزاد کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4201]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو قیدی بنا لیا، پھر انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا۔“ (راوی حدیث) ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیا حق مہر دیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”خود ان کی ذات ہی حق مہر تھا، یعنی انہیں آزاد کر دیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4201]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4212
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ بِطَرِيقِ خَيْبَرَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى أَعْرَسَ بِهَا، وَكَانَتْ فِيمَنْ ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ".
ہم سے اسماعیل بن ابواویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ‘ ان سے حمید طویل نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے لیے خیبر کے راستہ میں تین دن تک قیام فرمایا اور آخری دن ان سے خلوت فرمائی اور وہ بھی امہات المؤمنین میں شامل ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4212]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے راستے میں تین دن تک حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس قیام فرمایا حتی کہ ان کے ساتھ خلوت فرمائی۔ وہ ان عورتوں میں سے تھیں جن پر پردہ کیا گیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4212]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4213
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ , سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ وَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، وَمَا كَانَ فِيهَا إِلَّا أَنْ أَمَرَ بِلَالًا بِالْأَنْطَاعِ، فَبُسِطَتْ، فَأَلْقَى عَلَيْهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، قَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے حمید نے خبر دی اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان (مقام سد الصہباء میں) تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت کی تھی پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت دی۔ آپ کے ولیمہ میں نہ روٹی تھی ‘ نہ گوشت تھا صرف اتنا ہوا کہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھا دیا گیا۔ پھر اس پر کھجور ‘ پنیر اور گھی (کا ملیدہ) رکھ دیا۔ مسلمانوں نے کہا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المؤمنین میں سے ہیں یا باندی ہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردے میں رکھا تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہوں گی اور اگر آپ نے انہیں پردے میں نہیں رکھا تو پھر یہ اس کی علامت ہو گی کہ وہ باندی ہیں۔ آخر جب کوچ کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4213]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان تین شب قیام فرمایا، انہی راتوں میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے زفاف ہوا، میں نے مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کے لیے دعوت دی، اس ولیمے میں روٹی تھی نہ گوشت بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو صرف دسترخوان بچھانے کا حکم دیا، چنانچہ جب بچھا دیا گیا تو اس پر کھجوریں، پنیر اور گھی رکھا گیا، اب مسلمان کہنے لگے: ”حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المومنین میں سے ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز ہیں؟“ پھر خود ہی کہنے لگے: ”اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پردے میں رکھیں گے تو امہات المومنین سے ہیں، اگر پردے میں نہ رکھیں گے تو لونڈی ہیں۔“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ فرمایا تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے اپنے پیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی اور ان پر پردہ لٹکایا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4213]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5085
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ والْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، أُمِرَ بِالْأَنْطَاعِ، فَأَلْقَى فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، فَقَالَ: الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَقَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ، وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسمٰعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمیدی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن تک قیام کیا اور یہیں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ کی مسلمانوں کو دعوت دی۔ اس دعوت ولیمہ میں نہ تو روٹی تھی اور نہ گوشت تھا۔ دستر خوان بچھانے کا حکم ہوا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ بعض مسلمانوں نے پوچھا کہ صفیہ امہات المؤمنین میں سے ہیں (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا ہے) یا لونڈی کی حیثیت سے آپ نے ان کے ساتھ خلوت کی ہے؟ اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کا انتظام فرمائیں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر ان کے لیے پردہ کا اہتمام نہ کریں تو اس سے ثابت ہو گا کہ وہ لونڈی کی حیثیت سے آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر جب کوچ کرنے کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر بیٹھنے کے لیے جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ ڈالا تاکہ لوگوں کو وہ نظر نہ آئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5085]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینے کے درمیان تین دن تک قیام فرمایا اور اسی مقام پر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ پھر میں نے آپ کے ولیمے کے لیے مسلمانوں کو دعوت دی۔ اس دعوتِ ولیمہ میں نہ روٹی تھی اور نہ گوشت ہی تھا، تاہم دسترخوان بچھانے کا حکم دیا گیا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی ڈال دیا گیا۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ کچھ مسلمانوں نے کہا: ”حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المومنین میں سے ہیں یا آپ کی لونڈی؟“ اس پر کچھ دوسرے لوگوں نے کہا: ”اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے پردے کا اہتمام فرمایا تو ام المومنین ہیں اور اگر پردے کا حکم نہ دیا تو آپ کی باندی ہے۔“ بعد ازاں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے کوچ کیا تو ان کے لیے اپنی سواری پر اپنے پیچھے جگہ بنائی، نیز ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ ڈال دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5085]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5159
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ والْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَقَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے خبر دی، انہیں حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان (راستہ میں) تین دن تک قیام کیا اور وہاں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ میں نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ پر بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا۔ آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں (کہا کہ) امہات المؤمنین میں سے ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لونڈی ہی رکھا ہے (کیونکہ وہ بھی جنگ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں۔ اس پر بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کرائیں پھر تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ ان کے لیے پردہ نہ کرائیں تو پھر وہ لونڈی کی حیثیت سے ہیں۔ جب سفر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے جگہ بنائی اور لوگوں کے اور ان کے درمیان پردہ ڈلوایا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5159]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ اور خیبر کے درمیان تین دن تک قیام فرمایا۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت فرمائی۔ میں نے مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے میں بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسترخوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور، گھی اور پنیر رکھ دیا گیا۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کہا: ”یہ امہات المومنین میں سے ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لونڈی ہی رکھا ہے؟“ چنانچہ انہوں نے (فیصلہ کرتے ہوئے) کہا: ”اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پردے میں رکھا تو امہات المومنین میں سے ہیں اور اگر پردے میں نہ رکھا تو وہ آپ کی باندی ہیں۔“ جب سفر کا آغاز ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری کے پیچھے جگہ بنائی اور ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ ڈال دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5159]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5169
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، وَأَوْلَمَ عَلَيْهَا بِحَيْسٍ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے شعیب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور ان کا ولیمہ ملیدہ سے کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5169]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا، پھر ان سے نکاح کر لیا اور ان کا آزاد کرنا ہی حق مہر قرار پایا، پھر آپ نے ان کا ولیمہ ملیدہ سے کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5169]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5387
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا، يَقُولُ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِي بِصَفِيَّةَ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ، فَأُلْقِيَ عَلَيْهَا التَّمْرُ وَالْأَقِطُ وَالسَّمْنُ"، وَقَالَ عَمْرٌو: عَنْ أَنَسٍ،" بَنَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ".
ہم سے سعید بن مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا مجھ کو حمید نے خبر دی اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ راستے میں قیام کیا اور میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمہ کی دعوت میں بلایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھایا گیا، پھر آپ نے اس پر کھجور، پنیر اور گھی ڈال دیا اور عمرو بن ابی عمرو نے کہا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ صحبت کی، پھر ایک چمڑے کے دستر خوان پر (کھجور، گھی، پنیر ملا کر بنا ہوا) حلوہ رکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5387]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے (نکاح کے بعد ان کے) ہمراہ راستے میں قیام فرمایا۔ میں نے آپ کے ولیمے کے لیے مسلمانوں کو مدعو کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا تو فوراً تعمیل کی گئی۔ پھر اس پر کھجور، پنیر اور گھی ڈال دیا گیا“۔ ایک دوسری روایت میں ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ زفاف کے بعد ایک قسم کا حلوہ تیار کیا جو چمڑے کے ایک دسترخوان پر چن دیا گیا“۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5387]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة